Major reshuffle in PM cabinet: وزیراعظم مودی کی کابینہ میں جلد ہوسکتی ہے بڑی ردوبدل، 12 خالی عہدوں پر نئے چہروں کو مل سکتا ہے موقع
بی جے پی کی نئی قومی ٹیم کی تشکیل کے بعد مرکزی وزارتی کونسل میں ممکنہ تبدیلیوں کی قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں۔ نوجوانوں، خواتین اور اتحادی جماعتوں کو نمائندگی دینے پر غور کیے جانے کا امکان ہے۔ مودی حکومت کی تیسری مدت میں اتحادی جماعتوں کا کردار پہلے کے مقابلے میں زیادہ اہم ہے۔ اس لیے وزارتی کونسل میں کسی بھی ردوبدل کے دوران این ڈی اے کی اتحادی جماعتوں کے ساتھ سیاسی توازن قائم رکھنا بھی ضروری ہوگا۔
Karnataka Cabinet to Expand: کرناٹک کابینہ میں توسیع کی منظوری، ڈی کے شیوکمار کی نئی ٹیم میں 12 نئے چہروں کو ملے گا موقع، گائتری شانتے گوڑا واحد خاتون وزیر
نئی کابینہ میں 20 وزراء شامل ہوں گے، جن میں 12 نئے چہروں کو پہلی بار موقع دیا گیا ہے، جبکہ 8 موجودہ وزراء کو برقرار رکھا گیا ہے۔ گائتری شانتے گوڑا کابینہ کی واحد خاتون وزیر ہوں گی۔
Cabinet Expansion in UP: اتر پردیش کابینہ میں توسیع، چھ نئے چہرے کیے گئےشامل، بھوپیندر چودھری اور منوج پانڈے کو ملی جگہ
سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ بی جے پی نے اس کابینہ توسیع کے ذریعے آئندہ اسمبلی انتخابات سے قبل سماجی توازن، علاقائی نمائندگی اور اتحادی جماعتوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے۔
Bihar Cabinet Expansion: بہار کابینہ میں توسیع ، وزیراعظم مودی، وزیرداخلہ امت شاہ اور سینئر لیڈران کی موجودگی میں 32 نئے وزیروں نے لیا عہدے اور رازداری کا حلف، جے ڈی یو کوٹے سے محمد زماں خان واحدمسلم چہرہ
گاندھی میدان میں منعقدہ تقریب کو این ڈی اے کی سیاسی طاقت کے مظاہرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس کابینہ توسیع میں سماجی توازن، نوجوان قیادت اور تنظیمی مضبوطی پر خاص توجہ دی گئی ہے۔ نئی کابینہ میں خواتین، پسماندہ طبقات اور مختلف علاقوں کو نمائندگی دے کر آئندہ اسمبلی انتخابات کے لیے مضبوط سیاسی پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے۔
Nepal PM Sushila Karki expands cabinet: نیپال کی عبوری وزیراعظم سشیلا کارکی نے کابینہ میں توسیع کی، چارنئے وزراء کی تقرری، صدر رام چندر پاؤڈیل نے دلائی حلف
اب کارکی کابینہ میں کل سات وزراء شامل ہیں۔ پہلے سے موجود وزراء میں ریمیشور کھنال (وزیر خزانہ)، کلمان گھسنگ (وزیر توانائی، آبی وسائل و آبپاشی) اور اوم پرکاش آریال (وزیر داخلہ) شامل ہیں۔




