Bharat Express

Israel

رائٹرز کے مطابق پینٹاگون نے کہا، "لائبیریا کے جھنڈے والا، جاپان کی ملکیت اور نیدرلینڈز سے چلنے والا کیم پلوٹو مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بجے (جی ایم ٹی کے 6 بجے) ایران کے یکطرفہ حملے کے بعد بحر ہند میں پھنس گیا۔"

غزہ میں 18 ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔ اس میں بیشترخواتین اوربچے شامل ہیں۔ اس درمیان حماس سربراہ اسمٰعیل ہانیہ نے کہا کہ اسرائیلی حملے کو روکنے کے لئے ہم کسی بھی تبادلہ خیال اور پہل کرنے کے لئے تیار ہیں۔

مسک نے سیکورٹی کا حوالہ دے کر غزہ جانے سے انکار کر دیا ہے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ یہود مخالف پوسٹس کی حمایت کرنے پر تنقید کا سامنا کرنے والے مسک نے اسرائیل پہنچنے پر کہا تھا کہ نفرت پھیلانے کو روکنے کے لیے جو بھی ضروری ہوگا وہ کیا جائے گا۔

العریان نے کہا کہ، "7 اکتوبر سے پہلے، کسی نے ان فلسطینیوں کے بارے میں کوئی بات نہیں کی، جو اسرائیل کے ظلم کا شکار ہیں اور ان کی آزادی سے انکاری ہیں۔"

اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے یرغمالیوں کے معاہدے کی حمایت کا اظہار کیا۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ اسرائیل کی جنگی کابینہ میں شامل حکام نے 6 گھنٹے طویل اجلاس کیا جس کے بعد قطر، مصر اور امریکہ کی بین الاقوامی کوششوں سے طے پانے والے معاہدے کی منظوری دی گئی۔

چینل 12 کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مغویوں کی رہائی جمعرات یا جمعہ کو شروع ہو سکتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی 50 یرغمالیوں کے بعد مزید یرغمالیوں کی رہائی کے لیے جنگ بندی میں توسیع کی جا سکتی ہے۔

اسرائیلی فوج یہ کہہ رہی ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں حماس کو نشانہ بنا رہی ہے لیکن اس کے ان حملوں میں حماس کے جنگجوؤں سے زیادہ فلسطینی شہری مارے جا رہے ہیں۔

غزہ میں حماس کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیل کے جوابی فضائی حملوں اور زمینی حملوں میں 5 ہزار بچوں سمیت غزہ کے 12 ہزار افراد مارے گئے ہیں۔ اب امریکی صدر نے قطر کے رہنما کے ساتھ اپنی گفتگو میں مغویوں کی فوری رہائی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

اسرائیل کی دفاعی افواج نے ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے "غزہ کے متعلقہ حکام کو ایک بار پھر آگاہ کیا ہے کہ ہسپتال کے اندر تمام فوجی سرگرمیاں 12 گھنٹوں کے اندر بند ہونی چاہئے۔ بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے امریکی میڈیا کو بتایا کہ غزہ میں حماس کے زیر حراست یرغمالیوں کی رہائی کے لیے معاہدہ کیا جا سکتا ہے، تاہم انہوں نے منصوبے کی ممکنہ ناکامی کے خوف سے تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔