آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک ستمبر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے موقع پر فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرے گا۔ آسٹریلیائی حکومت کے مطابق یہ اقدام مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن، دو ریاستی حل، غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کی بین الاقوامی کوششوں کو تقویت دینے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔ وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں تاریخی پس منظر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ آسٹریلیا نے 1947 سے اسرائیل کے وجود کی حمایت کی ہے۔ آسٹریلیا کے اس وقت کے وزیر خارجہ ایواٹ نے اقوامِ متحدہ کی اُس کمیٹی کی صدارت کی تھی، جس نے اسرائیل اور فلسطین کے لیے دو ریاستوں کی تشکیل کی سفارش کی تھی۔ آسٹریلیا اقوامِ متحدہ میں قرارداد 181 کی حمایت کرنے والا پہلا ملک بھی تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور فلسطین دونوں ریاستوں کا قیام تھا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’77 برس سے زائد عرصہ گزر چکا ہے اور دنیا اب مزید انتظار نہیں کر سکتی کہ یہ قرارداد صرف فریقین کے درمیان مذاکرات سے ہی نافذ ہوں۔ آسٹریلیا کا یہ فیصلہ عالمی سطح پر دو ریاستی حل کے لیے تاریخی رفتار کو مزید مستحکم کرنے کی ایک کوشش ہے۔‘‘ آسٹریلیا کی حکومت نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ غیر قانونی یہودی بستیوں کی تیز توسیع، مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے الحاق کی دھمکیوں اور کھلے عام فلسطینی ریاست کی مخالفت کے ذریعے دو ریاستی حل کے امکان کو مٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔
بیان میں فلسطینی اتھارٹی کے حالیہ اقدامات کا خیرمقدم کیا گیا، جن میں حکومتی اصلاحات، قیدیوں کی مالی امداد پر نظر ثانی، نصابِ تعلیم میں تبدیلی، عدم عسکریت پسندی اور عام انتخابات کرانے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی نے آسٹریلیا کی حکومت کو باضابطہ طور پر اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔ آسٹریلیا کے وزیراعظم البانیز نے واضح کیا کہ آسٹریلیا کا یہ فیصلہ ان ہی یقین دہانیوں کی بنیاد پر کیا گیا ہے اور ملک بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر فلسطینی اتھارٹی کو اس کی ذمہ داریوں کا پابند رکھنے اور اسرائیل و ہمسایہ ممالک کے درمیان معمول کے تعلقات کی حوصلہ افزائی جاری رکھے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
