Bharat Express DD Free Dish

Israel

اسرائیل کے ساتھ قزاقستان کے ہمیشہ سے اچھے تعلقات رہے ہیں۔ قزاقستان میں 70 فیصد آبادی مسلمانوں کی ہے، اس کے باوجود اسرائیل کے ساتھ اس کے تعلقات خوشگوار رہے۔ ابراہم معاہدے میں شامل ہونے سے دونوں ممالک کے درمیان دوستی مزید مضبوط ہوگی۔

 آچاریہ لوکیش یوکرین، روس، اسرائیل اور فلسطین کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ اسلام، عیسائیت، بدھ مت، یہودیت، ہندو مت، تاؤ مت اور زرتشت مت کے مذہبی رہنماؤں سے ملاقات کریں گے اور جنگوں کے خاتمے پر تبادلہ خیال کریں گے۔ آچاریہ لوکیش’’ڈیجیٹل ریئلٹی اور مصنوعی ذہانت کے دور میں روحانی اقدار‘‘ کے موضوع پر بھی خطاب کریں گے۔

10 ستمبر کو وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے ایک بریفنگ میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ نے اسرائیل کے حملے سے قبل قطر کو پیشگی اطلاع دی تھی۔

واضح رہے کہ یروشلم کے راموت جنکشن پر ہونے والے حملے میں حملہ آوروں نے ایک بس میں سوار ہو کر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں پانچ افراد جاں بحق اور 12 زخمی ہوئے۔

مسجد الاقصیٰ کیمپس کے اندراسرائیل کے ذریعہ غیرقانونی طور پر کھدائی کرنے پر فلسطین اتھارٹی سمیت بین الاقوامی اداروں نے مذمت کی ہے۔ اسلامی، تعلیمی اور ثقافتی تنظیم نے مسجد الاقصیٰ احاطے کے اندر کھدائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ 1954 کے ہیگ کنونشن اور چوتھے جنیوا کنونشن کی صریح خلاف ورزی ہے۔

ایرانی صدرمسعود پیزشکیان نے کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، لیکن حملہ ہوا توجواب دیں گے۔ ایران نے فوجی تیاریاں تیزکردی ہیں اور اپنے جوہری پروگرام کوآگے بڑھا رہا ہے۔ کشیدگی کے باعث جنگ کا امکان بڑھ گیا ہے۔

آسٹریلیا کی حکومت نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ غیر قانونی یہودی بستیوں کی تیز توسیع، مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے الحاق کی دھمکیوں اور کھلے عام فلسطینی ریاست کی مخالفت کے ذریعے دو ریاستی حل کے امکان کو مٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔

دریں اثنا نیتن یاہو نے اس منصوبے پر عالمی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہم غزہ پر قبضہ کرنے نہیں جا رہے، ہم اسے حماس سے آزاد کروائیں گے۔‘‘

ہولوکاسٹ کے بعد جرمنی نے اسرائیل کے ساتھ خصوصی تعلقات استوار کیے اور دفاعی شعبے میں تعاون بھی اس تعلق کا اہم حصہ رہا ہے۔ ایسے میں یہ فیصلہ ایک بڑی پالیسی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں پچھلے کچھ سالوں سے جنگ چھڑی ہوئی ہے۔ پیر سے ہی اسرائیل نے شامی فوج کو نشانہ بنانا شروع کر دیا تھا۔ جنوبی شام کے شہر سویدہ میں مقامی سیکورٹی فورسز اور دروز کمیونٹی کے جنگجوؤں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں جس کے بعد اسرائیل نے شامی فورسز کو نشانہ بنانا شروع کردیا۔ اس جھڑپ میں اب تک سینکڑوں افراد مارے جا چکے ہیں۔