PM Modi Cabinet Decisions:مودی کابینہ کے 3 بڑے فیصلے، کسانوں سے گرین انرجی اور دہلی ٹریفک تک بدل جائے گا نظام
وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے تین اہم منصوبوں کو منظوری دی، ربیع فصلوں کی MSP میں اضافہ، گرین انرجی کوریڈور-3 اور دہلی کے لیے AI پر مبنی انٹیلیجنٹ ٹریفک مینجمنٹ سسٹم، مجموعی طور پر 2,79,157 کروڑ روپے کے اخراجات کا منصوبہ۔
Major reshuffle in PM cabinet: وزیراعظم مودی کی کابینہ میں جلد ہوسکتی ہے بڑی ردوبدل، 12 خالی عہدوں پر نئے چہروں کو مل سکتا ہے موقع
بی جے پی کی نئی قومی ٹیم کی تشکیل کے بعد مرکزی وزارتی کونسل میں ممکنہ تبدیلیوں کی قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں۔ نوجوانوں، خواتین اور اتحادی جماعتوں کو نمائندگی دینے پر غور کیے جانے کا امکان ہے۔ مودی حکومت کی تیسری مدت میں اتحادی جماعتوں کا کردار پہلے کے مقابلے میں زیادہ اہم ہے۔ اس لیے وزارتی کونسل میں کسی بھی ردوبدل کے دوران این ڈی اے کی اتحادی جماعتوں کے ساتھ سیاسی توازن قائم رکھنا بھی ضروری ہوگا۔
Guwahati-Tezpur Highway Project: وزیراعظم مودی کی قیادت میں مرکزی کابینہ نے آسام میں 8,970 کروڑ روپے کے گوہاٹی-تیزپور فور لین ہائی وے منصوبے کو دی منظوری
حکومت کے مطابق یہ منصوبہ سات اہم لاجسٹک مراکز کو بھی آپس میں جوڑے گا، جن میں تین بڑے ریلوے اسٹیشن، دو ہوائی اڈے اور دو آبی راستوں کے ٹرمینل شامل ہیں۔ اس سے شمال مشرقی خطے میں تجارت، سیاحت، صنعت اور نقل و حمل کو نئی رفتار ملنے کی توقع ہے۔
Cabinet Approves Multi-Tracking Rail Project: کابینہ نے وزیراعظم مودی کی قیادت میں کرناٹک اور آندھرا پردیش میں 1264 کروڑ روپے کے ملٹی ٹریکنگ ریلوے منصوبے کو دی منظوری
حکومت کے مطابق، اضافی ریلوے لائنوں کی تعمیر سے ریلوے کی لائن صلاحیت میں اضافہ ہوگا، جس سے آپریشنل کارکردگی اور خدمات کی قابل اعتمادیت بہتر ہوگی۔ یہ منصوبہ ریل نیٹ ورک پر بھیڑ کم کرنے اور ٹرینوں کے آپریشن کو زیادہ ہموار بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
Bhavya Rasayan Scheme: وزیراعظم مودی کی قیادت میں کابینہ نے ’بھویہ رسائن‘ اسکیم کو دی منظوری، ملک میں تین کیمیکل پارکس کیے جائیں گے تیار
مرکزی حکومت ہر پارک کے لیے 1000 کروڑ روپے تک کی گرانٹ دے گی، ریاستی حکومتوں کو کم از کم 500 کروڑ روپے کا تعاون کرنا ہوگا۔ 2026-27 سے 2030-31 تک جاری رہے گی اسکیم۔ یہ اسکیم ماحول دوست ماحولیاتی نظام قائم کرکے ہندوستانی کیمیکل صنعت کی پائیدار ترقی کو فروغ دے گی۔ اس نظام میں مشترکہ ایفلوئنٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ، ٹریٹمنٹ، اسٹوریج اور ڈسپوزل کی سہولیات اور خطرناک فضلے کے انتظام کے لیے بنیادی ڈھانچہ شامل ہوگا۔
Paper Leak Law: پیپر لیک معاملے پر حکومت کا بڑا قدم، سخت سزا دینے والے بل کو مرکزی کابینہ سے ملی منظوری، جلد پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا امکان
مرکزی حکومت نے جمعرات کو وزارت تعلیم میں بھی بڑی انتظامی تبدیلی کی ہے۔ حکومت نے 1994 بیچ کے راجستھان کیڈر کے آئی اے ایس افسر نریش پال گنگوار کو اعلیٰ تعلیم کے محکمے کا نیا سکریٹری مقرر کیا ہے۔ انہوں نے ونیت جوشی کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے۔
Semicon 2.0 Scheme: وزیراعظم مودی کی قیادت میں کابینہ نے ’سیمی کون 2.0‘ اسکیم کو کیا منظور، سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ اور چپ ڈیزائن کو ملے گا بڑا فروغ
حکومت کے مطابق اب تک 12 سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ یونٹس کو منظوری دی جا چکی ہے، جن میں 1.64 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری تجویز کی گئی ہے۔ ان منصوبوں میں ایک سلیکون فیب، ایک سلیکون کاربائیڈ فیب، ایک انٹیگریٹڈ گیلیم نائٹرائیڈ مائیکرو ایل ای ڈی ڈسپلے فیب اور نو پیکیجنگ یونٹس شامل ہیں۔
National Urea Investment Policy: وزیراعظم کی صدارت میں کابینہ سے کھاد کی پیداوار بڑھانے کے لیے قومی یوریا سرمایہ کاری پالیسی-2026 کی ملی منظوری
حکومت کا کہنا ہے کہ قومی یوریا سرمایہ کاری پالیسی-2026 کی منظوری کے بعد ان منصوبوں پر تیزی سے عمل درآمد ممکن ہوگا، جس سے ملکی پیداوار میں اضافہ اور یوریا کے شعبے میں خود کفالت کے ہدف کے حصول کو مزید تقویت ملے گی۔ واضح رہے کہ محکمۂ کھاد نے 2012 میں یوریا کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے پالیسی نافذ کی تھی۔
Union Cabinet Meeting: مرکزی کابینہ کی وزیراعظم نریندر مودی کو تاریخی سنگ میل پر مبارکباد، کہا-’’25 کروڑ سے زائد افراد غربت سے باہر آئے‘‘
کابینہ کی قرارداد میں مودی کو ملک کا طویل ترین عرصے تک خدمات انجام دینے والا منتخب وزیر اعظم قرار دیا گیا۔ قرارداد میں فلاحی منصوبوں، معاشی ترقی اور اصلاحات کو بھی سراہا گیا ہے۔
Union cabinet clears Rs 7,616 cr rail projects in Bihar: مرکزی کابینہ نے بہار میں 7,616 کروڑ روپے کے ریل اور شاہراہ منصوبوں کو دی منظوری
وزیر ریلوے ویشنو نے کہا کہ موجودہ بھاگلپور-دمکا-رامپورہاٹ لائن پہلے سے ہی بھر چکی ہے، اس لیے ڈبلنگ سے مسافر اور مال برداری دونوں میں بہتری آئے گی، اور ساتھ ہی دیوگھر اور تارا پٹھ جیسے کلیدی مذہبی مقامات کو زیادہ موثر کنیکٹیویٹی ملے گی۔





