Urdu Conclave 2026

Qatar PM to Meet US Officials: اسرائیل حملے کے بعد قطر کے وزیراعظم امریکی حکام سے کریں گے ملاقات، اسی ہفتے جائیں گے واشنگٹن

10 ستمبر کو وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے ایک بریفنگ میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ نے اسرائیل کے حملے سے قبل قطر کو پیشگی اطلاع دی تھی۔

قطر کے وزیراعظم محمد بن عبدالرحمن بن جاسم اعلیٰ امریکی حکام سے ملاقات کے لیے رواں ہفتے واشنگٹن روانہ ہوں گے۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں طے ہوئی ہے جب اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان نے قطر پر اسرائیل کے حالیہ حملے کی شدید مذمت کی ہے، جس میں دوحہ میں مقیم حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی فضائی حملے کے بعد حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ ’’مزاحمت جاری رکھے گی‘‘ اور اس کے بنیادی مطالبات، جن میں غزہ سے مکمل اسرائیلی انخلا اور علاقے کی تعمیر نو شامل ہیں، ’’اب بھی اپنی جگہ قائم ہیں‘‘۔

اس پیش رفت کے دوران 10 ستمبر کو وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے ایک بریفنگ میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ نے اسرائیل کے حملے سے قبل قطر کو پیشگی اطلاع دی تھی۔ تاہم قطر نے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ حملے کے آغاز کے بعد ایک امریکی اہلکار کی کال موصول ہوئی۔ قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اور وزیراعظم کے مشیر ماجد الانصاری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر لکھا کہ ’’جو دعوے کیے جا رہے ہیں کہ قطر کو حملے سے پہلے اطلاع دی گئی، وہ سراسر غلط ہیں۔ امریکی اہلکار کی کال اس وقت آئی جب دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔‘‘

دریں اثنا سی این این کے مطابق اسرائیل نے دوحہ کے ایک رہائشی علاقے میں حماس کے اعلیٰ رہنماؤں کو نشانہ بناتے ہوئے فضائی حملہ کیا، جس میں پانچ ارکان ہلاک ہوئے، تاہم مذاکراتی وفد محفوظ رہا۔ ایک پریس کانفرنس میں قطر کے وزیراعظم نے اسرائیل کو ’’خطے کا بدمعاش ملک‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ’’یہ حملہ دراصل ریاستی دہشت گردی ہے اور یہ پورے خطے کے لیے ایک واضح پیغام ہے۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کی کال حملے کے 10 منٹ بعد موصول ہوئی اور الزام عائد کیا کہ اسرائیل نے ریڈار سے بچنے والے ہتھیار استعمال کیے۔ اسرائیلی حکام نے بعد میں تصدیق کی کہ اس کارروائی میں امریکی ساختہ F-35I اسٹیلتھ طیارے استعمال کیے گئے، جو ریڈار پر نظر نہیں آتے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read