سنبھل سے سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمن برق کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس بار نقشہ منظور کرائے بغیر مکان بنانے کے معاملے میں ان کی مشکلات میں اضافہ ہونے والا ہے۔ درحقیقت ضیاء الرحمن برق اپنے نام پر گھر ہونے کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کر سکے ہیں۔ وہ عدالت میں بھی نقشے کے حوالے سے کوئی ثبوت فراہم نہیں کر سکے۔ اب سنبھل کے ایس ڈی ایم نے معاملے کی جانچ کے لیے دو رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔کمیٹی3 دن میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ ضیاء الرحمان کے گھر کی تعمیر کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی 22 مارچ کو رپورٹ پیش کرے گی۔ اس کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔ اگر کچھ کمی نظر آئے اور نقشہ نہ ملے تو ضیاء الرحمن برق کے گھر پر بلڈوزر چلایا جا سکتا ہے۔
سنبھل کی ایس ڈی ایم کا بیان
سنبھل کی ایس ڈی ایم وندنا مشرا نے کہاکہ منگل کو اس معاملے (بغیر میونسپل کارپوریشن سے نقشہ منظور کرائے تعمیراتی کام کرنے) میں تاریخ تھی، لیکن سماجوادی پارٹی ایم پی (ضیا الرحمن) کی طرف سے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا، نہ ہی کوئی ایسی حقیقت پیش کی گئی جس سے ثابت ہو کہ یہ کوئی نیا تعمیراتی کام نہیں ہے۔ نہ ہی کوئی ایسا ثبوت دیا گیا جس سے ثابت ہو کہ یہ مکان کسی اور کا ہے۔ ہم نے ایک مشترکہ ٹیم بنائی ہے اور یہ ٹیم وہاں جا کر جانچ کرے گی کہ نیا تعمیراتی کام کتنا پرانا ہے۔ وہ تین دن کے اندر رپورٹ پیش کریں گے اور اس کے بعد ہم آگے کی کارروائی کریں گے۔ اس میں اگلی تاریخ 22 مارچ طے کی گئی ہے۔
آپ کو بتادیں کہ گزشتہ سال ہی ضیاء الرحمان برق کو زیر تعمیر مکان کے حوالے سے شوکاز نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ سنبھل کے ایم پی دیپ سرائے علاقے میں ایک مکان بنا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہاں ان کا آبائی گھر تھا جسے انہوں نے تعمیراتی نو کے لیے گرایاتھا۔ 5 دسمبر کو ہی ضیاء الرحمن برق کو نوٹس جاری کیا گیا تھا اور تعمیرات کا نقشہ طلب کیا گیا تھا۔لیکن وہ نقشہ پیش کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں ۔اس سے پہلے ایس پی ایم پی کے خلاف بجلی چوری کا معاملہ درج کیا گیا تھا۔ ان کی رہائش گاہ پر بجلی چوری کا پتہ چلا تھا۔ اس کے بعد 1 کروڑ 91 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیاتھا۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

