Bharat Express DD Free Dish

Sambhal Violence

ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ سماج وادی پارٹی ڈرامہ کرتی ہے۔ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ سنبھل میں دفعہ 144 نافذ ہے۔ اور پہلے دن کے بعد ایک بھی واقعہ وہاں نہیں ہوا۔

شیو پال نے کہا کہ بی جے پی حکومت اس طرح مسلمانوں کے حوصلے پست کرنا چاہتی ہے۔ بی جے پی حکومت ترقی کے لیے کچھ نہیں کر رہی ہے اور مجرموں کو تحفظ دے کر فسادات کر رہی ہے۔ ترقی کا کام کہیں نہیں ہو رہا۔ صبح سے شام تک جھوٹ بولنا عام ہوگیا ہے۔

اترپردیش کے سنبھل میں 24 نومبر کو ہوئے تشدد کی تحقیقات کے لیے ریاستی حکومت کی طرف سے تشکیل کردہ تین رکنی عدالتی تحقیقاتی کمیشن کے دو ارکان سنیچر کو مراد آباد پہنچے اور آج اتوار کو وہ سنبھل کا دورہ کر یں گے۔

سماجوادی پارٹی کی 15 رکنی وفد سنبھل تشدد کے متاثرین س ملنے جانے والا تھا، لیکن اپوزیشن لیڈراورسماجوادی پارٹی کے لیڈر پرساد پانڈے کوڈی ایم نے فون کرکے منع کردیا۔

کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ سنبھل میں جس طرح کے حادثات ہوئے ہیں۔ اس سے ایک بات تو واضح ہے کہ ہماری جان کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ گولیاں چلائی جارہی تھیں، جسم سے گولی آرپارہو رہی ہے۔

ایس پی سربراہ اکھلیش یادو نے ایکس پر پوسٹ کیا اور لکھا - ”پابندی لگانا بی جے پی حکومت کی نظم و نسق، انتظامیہ اور سرکاری انتظام کی ناکامی ہے۔ اگر حکومت پہلے ہی فسادات کرانے اور اشتعال انگیز نعرے لگانے والوں پر ایسی پابندی لگا دیتی، تو سنبھل میں ہم آہنگی اور امن کا ماحول خراب نہ ہوتا۔“

سماج وادی پارٹی کا وفد آج ہفتہ (30 نومبر) کو جمع ہوگا۔ اتر پردیش کے اپوزیشن لیڈر ماتا پرساد کی قیادت میں سماج وادی پارٹی کے 5 ایم پی سمیت 15 لیڈران سنبھل جائیں گے، جو متاثرین سے ملیں گے اور ایس پی سربراہ اکھلیش یادو کو اپنی رپورٹ دیں گے۔

سنبھل کے رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق نے کہا کہ سنبھل میں جو بھی کچھ ہوا، اس کے لئے پوری طرح سے پولیس انتظامیہ ذمہ دار ہے۔ اس کے علاوہ وہاں جو حرکت کی گئی، اس کے ذمہ دارکے کے بشنوئی اورانوج چودھری ہیں۔

جمعیت علماء ہند کا کہنا ہے کہ مولانا محمود مدنی سنبھل کے حالات سے بہت غمزدہ ہیں، اس لئے چاہتے ہیں کہ چیف جسٹس آف انڈیا از خود ان حالات کا نوٹس لیں۔ جمعیت آئین کے محافظ چیف جسٹس آف انڈیا کے پاس آئی ہے اورامید کرتی ہے کہ وہ انصاف کے علمبردار کے طورپراس درخواست پرفوری غورکریں گے۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ سنبھل سانحہ لاقانونیت، نا انصافی اورظلم وبربریت کی ایک زندہ تصویرہے، جسے ملک ہی نہیں پوری دنیا کے لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، یہ سانحہ یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ یک رخی اور نظریاتی سیاست ملک کوکہاں لے کر آگئی ہے، قانون کے محافظ قاتل بن گئے ہیں، برسوں سے پھیلائی گئی نفرت اب بندوق کی گولیوں تک آگئی ہے۔