Bharat Express DD Free Dish

Sambhal Violence

 سال 2024 کے سنبھل تشدد سے متعلق جوڈیشیل کمیشن کی رپورٹ کو سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمن برق نے خارج کردیا ہے۔ انہوں نے اسے حکومت کی ’اسکرپٹ‘ بتاتے ہوئے کہا کہ سچ اور انصاف عدالت میں سامنے آئے گا۔

یہ عدالتی کمیشن 24 نومبر 2024 کو سنبھل کی شاہی جامع مسجد کے باہر پیش آئے تشدد کی تحقیقات کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔ یہ تشدد اس وقت ہوا تھا جب عدالت کے حکم پر آثارِ قدیمہ کے تحفظ میں شامل اس یادگار کا سروے کیا جا رہا تھا۔ اس واقعے میں چار افراد ہلاک جبکہ درجنوں پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

اتوار کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ضیاء الرحمٰن برق نے کہا کہ اگر کوئی شخص ’’آئی لو محمد‘‘ کہتا ہے تو اس میں غیر قانونی کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی ’’آئی لو محمد‘‘ کہتے ہیں اور اگر یہ جرم ہے تو انہیں سزا دے دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے نعروں یا پوسٹروں کو متنازعہ بنا کر اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس آر مہادیون پر مشتمل دو رکنی بینچ نے یہ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ چونکہ تفتیش مکمل ہو چکی ہے اور چارج شیٹ داخل ہو گئی ہے، اس لیے تینوں ملزمان کو ضمانت دی جا سکتی ہے۔ ان ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں اس سے قبل الہٰ آباد ہائی کورٹ نے مسترد کر دی تھیں، جس کے بعد انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔

رپورٹ کے شریک محقق نوشرن سنگھ نے کہا کہ رپورٹ پڑھ کر انسان لرز اٹھتا ہے۔ کم عمر لڑکیوں کی گرفتاری، قانونی کارروائی کے بغیر مکانات کا انہدام اور روزمرہ کی سہولیات کو بطور سزا استعمال کرنا ریاستی جبر کی بدترین مثالیں ہیں۔

الہ آباد ہائی کورٹ نے آزاد جنت نشا اسکول کواس کی زمین سے بے دخلی کے معاملے میں بڑی راحت دی۔ یہ اسکول سنبھل کے علاقے عالم سرائے میں واقع ہے اورایک دیرینہ تعلیمی ادارہ ہے، جوکئی دہائیوں سے بلا رکاوٹ تعلیمی خدمات انجام دے رہا ہے۔

محمد ارشد کو24 نومبر2024 کوسنبھل کی شاہی جامع مسجد کے قریب ایک متنازعہ سروے کے دوران ہونے والے تشدد کے سلسلے میں گرفتارکیا گیا تھا، جس نے علاقے میں بڑے پیمانے پر بدامنی کو جنم دیا تھا۔  ارشد پرکئی دیگر افراد کے ساتھ، جائے وقوعہ پر موجود ہونے، آتش زنی، پتھراؤ اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو بھڑکانے کی کوشش کرتے ہوئے مبینہ طور پر پولیس پر حملہ کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔

اس سے قبل سنبھل میں ضیاء الرحمان برق کے پرائیویٹ گھر میں بجلی چوری کے کیس درج ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ نقشے کے بغیر کثیر المنزلہ مکان بنانے اور زمین پر قبضہ کرنے کا بھی مقدمہ درج ہے۔ اس طرح فی الحال ایس پی رکن پارلیمنٹ کئی الزامات میں گھرے ہوئے ہیں۔

اترپردیش واقع سنبھل میں گزشتہ سال نومبر میں ہوئے تشدد سے متعلق بڑی خبرسامنے آئی ہے۔ سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق کے کردار پرسوال اٹھائے جا رہے ہیں۔

رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق نے بتایا کہ مجھے دفعہ 35 (3) کے تحت دیا گیا نوٹس مل گیا ہے۔ چونکہ میں اس ملک کا شہری ہوں اوررکن پارلیمنٹ بھی ہوں، اس لئے میں نے پولیس کوجانچ کے دوران مکمل تعاون کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔