Bharat Express DD Free Dish

Ziaur Rahman Barq

 سال 2024 کے سنبھل تشدد سے متعلق جوڈیشیل کمیشن کی رپورٹ کو سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمن برق نے خارج کردیا ہے۔ انہوں نے اسے حکومت کی ’اسکرپٹ‘ بتاتے ہوئے کہا کہ سچ اور انصاف عدالت میں سامنے آئے گا۔

اتوار کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ضیاء الرحمٰن برق نے کہا کہ اگر کوئی شخص ’’آئی لو محمد‘‘ کہتا ہے تو اس میں غیر قانونی کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی ’’آئی لو محمد‘‘ کہتے ہیں اور اگر یہ جرم ہے تو انہیں سزا دے دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے نعروں یا پوسٹروں کو متنازعہ بنا کر اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

سنبھل مسجد تنازعہ اور’آئی لومحمد‘ مہم پرسماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق نے کہا کہ مسلمان ہندوستان کے وفادار ہیں، کیونکہ اسلام ملک سے محبت سکھاتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سچے مسلمان ملک اور مذہب دونوں کا احترام کرتے ہیں۔

چندوسی عدالت نے اترپردیش کے سنبھل میں ہری ہرمندر-جامع مسجد تنازعہ کی اگلی سماعت 21 جولائی کوطے کی گئی ہے۔ آپ کو بتا دیں کہ ہائی کورٹ نے مسلم فریق کی درخواست کومسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کے سروے کے حکم کوبرقراررکھا ہے۔ اس معاملے میں ایس آئی ٹی نے 1100 صفحات کی چارج شیٹ داخل کی ہے، جس میں ایس پی ایم پی سمیت 22 لوگوں کو ملزم بنایا گیا ہے۔

اس سے قبل سنبھل میں ضیاء الرحمان برق کے پرائیویٹ گھر میں بجلی چوری کے کیس درج ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ نقشے کے بغیر کثیر المنزلہ مکان بنانے اور زمین پر قبضہ کرنے کا بھی مقدمہ درج ہے۔ اس طرح فی الحال ایس پی رکن پارلیمنٹ کئی الزامات میں گھرے ہوئے ہیں۔

اترپردیش کے سنبھل میں نومبر 2024 کے تشدد کے سلسلے میں سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمن برق سے پوچھ گچھ ہوئی۔ جمعہ مسجد کمیٹی کے ظفر علی سے پہلے ہی تفتیش ہو چکی ہے

اترپردیش واقع سنبھل میں گزشتہ سال نومبر میں ہوئے تشدد سے متعلق بڑی خبرسامنے آئی ہے۔ سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق کے کردار پرسوال اٹھائے جا رہے ہیں۔

رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق نے بتایا کہ مجھے دفعہ 35 (3) کے تحت دیا گیا نوٹس مل گیا ہے۔ چونکہ میں اس ملک کا شہری ہوں اوررکن پارلیمنٹ بھی ہوں، اس لئے میں نے پولیس کوجانچ کے دوران مکمل تعاون کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

گزشتہ سال ہی ضیاء الرحمان برق کو زیر تعمیر مکان کے حوالے سے شوکاز نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ سنبھل کے ایم پی دیپ سرائے علاقے میں ایک مکان بنا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہاں ان کا آبائی گھر تھا جسے انہوں نے تعمیراتی  نو کے لیے گرایاتھا۔

جموں و کشمیر میں دہشت گردی سے متعلق مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے بیان پر کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ آرٹیکل 370 ہٹائے جانے سے مجھے لگتا ہے کہ دہشت گردی کم نہیں ہوئی بلکہ بڑھی ہے۔ اب ادھم پور میں واقعات ہونے لگے ہیں۔ امت شاہ سے چیزیں سنبھل  نہیں رہی ہیں، ان کے ہاتھ سے چیزیں باہر ہو چکی  ہیں۔