سنبھل کے رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق کی دہلی واقع رہائش گاہ پر دیر رات پہنچ گئی۔
سنبھل میں گزشتہ سال نومبر مہینے میں ہوئے تشدد کے معاملے میں پولیس سماجوادی پارٹی (ایس پی) کے رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق کو پوچھ گچھ کے لئے نوٹس تعمیل کرانے پہنچی، لیکن وہ اوران کی فیملی کا کوئی نہیں ملا۔ حالانکہ اس کے بعد منگل کی دیر رات اترپردیش پولیس کی ایس آئی ٹی ٹیم رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق کو نوٹس سونپنے کے لئے دہلی کے ویسٹرن کورٹ واقع ایم پی ہاسٹل پہنچی۔
اس درمیان، دیرشام ضیاء الرحمٰن برق کے پرسنل اسسٹنٹ عبدالرحمٰن نے بتایا کہ ہمیں رکن پارلیمنٹ کے (دہلی واقع) رہائش گاہ پر نوٹس ملا ہے۔ اترپردیش پولیس نے ہمیں نوٹس دیا ہے۔
جانچ کے دوران تعاون کرنے کی یقین دہانی
حالانکہ اس کے بعد رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق نے اے این آئی کو بتایا کہ مجھے دفعہ 35 (3) کے تحت دیا گیا نوٹس مل گیا ہے۔ چونکہ میں اس ملک کا شہری ہوں اور رکن پارلیمنٹ بھی ہوں، اس لئے میں نے پولیس کو جانچ کے دوران مکمل تعاون کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
#WATCH | Delhi: Uttar Pradesh Police SIT team arrives at the MP’s Hostel at Western Court to hand over a notice to Samajwadi Party MP from Sambhal, Zia ur Rehman Barq.
More details awaited pic.twitter.com/hMrYWBhnvD
— ANI (@ANI) March 25, 2025
نوٹس تعمیل کرانے گئی تھی ایس آئی ٹی
اس سے پہلے، سنبھل کے پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) کرشنا کماربشنوئی نے بتایا کہ رکن پارلیمنٹ کی رہائش گاہ پرایس آئی ٹی نوٹس تعمیل کرانے گئی تھی، لیکن وہ نہیں ملے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اب ایس آئی ٹی کی ٹیم ان کو نوٹس تعمیل کرانے دہلی جائے گی۔ پیرکے روزکرشنا کماربشنوئی نے صحافیوں کوبتایا تھا کہ 24 نومبرکی تشدد سے متعلق درج معاملے میں قانونی کارروائی یقینی بنائی جا رہی ہے۔
#WATCH | Delhi: Samajwadi Party MP from Sambhal Zia ur Rehman Barq says, “I have received the notice given to me under Section 35(3)… Since I am a citizen of this country and also an MP, I have assured the police of full cooperation during the investigation.” https://t.co/3ba4zBZM92 pic.twitter.com/Q263enI3fP
— ANI (@ANI) March 25, 2025
بیان درج کیا جانا ضروری
ایس پی کے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق معاملے میں نامزد ملزم ہیں اوراس کی بنیاد پران کا بیان درج کیا جانا ضروری ہے۔ گزشتہ سال مقامی عدالت کے حکم پرسنبھل کی جامع مسجد میں ایک سروے کے دوران ہوئے احتجاج کے بعد تشدد بھڑک گیا، جس میں چار لوگوں کی موت ہوگئی اورپولیس اہلکاروں سمیت دیگرلوگ زخمی ہوگئے تھے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

