Bharat Express DD Free Dish

Sambhal Violence Case

 سال 2024 کے سنبھل تشدد سے متعلق جوڈیشیل کمیشن کی رپورٹ کو سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمن برق نے خارج کردیا ہے۔ انہوں نے اسے حکومت کی ’اسکرپٹ‘ بتاتے ہوئے کہا کہ سچ اور انصاف عدالت میں سامنے آئے گا۔

الہ آباد ہائی کورٹ سے سنبھل جامع مسجد کے صدر ایڈوکیٹ ظفر علی کو ضمانت مل گئی ہے۔ جسٹس سمیرجین کی سنگل بینچ نے ضمانت عرضی کو منظوری دی ہے۔ 23 مارچ 2025 کو پولیس نے تفتیش کے دوران ظفرعلی کوگرفتارکرلیا گیا۔

ایس آئی ٹی نے سنبھل تشدد کیس میں 1100 صفحات کی چارج شیٹ داخل کی ہے۔ اس چارج شیٹ میں ایس پی ایم پی ضیاء الرحمان برق سمیت 23 افراد کے نام شامل ہیں۔ 24 نومبر کو جامع مسجد میں سروے کے دوران ہونے والے تشدد میں چار نوجوان ہلاک اور 29 پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

محمد ارشد کو24 نومبر2024 کوسنبھل کی شاہی جامع مسجد کے قریب ایک متنازعہ سروے کے دوران ہونے والے تشدد کے سلسلے میں گرفتارکیا گیا تھا، جس نے علاقے میں بڑے پیمانے پر بدامنی کو جنم دیا تھا۔  ارشد پرکئی دیگر افراد کے ساتھ، جائے وقوعہ پر موجود ہونے، آتش زنی، پتھراؤ اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو بھڑکانے کی کوشش کرتے ہوئے مبینہ طور پر پولیس پر حملہ کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔

اس سے قبل سنبھل میں ضیاء الرحمان برق کے پرائیویٹ گھر میں بجلی چوری کے کیس درج ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ نقشے کے بغیر کثیر المنزلہ مکان بنانے اور زمین پر قبضہ کرنے کا بھی مقدمہ درج ہے۔ اس طرح فی الحال ایس پی رکن پارلیمنٹ کئی الزامات میں گھرے ہوئے ہیں۔

اترپردیش کے سنبھل میں نومبر 2024 کے تشدد کے سلسلے میں سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمن برق سے پوچھ گچھ ہوئی۔ جمعہ مسجد کمیٹی کے ظفر علی سے پہلے ہی تفتیش ہو چکی ہے

اترپردیش کے سنبھل تشدد معاملے میں ایس آئی ٹی سے پوچھ گچھ کے لیے ایس پی ایم پی ضیاء الرحمٰن برق تھانے پہنچ گئے ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے کہا کہ 'میں قانون اور آئین پر یقین رکھتا ہوں، مجھے عدلیہ پر بھروسہ ہے،

اترپردیش واقع سنبھل میں گزشتہ سال نومبر میں ہوئے تشدد سے متعلق بڑی خبرسامنے آئی ہے۔ سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق کے کردار پرسوال اٹھائے جا رہے ہیں۔

رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق نے بتایا کہ مجھے دفعہ 35 (3) کے تحت دیا گیا نوٹس مل گیا ہے۔ چونکہ میں اس ملک کا شہری ہوں اوررکن پارلیمنٹ بھی ہوں، اس لئے میں نے پولیس کوجانچ کے دوران مکمل تعاون کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

ظفر علی کے بڑے بھائی محمد طاہر نے الزام لگایا تھا کہ یہ ’غیر آئینی اقدام‘ صدر کو عدالتی کمیشن میں بیان دینے سے روکنے کے لیے کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس ظفر علی کو جیل بھیجنا چاہتی ہے۔ پولیس چاہتی ہے کہ وہ کوئی بیان نہ دیں۔ لیکن وہ وہی بیان دیں گے جو انہوں نے کمیشن کے سامنے دیا ہے۔