Bharat Express DD Free Dish

Israel–Hamas ceasefire

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے اسرائیل کے ساتھ جنگ ​​بندی کے معاہدے پر عمل نہیں کیا تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔

اسرائیل اور حماس نے غزہ میں تنازع کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 'امن منصوبے' کے پہلے مرحلے کی منظوری دے دی ہے۔ اس کے تحت اسرائیلی ڈیفنس فورس غزہ کی پٹی سے ایک خاص حد کے اندر انخلاء کرے گی۔ حماس 72 گھنٹے بعد تمام مغویوں کو رہا کر دے گا۔ فریقین کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہونے کے بعد اس کی نگرانی کے لیے 200 امریکی فوجی تعینات کیے جائیں گے۔

فلسطین پر لگاتار اسرائیلی بمباری کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اتوار کے روز ہتھیار ڈالنے کی شرط پر حماس کے لیڈران کو غزہ کی پٹی سے نکلنے دینے کی پیش کش کی ہے۔

حماس ثالثوں اور ٹرمپ کے ایلچی کی کوششوں سے نرمی سے نمٹی ہے۔ یہ بھی واضح کیا گیا کہ حماس متوقع مذاکرات کے نتائج کا انتظار کر رہی ہے ۔ جنگ بندی کے معاہدے پر رضامندی اور اس کے دوسرے مرحلے میں جانے کی ذمہ داری اسرائیل کی ہے۔

جنگ بندی کا پہلا مرحلہ یکم مارچ کومکمل ہونے والا ہے۔ تاہم جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ اتوارکے روزاسرائیلی فوج نے اسی سلسلے میں کارروائیوں میں توسیع کا اعلان کیا ہے۔

حماس اسرائیل کے ساتھ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے دوسرے مرحلے میں شرکت کے لیے اب بھی تیار ہے۔ ہم اب بھی مذاکرات میں جانے کے لیے تیار ہیں لیکن اسرائیل ان مذاکرات کو شروع کرنے میں تاخیر کر رہا ہے۔

چاروں یرغمالیوں کو جیسے ہی غزہ میں ریڈ کراس کوسونپا گیا، تل ابیب کے ایک چوک پرخوشی کی لہردوڑگئی، جہاں یرغمالیوں کی فیملی اوردوست جمع ہوئے تھے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق، بڑی اسکرین پرچاروں کی رہائی کولائیودکھایا گیا اورتل ابیب میں لوگوں کوروتے ہوئے، مسکراتے ہوئے اورایک دوسرے کوگلے لگاتے ہوئے دیکھا گیا۔

حماس اور اسرائیل کے درمیان 7 اکتوبر2023 سے جاری جنگ کے لئے جنگ بندی معاہدہ ہوگیا ہے۔ اس طرح سے دونوں ممالک میں خوشی کی لہر دیکھنے کو مل رہی ہے۔

غزہ پٹی میں اسرائیلی حملوں میں 46000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔  اسرائیل نے 17000 سے زائد جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے، حالانکہ اس بارے میں کوئی واضح ثبوت فراہم نہیں کیا گیا ہے۔

اسرائیل اور حماس کی لڑائی کو روکنے اور بقیہ یرغمالیوں کو واپس لانے کے لیے امریکہ، مصر اور قطر کی ثالثی میں کئی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ حماس کا زور جنگ کے خاتمے اور تمام آئی ڈی ایف فورسز کو واپس بلانے پر رہا ہے۔ دوسری جانب نیتن یاہو نے ان شرائط کو مسترد کر دیا ہے۔ حماس ہزاروں فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کر رہا ہے۔