Bharat Express DD Free Dish

Sambhal Violence Case

لکھنؤ پولیس نے کانگریس کے ریاستی صدر اجے رائے کو نوٹس جاری کر کے تشدد سے متاثرہ سنبھل کا دورہ نہ کرنے کو کہا ہے۔ اجے رائے کو دیے گئے نوٹس میں ان سے کہا گیا ہے کہ سنبھل ضلع میں امن اور فرقہ وارانہ حساسیت کو ذہن میں رکھتے ہوئے وہ عوامی مفاد میں تعاون کریں۔

سماجوادی پارٹی کی 15 رکنی وفد سنبھل تشدد کے متاثرین س ملنے جانے والا تھا، لیکن اپوزیشن لیڈراورسماجوادی پارٹی کے لیڈر پرساد پانڈے کوڈی ایم نے فون کرکے منع کردیا۔

کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ سنبھل میں جس طرح کے حادثات ہوئے ہیں۔ اس سے ایک بات تو واضح ہے کہ ہماری جان کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ گولیاں چلائی جارہی تھیں، جسم سے گولی آرپارہو رہی ہے۔

سنبھل کے رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق نے کہا کہ سنبھل میں جو بھی کچھ ہوا، اس کے لئے پوری طرح سے پولیس انتظامیہ ذمہ دار ہے۔ اس کے علاوہ وہاں جو حرکت کی گئی، اس کے ذمہ دارکے کے بشنوئی اورانوج چودھری ہیں۔

جمعیت علماء ہند کا کہنا ہے کہ مولانا محمود مدنی سنبھل کے حالات سے بہت غمزدہ ہیں، اس لئے چاہتے ہیں کہ چیف جسٹس آف انڈیا از خود ان حالات کا نوٹس لیں۔ جمعیت آئین کے محافظ چیف جسٹس آف انڈیا کے پاس آئی ہے اورامید کرتی ہے کہ وہ انصاف کے علمبردار کے طورپراس درخواست پرفوری غورکریں گے۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ سنبھل سانحہ لاقانونیت، نا انصافی اورظلم وبربریت کی ایک زندہ تصویرہے، جسے ملک ہی نہیں پوری دنیا کے لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، یہ سانحہ یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ یک رخی اور نظریاتی سیاست ملک کوکہاں لے کر آگئی ہے، قانون کے محافظ قاتل بن گئے ہیں، برسوں سے پھیلائی گئی نفرت اب بندوق کی گولیوں تک آگئی ہے۔

سنبھل کی گلیوں میں سناٹا ہے۔ انتظامیہ نے دوکانیں بند کرنے کے احکامات نہیں دیئے گئے ہیں، لیکن لوگ گھروں میں ہیں۔ سنبھل میں 48 گھنٹے پہلے جو ہوا، اس کا خوف ابھی بھی لوگوں کے دلوں میں ہے۔

سنبھل تشدد سے متعلق سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادونے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس جھوٹی کہانی بتا رہی ہے۔ سماجوادی پارٹی سربراہ نے مطالبہ کیا ہے کہ مہلوکین کے اہل خانہ کی حکومت مدد کرے۔

سنبھل میں کل ہوئے تشدد کے بعد آج صورتحال قابو میں ہے۔ یہاں پرانٹرنیٹ بند کردیا گیا اوراسکولوں میں بھی چھٹی کا اعلان کردیا گیا ہے۔ پولیس نے اب تک 2750 لوگوں پرایف آئی آردرج کیا ہے۔

نائب امیرجماعت اسلامی ملک معتصم خان نے واقعہ کی غیرجانبدارانہ عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا تاکہ متعلقہ پولیس افسران کے احتساب کو یقینی بنایا جا سکے۔ ساتھ ہی متاثرین اور ان کے خاندانوں کو انصاف مل سکے۔