Sambhal Jama Masjid Row:کانگریس کے وفد کو سنبھل جانے کی اجازت نہیں،انتظامیہ کی جانب سے اجے رائے کو نوٹس
لکھنؤ پولیس نے کانگریس کے ریاستی صدر اجے رائے کو نوٹس جاری کر کے تشدد سے متاثرہ سنبھل کا دورہ نہ کرنے کو کہا ہے۔ اجے رائے کو دیے گئے نوٹس میں ان سے کہا گیا ہے کہ سنبھل ضلع میں امن اور فرقہ وارانہ حساسیت کو ذہن میں رکھتے ہوئے وہ عوامی مفاد میں تعاون کریں۔
Sambhal Violence: یوپی-دہلی بارڈرسے لے کرمرادآباد تک سیاسی گھمسان، سماجوادی پارٹی کے لیڈران کوسنبھل جانے سے روکا گیا
سماجوادی پارٹی کی 15 رکنی وفد سنبھل تشدد کے متاثرین س ملنے جانے والا تھا، لیکن اپوزیشن لیڈراورسماجوادی پارٹی کے لیڈر پرساد پانڈے کوڈی ایم نے فون کرکے منع کردیا۔
Imran Masood on Sambhal Violence: ’مسلمان کیا کریں، باہرنکلیں گے توپولیس مارے گی‘، کانگریس رکن پارلیمنٹ عمران مسعود کا بڑا بیان
کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ سنبھل میں جس طرح کے حادثات ہوئے ہیں۔ اس سے ایک بات تو واضح ہے کہ ہماری جان کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ گولیاں چلائی جارہی تھیں، جسم سے گولی آرپارہو رہی ہے۔
Ziaur Rahman Barq on Sambhal Violence: معاملہ مسجد کا، پٹھان-ترک کہاں سے آیا؟ سنبھل کے رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق نے پوچھا بڑا سوال، تشدد سے متعلق لگایا بڑا الزام
سنبھل کے رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق نے کہا کہ سنبھل میں جو بھی کچھ ہوا، اس کے لئے پوری طرح سے پولیس انتظامیہ ذمہ دار ہے۔ اس کے علاوہ وہاں جو حرکت کی گئی، اس کے ذمہ دارکے کے بشنوئی اورانوج چودھری ہیں۔
Sambhal Violence: مولانا محمود مدنی کی جمعیت علماء ہند نے بھی کھٹکھٹایا چیف جسٹس کا دروازہ، سنبھل تشدد پراز خود نوٹس لینے کا کیا مطالبہ
جمعیت علماء ہند کا کہنا ہے کہ مولانا محمود مدنی سنبھل کے حالات سے بہت غمزدہ ہیں، اس لئے چاہتے ہیں کہ چیف جسٹس آف انڈیا از خود ان حالات کا نوٹس لیں۔ جمعیت آئین کے محافظ چیف جسٹس آف انڈیا کے پاس آئی ہے اورامید کرتی ہے کہ وہ انصاف کے علمبردار کے طورپراس درخواست پرفوری غورکریں گے۔
Sambhal Violence: سنبھل جیسے سانحات روکنے کے لئے جمعیۃ علماء ہند نے کھٹکھٹایا سپریم کورٹ کا دروازہ، مولانا ارشدمدنی نے کیا یہ بڑا دعویٰ
جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ سنبھل سانحہ لاقانونیت، نا انصافی اورظلم وبربریت کی ایک زندہ تصویرہے، جسے ملک ہی نہیں پوری دنیا کے لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، یہ سانحہ یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ یک رخی اور نظریاتی سیاست ملک کوکہاں لے کر آگئی ہے، قانون کے محافظ قاتل بن گئے ہیں، برسوں سے پھیلائی گئی نفرت اب بندوق کی گولیوں تک آگئی ہے۔
Sambhal Violence: سنبھل کی شاہی جامع مسجد کی گلیوں میں خوف وہراس کا ماحول، دوکانیں بند اوربڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات
سنبھل کی گلیوں میں سناٹا ہے۔ انتظامیہ نے دوکانیں بند کرنے کے احکامات نہیں دیئے گئے ہیں، لیکن لوگ گھروں میں ہیں۔ سنبھل میں 48 گھنٹے پہلے جو ہوا، اس کا خوف ابھی بھی لوگوں کے دلوں میں ہے۔
شاہی جامع مسجد سے متعلق اکھلیش یادو کا بڑا دعویٰ- سروے ٹیم کے ساتھ تھے بی جے پی لیڈران، رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق پرلگائے جھوٹے مقدمے
سنبھل تشدد سے متعلق سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادونے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس جھوٹی کہانی بتا رہی ہے۔ سماجوادی پارٹی سربراہ نے مطالبہ کیا ہے کہ مہلوکین کے اہل خانہ کی حکومت مدد کرے۔
Sambhal Violence News: سنبھل تشدد معاملے میں شاہی جامع مسجد کے صدر گرفتار، پولیس نے کہا- ان کا رول ٹھیک نہیں
سنبھل میں کل ہوئے تشدد کے بعد آج صورتحال قابو میں ہے۔ یہاں پرانٹرنیٹ بند کردیا گیا اوراسکولوں میں بھی چھٹی کا اعلان کردیا گیا ہے۔ پولیس نے اب تک 2750 لوگوں پرایف آئی آردرج کیا ہے۔
Jamaat-E-Islami Hind on Sambhal Violence: سنبھل تشدد میں مسلم نوجوانوں کی موت پر جماعت اسلامی نے اٹھائے سوال، پولیس فائرنگ کو سماج میں بڑھتے ریاستی جبر، مذہبی تفریق اورعدم رواداری کی مثال قرار دیا
نائب امیرجماعت اسلامی ملک معتصم خان نے واقعہ کی غیرجانبدارانہ عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا تاکہ متعلقہ پولیس افسران کے احتساب کو یقینی بنایا جا سکے۔ ساتھ ہی متاثرین اور ان کے خاندانوں کو انصاف مل سکے۔





