Bharat Express

Israel–Hamas ceasefire

فلسطین پر لگاتار اسرائیلی بمباری کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اتوار کے روز ہتھیار ڈالنے کی شرط پر حماس کے لیڈران کو غزہ کی پٹی سے نکلنے دینے کی پیش کش کی ہے۔

حماس ثالثوں اور ٹرمپ کے ایلچی کی کوششوں سے نرمی سے نمٹی ہے۔ یہ بھی واضح کیا گیا کہ حماس متوقع مذاکرات کے نتائج کا انتظار کر رہی ہے ۔ جنگ بندی کے معاہدے پر رضامندی اور اس کے دوسرے مرحلے میں جانے کی ذمہ داری اسرائیل کی ہے۔

جنگ بندی کا پہلا مرحلہ یکم مارچ کومکمل ہونے والا ہے۔ تاہم جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ اتوارکے روزاسرائیلی فوج نے اسی سلسلے میں کارروائیوں میں توسیع کا اعلان کیا ہے۔

حماس اسرائیل کے ساتھ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے دوسرے مرحلے میں شرکت کے لیے اب بھی تیار ہے۔ ہم اب بھی مذاکرات میں جانے کے لیے تیار ہیں لیکن اسرائیل ان مذاکرات کو شروع کرنے میں تاخیر کر رہا ہے۔

چاروں یرغمالیوں کو جیسے ہی غزہ میں ریڈ کراس کوسونپا گیا، تل ابیب کے ایک چوک پرخوشی کی لہردوڑگئی، جہاں یرغمالیوں کی فیملی اوردوست جمع ہوئے تھے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق، بڑی اسکرین پرچاروں کی رہائی کولائیودکھایا گیا اورتل ابیب میں لوگوں کوروتے ہوئے، مسکراتے ہوئے اورایک دوسرے کوگلے لگاتے ہوئے دیکھا گیا۔

حماس اور اسرائیل کے درمیان 7 اکتوبر2023 سے جاری جنگ کے لئے جنگ بندی معاہدہ ہوگیا ہے۔ اس طرح سے دونوں ممالک میں خوشی کی لہر دیکھنے کو مل رہی ہے۔

غزہ پٹی میں اسرائیلی حملوں میں 46000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔  اسرائیل نے 17000 سے زائد جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے، حالانکہ اس بارے میں کوئی واضح ثبوت فراہم نہیں کیا گیا ہے۔

اسرائیل اور حماس کی لڑائی کو روکنے اور بقیہ یرغمالیوں کو واپس لانے کے لیے امریکہ، مصر اور قطر کی ثالثی میں کئی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ حماس کا زور جنگ کے خاتمے اور تمام آئی ڈی ایف فورسز کو واپس بلانے پر رہا ہے۔ دوسری جانب نیتن یاہو نے ان شرائط کو مسترد کر دیا ہے۔ حماس ہزاروں فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کر رہا ہے۔

منگل کے روز امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے بعد لبنانی فوج ایک بار پھر اس کی سرزمین پر قبضہ کر لے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’’اگلے 60 دنوں کے دوران، اسرائیل آہستہ آہستہ اپنی باقی افواج کو واپس بلا لے گا۔

غزہ میں 11 ماہ سے جاری جنگ کو روکنے کی تمام کوششیں کی جارہی ہیں۔ ہفتہ کے روز غزہ کی سرنگ سے 6 یرغمالیوں کی لاش ملنے کے بعد اسرائیل کے لوگوں میں کافی ناراضگی ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ نیتن یاہو حکومت جلدازجلد حماس کے ساتھ سیز فائرمعاہدہ کرے، لیکن اتحادی کابینہ کے وزراء اسے روکنے کے لئے پوری طاقت لگا رہے ہیں۔