Bharat Express DD Free Dish

Cabinet Expansion

بی جے پی کی نئی قومی ٹیم کی تشکیل کے بعد مرکزی وزارتی کونسل میں ممکنہ تبدیلیوں کی قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں۔ نوجوانوں، خواتین اور اتحادی جماعتوں کو نمائندگی دینے پر غور کیے جانے کا امکان ہے۔ مودی حکومت کی تیسری مدت میں اتحادی جماعتوں کا کردار پہلے کے مقابلے میں زیادہ اہم ہے۔ اس لیے وزارتی کونسل میں کسی بھی ردوبدل کے دوران این ڈی اے کی اتحادی جماعتوں کے ساتھ سیاسی توازن قائم رکھنا بھی ضروری ہوگا۔

مرکزی حکومت میں ممکنہ کابینہ رد و بدل کے تحت نتن گڈکری، نرملا سیتھا رمن، ہردیپ سنگھ پوری اور منوہر لال کھٹر سمیت کئی وزراء کے محکمے تبدیل کیے جا سکتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق نرملا سیتھا رمن کی جگہ سابق آر بی آئی گورنر شکتی کانت داس کو موقع مل سکتا ہے۔ اسی طرح عام آدمی پارٹی چھوڑ کر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شامل ہونے والے راگھو چڈھا کو بھی مرکزی کابینہ میں اہم وزارت دیے جانے کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔

برج بھوشن شرن سنگھ نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ایک شعر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا، ”شہرت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشا ہے، جس ڈال پہ بیٹھے ہو وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے“۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ پیغام محض ادبی اظہار نہیں بلکہ پارٹی قیادت کے لیے ایک اشارہ سمجھا جارہا ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب کابینہ توسیع کے دوران ان کے بیٹے اور رکن اسمبلی پرتیک بھوشن سنگھ کو وزارت میں جگہ نہیں دی گئی۔

اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کی مجوزہ کابینہ توسیع پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب ریاستی حکومت نو برس کے دوران عوامی مسائل حل نہیں کرسکی تو اب آخری نو مہینوں میں نئے وزراء کیا کارنامہ انجام دیں گے۔ انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی پر بدعنوانی، بے روزگاری، مہنگائی اور عوامی استحصال کو فروغ دینے کا الزام بھی عائد کیا۔

ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے حال ہی میں دہلی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مرکزی قیادت کے کئی سرکردہ لیڈروں سے ملاقات کی۔ ان ملاقاتوں میں کابینہ کی توسیع اور اس کے فارمولے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ بتایا جا رہا ہے کہ بی جے پی اور جے ڈی یو کے درمیان 15-15 وزراء کا فارمولہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت دونوں جماعتوں کو مساوی نمائندگی دی جائے گی۔

سمراٹ چودھری کی وزیر اعلیٰ بننے کے بعد یہ پہلی دہلی یاترا تھی۔ وزیر اعظم سے ملاقات کے دوران دونوں لیڈروں کے درمیان بہار کی ترقی، بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی، سرمایہ کاری کے امکانات اور ’’خوشحال بہار‘‘ کے وژن پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے ریاست میں ترقیاتی منصوبوں کو تیز کرنے اور مرکزی اسکیموں کے مؤثر نفاذ پر بھی زور دیا۔

گجرات حکومت کی کابینہ میں توسیع کی جا رہی ہے۔ اس کے لیے 25 وزیروں کی فہرست سامنے آئی ہے۔ نئی کابینہ میں بھارتی کرکٹر رویندر جڈیجہ کی اہلیہ رِیوا با جڈیجہ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

گجرات کے وزیر اعلیٰ بھوپندر پٹیل جمعہ کو اپنی کابینہ کی توسیع کریں گے۔ منتخب وزیروں کی حلف برداری کی تقریب صبح 11:30 بجے گاندھی نگر کے مہاتما مندر میں ہوگی۔

اب کارکی کابینہ میں کل سات وزراء شامل ہیں۔ پہلے سے موجود وزراء میں ریمیشور کھنال (وزیر خزانہ)، کلمان گھسنگ (وزیر توانائی، آبی وسائل و آبپاشی) اور اوم پرکاش آریال (وزیر داخلہ) شامل ہیں۔

مہاراشٹر میں کابینہ میں توسیع اور نئے وزراء کے درمیان محکموں کی تقسیم کے معاملے پر سیاست تیز ہوگئی ہے۔ دریں اثنا، شیو سینا نے جمعرات (13 جولائی) کو کہا کہ ریاستی کابینہ کی توسیع اور محکموں کی تقسیم 14 جولائی کو ہونے کا امکان ہے