Bharat Express DD Free Dish

Sambhal Violence

جب متھرا کا مسئلہ اٹھایا گیا تو سی ایم یوگی نے کہا کہ ہم متھرا کا مسئلہ کیوں نہیں اٹھاتے؟ کیا متھرا شری کرشن کی جائے پیدائش نہیں ہے؟ معاملہ عدالت میں ہے اس لیے ہم عدالتی احکامات پر عمل کر رہے ہیں۔ ورنہ اب تک وہاں بہت کچھ ہو چکا ہوتا۔

ظفر علی کے بڑے بھائی محمد طاہر نے الزام لگایا تھا کہ یہ ’غیر آئینی اقدام‘ صدر کو عدالتی کمیشن میں بیان دینے سے روکنے کے لیے کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس ظفر علی کو جیل بھیجنا چاہتی ہے۔ پولیس چاہتی ہے کہ وہ کوئی بیان نہ دیں۔ لیکن وہ وہی بیان دیں گے جو انہوں نے کمیشن کے سامنے دیا ہے۔

فرحانہ کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات میں قتل کی کوشش، فساد کرنے، آن ڈیوڈی سرکاری ملازمین کے کام میں رخنہ اندازی کرنے سمیت کئی سنگین دفعات میں مقدمے درج تھے، لیکن ان پر الزام جھوٹا ثابت ہوا۔

ایک سینئر افسر نے کہا کہ چارج شیٹ داخل ہونے کے بعد ممکنہ طور پر اگلے ہفتے ملزمین کو معاوضے کے لیے نوٹس بھیجے جائیں گے۔سنبھل پولیس نے اب تک 76 لوگوں کو گرفتار کیا ہے، تازہ ترین گرفتاری 12 فروری کو کی گئی تھی۔

درخواست شاہی جامع مسجد کی انتظامی کمیٹی نے دائر کی تھی۔ ہائی کورٹ اس کیس کی 25 فروری کو دوبارہ سماعت کرے گا۔ کیس کی سماعت 25 فروری کو نئے کیس کے طور پر ہوگی۔

سنبھل کی شاہی جامع مسجد کمیٹی کی جانب سے ہائی کورٹ میں ایک عرضی داخل کی گئی ہے، جس میں انہوں نے سنبھل کی ضلع عدالت میں چل رہے مقدمے کی برقراری پر سوال اٹھائے ہیں اور اسے منسوخ کرنے کی درخواست کی ہے۔

سنبھل تشدد پر بیان دیتے ہوئے برق نے کہا کہ وہ واقعہ امن کو آگ لگانے والا تھا۔ ہمارے لوگوں کو قتل کیا گیا اور ہمارے ہی خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ بجلی چوری پر ان کا کہنا تھا کہ اگر کل پولیس کی لاٹھی غائب ہو جائے گا تو مجھے ذمہ دار ٹھہریا جائےگا۔

آپ کو بتا دیں کہ سنبھل تشدد کے بعد جامع مسجد کے بالکل سامنے پولیس چوکی بھی بنائی جارہی  ہے۔ جس جگہ پوسٹ بنائی جارہی ہے اس کے بالکل ساتھ ہی ایک خالی میدان ہے۔اب اسی میدان کو لیکر کشیپ سماج نے دعویٰ شروع کردیا ہے۔

ایس پی کا وفد پیر کو سنبھل تشدد کے متاثرین کے اہل خانہ سے ملاقات کرے گا۔ یہ جانکاری ایس پی ضلع صدر اصغر علی انصاری نے دی۔ انہوں نے کہا کہ وفد میں ایم پی اور ایم ایل اے شامل ہیں۔

 سنبھل میں یو پی پی سی ایل کے سب ڈویژنل افسر سنتوش ترپاٹھی نے کہاکہ ہم نے سنیچر کو سنبھل میں ایم پی کی رہائش گاہ پر بجلی ایکٹ کی دفعہ 3 کے تحت نوٹس بھیجا اور انہیں 1.91 کروڑ روپے کا جرمانہ ادا کرنے کے لیے 15 دن کا وقت دیا۔