Bharat Express DD Free Dish

Free Palestine

ایرانی چیف جسٹس نے کہا کہ غزہ میں بڑی تعداد میں لوگوں کی ہلاکت کے علاوہ اس سے کئی گنا زیادہ افراد زخمی ہوئے اور لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ’’دہشت گرد اسرائیل نے غزہ میں 70,000 سے زائد خواتین اور بچوں کا قتل عام کیا، لاکھوں لوگوں کو زبردستی بے گھر کیا اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد سے کئی گنا زیادہ افراد کو زخمی کیا۔‘‘

اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ہفتہ وار کابینہ اجلاس میں حماس کو غیر مسلح کرنے اور کسی بھی قیمت پر آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کرنے  کے اپنے مذموم ارادےکو دہرایا۔

دو ریاستی حل کو عملی جامہ پہنانے کی کوششیں سخت رکاوٹوں کا شکار ہیں، جن میں سب سے بڑی رکاوٹ خود امریکہ اور اسرائیل کی مخالفت ہے۔ امریکہ نے فلسطینی قیادت کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت سے بھی روک رکھا ہے۔

اسرائیل گزشتہ 23 ماہ سے غزہ پر فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ جنگ سے متعلق ہولناک مناظر اور ویڈیوز عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنے ہیں، جس کے بعد اسرائیل بین الاقوامی سطح پر تنہائی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔

اسرائیل کے وحشیانہ اورجارحانہ اقدامات کی مذمت کے لیے دہلی کے جنتر منتر پرایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے میں شریک افراد نے غزہ کی بگڑتی ہوئی صورت حال پرگہری تشویش کا اظہارکیا اورخبردارکیا کہ غزہ پراسرائیلی فوجی یا سیاسی کنٹرول قائم کرنے کی کوئی بھی کوشش محصورعلاقے میں جاری انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دے گی۔ اس احتجاج میں بڑی تعداد میں عام شہریوں، طلباء، سماجی، مذہبی، سیاسی رہنماؤں اورمعروف سول سوسائٹی کے کارکنوں سمیت دہلی واطراف کی ریاستوں سے سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔

آسٹریلیا کی حکومت نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ غیر قانونی یہودی بستیوں کی تیز توسیع، مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے الحاق کی دھمکیوں اور کھلے عام فلسطینی ریاست کی مخالفت کے ذریعے دو ریاستی حل کے امکان کو مٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔

مظاہرے کے منتظم گروپ ڈیفنڈ آور جیوریز نے دعویٰ کیا کہ پارلیمنٹ اسکوائر میں 700 تک افراد موجود تھے، اور پولیس نے "اپنی تاریخ کی سب سے بڑی اجتماعی گرفتاری" کی تیاری کی تھی۔ گرفتار ہونے والوں میں سابق گوانتانامو بے قیدی معظم بیگ، این ایچ ایس کارکن، کوئیکرز، اور ایک نابینا وہیل چیئر یوزر شامل ہیں۔

جرمن-اسرائیلی سوسائٹی نے مرٹز کے اقدام کی مذمت کی اور خبردار کیا کہ اگر اسرائیل نے اسلحہ کی ترسیل میں جوابی کارروائی کی تو جرمنی کی فضائی دفاع کی مستقبل کی صلاحیت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ مرٹز نے اسرائیل سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ مغربی کنارے کے الحاق کی طرف مزید اقدامات سے گریز کرے۔

غزہ کے بچوں پر اسرائیلی جنگ کے نفسیاتی اثرات بھی گہرے ہیں۔ دس سالہ لانا کی بالوں اور جلد کی رنگت ایک رات میں سفید ہو گئی جب اس کے پناہ گاہ کے قریب بمباری ہوئی، جس سے صدمے کی وجہ سے رنگت کا خاتمہ ہوا۔

دونوں وفود نے اپنی ملاقاتوں میں غزہ میں جاری انسانی المیے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی جارحیت کی مذمت کریں اور فلسطینیوں کے لیے فوری امداد فراہم کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری کو فلسطین کے عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہیے۔