Bharat Express DD Free Dish

Britain Palestine Recognition: غزہ جنگ کے دوران اسرائیل کو بڑا سفارتی جھٹکا لگ سکتا ہے، برطانیہ آج فلسطین کو دے سکتا ہے ریاست کا درجہ 

اسرائیل گزشتہ 23 ماہ سے غزہ پر فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ جنگ سے متعلق ہولناک مناظر اور ویڈیوز عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنے ہیں، جس کے بعد اسرائیل بین الاقوامی سطح پر تنہائی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔

لندن – غزہ میں جاری جنگ کے دوران اسرائیل کو ایک بڑا سفارتی دھچکا لگ سکتا ہے، کیونکہ امکان ہے کہ برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر (Keir Starmer) آج اتوار کو فلسطین کو باقاعدہ طور پر ایک آزاد ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کریں گے۔یہ فیصلہ برطانیہ کی خارجہ پالیسی میں ایک تاریخی اور اہم تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ جولائی میں اسٹارمر نے اسرائیل کو واضح طور پر خبردار کیا تھا کہ اگر اس نے غزہ میں جنگ بندی اور دو ریاستی حل کی حمایت نہیں کی، تو برطانیہ اپنے مؤقف پر نظرِ ثانی کرے گا۔ ایسے میں 57 مسلم  ممالک کی غیرت جاگتی ہے یا نہیں خدا ہی جانے،
اسرائیلی حکومت اور عوام کی سخت تنقید
برطانوی وزیرِاعظم کے اس ممکنہ اقدام پر اسرائیلی حکومت، یرغمال بنائے گئے افراد کے اہل خانہ اور اسرائیلی قدامت پسند سیاست دانوں نے شدید ناراضی کا اظہار کیا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس اقدام پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ “فلسطین کو ریاست تسلیم کرنا دہشت گردی کو انعام دینے کے مترادف ہو گا۔”
امریکہ بھی برطانیہ کے اقدام سے ناخوش
اس معاملے پر امریکہ نے بھی برطانیہ کے رویے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے خبردار کیا ہے کہ اگر برطانیہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں فلسطین کو تسلیم کرتا ہے، تو اسے امریکی جوابی کارروائی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
23 ماہ سے جاری غزہ جنگ، عالمی برادری پریشان
اسرائیل گزشتہ 23 ماہ سے غزہ پر فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ جنگ سے متعلق ہولناک مناظر اور ویڈیوز عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنے ہیں، جس کے بعد اسرائیل بین الاقوامی سطح پر تنہائی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ فرانس کے بعد اب برطانیہ بھی فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔
برطانیہ کے سخت اقدامات، اسرائیلی وزرا پر پابندیاں
جون میں برطانیہ نے اسرائیل کے دو وزراء پر پابندیاں عائد کی تھیں اور اسرائیل کے ساتھ تجارتی مذاکرات کو بھی معطل کر دیا تھا۔ اسی کے ساتھ، برطانیہ نے گزشتہ ماہ لندن میں ہونے والے اسلحہ میلے میں اسرائیلی کمپنیوں کی شرکت پر بھی پابندی لگا دی تھی۔
اگر آج برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر فلسطین کو باقاعدہ ریاست کا درجہ دے دیتے ہیں، تو یہ برطانوی خارجہ پالیسی میں ایک انقلابی موڑ تصور کیا جائے گا، جو مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read