Bharat Express DD Free Dish

Sambhal News

یہ عدالتی کمیشن 24 نومبر 2024 کو سنبھل کی شاہی جامع مسجد کے باہر پیش آئے تشدد کی تحقیقات کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔ یہ تشدد اس وقت ہوا تھا جب عدالت کے حکم پر آثارِ قدیمہ کے تحفظ میں شامل اس یادگار کا سروے کیا جا رہا تھا۔ اس واقعے میں چار افراد ہلاک جبکہ درجنوں پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

عدالت نے سنبھل ضلع انتظامیہ کے اس حکم کو منسوخ کر دیا جس میں مسجد میں صرف محدود تعداد میں نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ عدالت نے مناظر خان کی جانب سے داخل کی گئی عرضی کو ہدایات کے ساتھ نپٹا دیا اور ریاستی حکومت کو حکم دیا کہ نماز کے دوران مکمل سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے۔

الہ آباد ہائی  نے سنبھل میں نمازیوں کی تعداد محدود کرنے کا حکم منسوخ کر دیا۔ عدالت نے ڈی ایم اور ایس پی کو سخت ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ایسا نہ کریں۔ عدالت نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ آپ نے جو بات کہی ہے، وہ ایسی ہے کہ یا تو استعفیٰ دیں یا پھر تبادلہ لے لیں۔

معاملے کی جانچ کے بعد تحصیلدار کی عدالت نے امام اور ان کے بھائی کو زمین خالی کرنے کا حکم دیا ہے اور دونوں پر تقریباً 6.94 کروڑ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق، عدالت کے حکم کے بعد متفرق فریق کو 30 دن کا وقت دیا گیا ہے کہ وہ زمین خالی کریں۔ اگر مقررہ مدت میں زمین خالی نہیں کی گئی تو ریونیو محکمہ اور مقامی انتظامیہ قبضہ ختم کرنے کے لیے مزید کارروائی کرے گی، یعنی مسجد، مکان اور درگاہ پر بلڈوزر چلایا جا سکتا ہے۔

گننور–دھناری علاقے کے خلیل پور گاؤں میں ایک بزرگ خاتون اپنی جھونپڑی میں جل کر ہلاک ہو گئی۔ متوفیہ کے بیٹے کا الزام ہے کہ پرانی دشمنی کے باعث ملزم نے سازش کے تحت جھونپڑی میں آگ لگائی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور فرانزک ٹیم موقع پر پہنچ گئی اور معاملے کی تفتیش میں مصروف ہے۔

سنبھل میں ایک معذور شخص سے پی ایم آواس کے نام پر رشوت لے کر جعلی رپورٹ کے ذریعے اسے نااہل قرار دے دیا گیا۔ شکایت کرنے پر جان سے مارنے کی دھمکی کا ویڈیو وائرل ہو گیا ہے، جس کے بعد اب سخت جانچ کی مانگ تیز ہو گئی ہے۔

اترپردیش کے ضلع سنبھل میں ایک بڑی اور سخت کارروائی میں انتظامیہ نے منگل کے روزسنبھل تالاب کی مبینہ سرکاری اراضی پر بنائے گئے تین غیر قانونی مکانات کو مسمار کر دیا۔

سنبھل میں شاہی جامع مسجد–ہری ہر مندر تنازع کے درمیان انتظامیہ نے 30 دسمبر کو متنازع مقام کے قریب واقع قبرستان کی زمین کی پیمائش کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ممکنہ احتجاج کے پیش نظرعلاقے میں پولیس کی بھاری پولیس فورس تعینات کردی گئی ہے۔ کشیدہ صورتحال کوروکنے کے لئے پورے علاقے کوپولیس چھاؤنی میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ لوگوں کوگھروں سے باہرنہ نکلنے کی تاکید کی گئی ہے۔

یوپی کے سنبھل میں سماجوادی پارٹی کے رکن اسمبلی اقبال محمود کے باغ پر انتظامیہ کا بلڈوزر چلا ہے۔ انتظامیہ کے ذریعہ ان سے مقبوضہ زمین خالی کرایا گیا ہے۔