Donald Trump Warns Hamas Over Israel Ceasefire Violation : اگر حملہ جاری رہا تو پوری طرح ختم کر دیں گے… حماس کو ٹرمپ کی سخت وارننگ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر عمل نہیں کیا تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔
Israel Hamas Ceasefire Agreement : غزہ امن منصوبے پر اہم پیش رفت، اسرائیل-حماس نے ‘پیس پلان’ کے پہلے مرحلے کو دی منظوری، 200 امریکی فوجی کریں گے نگرانی
اسرائیل اور حماس نے غزہ میں تنازع کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 'امن منصوبے' کے پہلے مرحلے کی منظوری دے دی ہے۔ اس کے تحت اسرائیلی ڈیفنس فورس غزہ کی پٹی سے ایک خاص حد کے اندر انخلاء کرے گی۔ حماس 72 گھنٹے بعد تمام مغویوں کو رہا کر دے گا۔ فریقین کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہونے کے بعد اس کی نگرانی کے لیے 200 امریکی فوجی تعینات کیے جائیں گے۔
Israel-Hamas: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ حماس ہتھیار ڈال دے، تو اس کے رہنماؤں کو غزہ سے نکلنے دیا جائے گا، امریکی صدر ٹرمپ کے منصوبے پر عمل کر رہی اسرائیل فوج
فلسطین پر لگاتار اسرائیلی بمباری کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اتوار کے روز ہتھیار ڈالنے کی شرط پر حماس کے لیڈران کو غزہ کی پٹی سے نکلنے دینے کی پیش کش کی ہے۔
US direct talks with Hamas: حماس کے ساتھ امریکہ کے براہ راست مذاکرات سے اسرائیل بے چین، ٹرمپ کے ایلچی نے کہا ہم اسرائیل کے ایجنٹ نہیں ہیں
حماس ثالثوں اور ٹرمپ کے ایلچی کی کوششوں سے نرمی سے نمٹی ہے۔ یہ بھی واضح کیا گیا کہ حماس متوقع مذاکرات کے نتائج کا انتظار کر رہی ہے ۔ جنگ بندی کے معاہدے پر رضامندی اور اس کے دوسرے مرحلے میں جانے کی ذمہ داری اسرائیل کی ہے۔
Shehbaz Sharif on Israel–Hamas Ceasefire: غزہ جنگ بندی معاہدہ مستقل جنگ بندی میں تبدیل ہوجائے گا، پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف پُرامید
جنگ بندی کا پہلا مرحلہ یکم مارچ کومکمل ہونے والا ہے۔ تاہم جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ اتوارکے روزاسرائیلی فوج نے اسی سلسلے میں کارروائیوں میں توسیع کا اعلان کیا ہے۔
Israeli forces continued raids: جنگ بندی معاہدے کو خطرہ لاحق،ٹوٹ سکتی ہے جنگ بندی،اسرائیل چل رہا ہے مکروہ چال،حماس کا دعویٰ
حماس اسرائیل کے ساتھ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے دوسرے مرحلے میں شرکت کے لیے اب بھی تیار ہے۔ ہم اب بھی مذاکرات میں جانے کے لیے تیار ہیں لیکن اسرائیل ان مذاکرات کو شروع کرنے میں تاخیر کر رہا ہے۔
Israel-Hamas Ceasefire: حماس نے رہا کئے 4 اسرائیلی فوجی، جنگ بندی معاہدہ کے تحت اسرائیل 200 فلسطینی قیدیوں کو کرے گا رہا
چاروں یرغمالیوں کو جیسے ہی غزہ میں ریڈ کراس کوسونپا گیا، تل ابیب کے ایک چوک پرخوشی کی لہردوڑگئی، جہاں یرغمالیوں کی فیملی اوردوست جمع ہوئے تھے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق، بڑی اسکرین پرچاروں کی رہائی کولائیودکھایا گیا اورتل ابیب میں لوگوں کوروتے ہوئے، مسکراتے ہوئے اورایک دوسرے کوگلے لگاتے ہوئے دیکھا گیا۔
Israel-Hamas Ceasefire: سیز فائر معاہدہ کے تحت اسرائیل نے 90 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا، حماس نے بھی تین اسرائیلی یرغمالیوں کو چھوڑا
حماس اور اسرائیل کے درمیان 7 اکتوبر2023 سے جاری جنگ کے لئے جنگ بندی معاہدہ ہوگیا ہے۔ اس طرح سے دونوں ممالک میں خوشی کی لہر دیکھنے کو مل رہی ہے۔
Israel-Hamas Ceasefire: کیا گر جائے گی اسرائیلی وزیر اعظم کی سرکار؟، کئی لیڈران نے دی استعفے کی دھمکی، نیتن یاہو کو غزہ میں جنگ بندی کو لے کر اندرونی دباؤ کا سامنا
غزہ پٹی میں اسرائیلی حملوں میں 46000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔ اسرائیل نے 17000 سے زائد جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے، حالانکہ اس بارے میں کوئی واضح ثبوت فراہم نہیں کیا گیا ہے۔
Hostage families surround Netanyahu’s office: یرغمالیوں کے اہل خانہ نے وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر کو گھیرا، لبنان سے جنگ بندی کے بعد غزہ معاہدے کا مطالبہ
اسرائیل اور حماس کی لڑائی کو روکنے اور بقیہ یرغمالیوں کو واپس لانے کے لیے امریکہ، مصر اور قطر کی ثالثی میں کئی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ حماس کا زور جنگ کے خاتمے اور تمام آئی ڈی ایف فورسز کو واپس بلانے پر رہا ہے۔ دوسری جانب نیتن یاہو نے ان شرائط کو مسترد کر دیا ہے۔ حماس ہزاروں فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کر رہا ہے۔





