Bharat Express DD Free Dish

Sambhal News

سنبھل میں گزشتہ سال ہوئے فساد کے بعد بنائی گئی کمیٹی کی رپورٹ میں سنسنی خیزدعویٰ کیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو کمیٹی نے جمعرات کو سونپ دی ہے۔ رپورٹ میں اس بات کا ذکرکیا گیا ہے کہ فساد اورخوشنودی کی سیاست نے سنبھل کی آبادی کوبدل دیا ہے۔

سنبھل جامع مسجد کمیٹی کے صدرظفرعلی ایک بار پھرتنازعہ میں گھرگئے ہیں۔ ظفرعلی اوران کے 50 سے 60 حامیوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ جن کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے ان پر جلوس نکالنے کا الزام ہے۔

الہ آباد ہائی کورٹ نے آزاد جنت نشا اسکول کواس کی زمین سے بے دخلی کے معاملے میں بڑی راحت دی۔ یہ اسکول سنبھل کے علاقے عالم سرائے میں واقع ہے اورایک دیرینہ تعلیمی ادارہ ہے، جوکئی دہائیوں سے بلا رکاوٹ تعلیمی خدمات انجام دے رہا ہے۔

محمد ارشد کو24 نومبر2024 کوسنبھل کی شاہی جامع مسجد کے قریب ایک متنازعہ سروے کے دوران ہونے والے تشدد کے سلسلے میں گرفتارکیا گیا تھا، جس نے علاقے میں بڑے پیمانے پر بدامنی کو جنم دیا تھا۔  ارشد پرکئی دیگر افراد کے ساتھ، جائے وقوعہ پر موجود ہونے، آتش زنی، پتھراؤ اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو بھڑکانے کی کوشش کرتے ہوئے مبینہ طور پر پولیس پر حملہ کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔

زخمی بزرگ کے مطابق کچھ لوگ اسے زخمی حالت میں تھانے لے گئے اور پولیس کو واقعے کی اطلاع دی۔ جب یہ معاملہ پولیس افسران کے علم میں آیا تو سی او دیپک تیواری نے فوری طور پر پولیس کو موقع پر بھیجا اور تحقیقات کرائی لیکن تب تک ملزم فرار ہو چکے تھے۔

ایس ڈی ایم وندنا مشرا نے کہا کہ لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ تہواروں کے دوران عید اور نوراتری کو باہمی ہم آہنگی کے ساتھ منائیں۔ انہوں نے کہا کہ عید کی نماز چبوترے یا سڑک پر ادا کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اتر پردیش کے سنبھل کی جامع مسجد سے متعلق معاملے میں پولیس نے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے پولیس نے شاہی جامع مسجد کمیٹی کے سربراہ ایڈوکیٹ ظفر علی کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لے لیا ہے۔

گزشتہ سال ہی ضیاء الرحمان برق کو زیر تعمیر مکان کے حوالے سے شوکاز نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ سنبھل کے ایم پی دیپ سرائے علاقے میں ایک مکان بنا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہاں ان کا آبائی گھر تھا جسے انہوں نے تعمیراتی  نو کے لیے گرایاتھا۔

اٹھارہ مارچ کو میلے کا پرچم لہرانے کا منصوبہ تھا اور  کمیٹی نے 25، 26 اور 27 مارچ کو میلہ منعقد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ میلہ ہولی کے بعد سالار مسعود غازی کی یاد میں سنبھل میں لگایا جاتا ہے جسے نیزہ میلہ کہا جاتا ہے۔

ظفر علی نے کہا کہ انتظامیہ کا یہ ایک اچھا اقدام ہے کیونکہ اس سے قبل بھی مساجد کو ترپال سے ڈھانپا جاتا تھا اور اب دوبارہ انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ یہ قدم مساجد کے تحفظ اور عوامی امن کو برقرار رکھنے کے مقصد سے اٹھایا گیا ہے۔