Urdu Conclave 2026

Major reshuffle in PM cabinet: وزیراعظم مودی کی کابینہ میں جلد ہوسکتی ہے بڑی ردوبدل، 12 خالی عہدوں پر نئے چہروں کو مل سکتا ہے موقع

بی جے پی کی نئی قومی ٹیم کی تشکیل کے بعد مرکزی وزارتی کونسل میں ممکنہ تبدیلیوں کی قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں۔ نوجوانوں، خواتین اور اتحادی جماعتوں کو نمائندگی دینے پر غور کیے جانے کا امکان ہے۔ مودی حکومت کی تیسری مدت میں اتحادی جماعتوں کا کردار پہلے کے مقابلے میں زیادہ اہم ہے۔ اس لیے وزارتی کونسل میں کسی بھی ردوبدل کے دوران این ڈی اے کی اتحادی جماعتوں کے ساتھ سیاسی توازن قائم رکھنا بھی ضروری ہوگا۔

بی جے پی کی نئی قومی ٹیم کی تشکیل کے بعد اب سیاسی حلقوں میں اگلی بڑی بحث مرکزی وزارتی کونسل میں ممکنہ ردوبدل کو لے کر شروع ہو گئی ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ مودی حکومت آنے والے دنوں میں اپنی ٹیم میں کچھ نئے چہروں کو شامل کر سکتی ہے۔ خاص طور پر نوجوان رہنماؤں، خواتین اور اتحادی جماعتوں کو نمائندگی دینے پر زور دیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان وزرا کی ذمہ داریوں میں بھی تبدیلی ممکن ہے، جن کے پاس ایک سے زیادہ اہم وزارتیں ہیں۔ موجودہ وقت میں وزیراعظم نریندر مودی سمیت مرکزی وزارتی کونسل میں 69 ارکان ہیں۔ آئین کے مطابق وزارتی کونسل میں زیادہ سے زیادہ 81 ارکان ہو سکتے ہیں۔ اس حساب سے اس وقت 12 عہدے خالی ہیں، جنہیں حکومت ضرورت اور سیاسی مساوات کے مطابق پُر کر سکتی ہے۔ تاہم یہ ضروری نہیں کہ یہ ردوبدل صرف آئندہ انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے۔ حکومت کے سامنے انتظامی امور کو بہتر انداز میں تقسیم کرنے کا چیلنج بھی ہے۔ امت شاہ وزارت داخلہ کے ساتھ وزارتِ تعاون بھی سنبھال رہے ہیں۔ جے پی نڈا صحت کے علاوہ کیمیکل اور فرٹیلائزر وزارت کی ذمہ داری بھی نبھا رہے ہیں۔ اسی طرح شیوراج سنگھ چوہان کے پاس زراعت اور دیہی ترقی جیسی اہم وزارتیں ہیں، جبکہ اشونی ویشنو ریلوے، اطلاعات و نشریات اور الیکٹرانکس و آئی ٹی جیسی اہم وزارتوں کی ذمہ داریاں سنبھال رہے ہیں۔ ایسے میں کچھ ذمہ داریاں دوسرے رہنماؤں کو سونپ کر سینئر وزرا کا بوجھ کم کیا جاسکتا ہے۔

تنظیم میں نئی ذمہ داری پانے والے رہنما بھی زیرغور

بی جے پی میں عام طور پر ایک شخص کو ایک ہی اہم ذمہ داری دینے کی روایت رہی ہے۔ حالیہ تنظیمی تبدیلیوں نے بھی مرکزی وزارتی کونسل میں ممکنہ ردوبدل کی بحث کو تقویت دی ہے۔ ریاستی وزیر ہرش ملہوترا اور پنکج چودھری کو بالترتیب دہلی اور اتر پردیش بی جے پی کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ ایسے میں حکومت میں ان کے کردار کو لے کر بھی مستقبل میں تبدیلی کے امکانات پر نظر ہے۔ پیوش گوئل کو پارٹی تنظیم میں خزانچی کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ فی الحال ان کی وزارتی ذمہ داری برقرار رہ سکتی ہے۔

راجیہ سبھا کی مدت بھی بن سکتی ہے ایک وجہ

کچھ وزرا کی راجیہ سبھا کی مدت ختم ہونا بھی کابینہ میں ردوبدل کی ایک وجہ بن سکتا ہے۔ پٹرولیم وزیر ہردیپ سنگھ پوری اور سماجی انصاف کے وزیر مملکت بی ایل ورما کی موجودہ مدت نومبر میں ختم ہونے والی ہے۔ اس کے بعد سیاسی منظرنامے میں کچھ تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔ حکومت میں کون برقرار رہے گا اور کس کو نئی ذمہ داری دی جائے گی، اس میں صرف سیاسی مساوات ہی نہیں بلکہ عمر اور کارکردگی بھی اہم عوامل ہو سکتے ہیں۔ 2024 میں مودی حکومت کی تیسری مدت کے آغاز کے وقت وزارتی کونسل میں 51 سے 70 سال کی عمر کے رہنماؤں کی تعداد نمایاں تھی۔ اب حکومت میں 70 سال سے زیادہ عمر کے کئی وزرا بھی موجود ہیں۔ ہندوستانی عوام مورچہ کے رہنما جیتن رام مانجھی 81 سال کی عمر میں وزارتی کونسل کے معمر ترین چہروں میں شامل ہیں۔ دوسری جانب تلگو دیشم پارٹی کے 38 سالہ کے رام موہن نائیڈو حکومت کے کم عمر ترین وزرا میں شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئندہ ردوبدل میں نوجوانوں کے ساتھ خواتین کی تعداد بڑھانے پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔

کئی ریاستوں سے نئے چہروں کو موقع ملنے کی قیاس آرائیاں

ممکنہ ردوبدل میں ریاستوں کی نمائندگی بھی اہم ہو سکتی ہے۔ اتر پردیش اور گجرات کے ساتھ مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، راجستھان، ہماچل پردیش اور کرناٹک سے نئے چہروں کو موقع دینے کی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔ اتر پردیش میں اگلے سال اسمبلی انتخابات ہونے ہیں، جبکہ گجرات میں بھی انتخابی تیاریوں کا دور شروع ہونے والا ہے۔ ایسے میں ان ریاستوں کو مرکزی وزارتی کونسل میں اضافی نمائندگی ملنے کے امکانات کو سیاسی نقطۂ نظر سے بھی دیکھا جا رہا ہے۔

مہاراشٹر سے شری کانت شندے کا نام زیربحث

مہاراشٹر میں ایکناتھ شندے کی شیو سینا کے پاس اب 13 ارکان پارلیمنٹ ہیں۔ ان کے بیٹے شری کانت شندے کا نام بھی ممکنہ مرکزی وزیر کے طور پر زیرِ بحث بتایا جا رہا ہے۔ پنجاب میں عام آدمی پارٹی سے بی جے پی میں شامل ہونے والے راجیہ سبھا ارکان کا گروپ بھی سیاسی اعتبار سے اہم سمجھا جا رہا ہے۔ راگھو چڈھا کی قیادت والے اس گروپ کے سات ارکان کے بی جے پی میں آنے کے بعد پارٹی ریاست میں اپنا سیاسی دائرہ مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان میں سندیپ پاٹھک کو تنظیم میں سکریٹری کی ذمہ داری پہلے ہی دی جا چکی ہے۔ ایسے میں پنجاب سے مرکزی نمائندگی کو لے کر بھی قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ مغربی بنگال میں بھی ترنمول کانگریس سے الگ ہو کر این ڈی اے کی حمایت میں آنے والے ارکان پارلیمنٹ میں سے کسی کو حکومت میں جگہ ملنے کے امکانات پر گفتگو ہو رہی ہے۔ ریاست کی سیاسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے بی جے پی کے لیے یہ قدم حکمت عملی کے اعتبار سے اہم ہو سکتا ہے۔ مودی حکومت کی تیسری مدت میں اتحادی جماعتوں کا کردار پہلے کے مقابلے میں زیادہ اہم ہے۔ اس لیے وزارتی کونسل میں کسی بھی ردوبدل کے دوران این ڈی اے کی اتحادی جماعتوں کے ساتھ سیاسی توازن قائم رکھنا بھی ضروری ہوگا۔ تمل ناڈو میں ڈی ایم کے اور کانگریس کے درمیان جاری سیاسی کشمکش کے پس منظر میں ڈی ایم کے کے این ڈی اے کے قریب آنے کی قیاس آرائیاں بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ مہاراشٹر میں این سی پی کو لے کر بھی مختلف طرح کی سیاسی چہ میگوئیاں جاری ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read