Bharat Express DD Free Dish

Israeli forces continued raids: جنگ بندی معاہدے کو خطرہ لاحق،ٹوٹ سکتی ہے جنگ بندی،اسرائیل چل رہا ہے مکروہ چال،حماس کا دعویٰ

حماس اسرائیل کے ساتھ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے دوسرے مرحلے میں شرکت کے لیے اب بھی تیار ہے۔ ہم اب بھی مذاکرات میں جانے کے لیے تیار ہیں لیکن اسرائیل ان مذاکرات کو شروع کرنے میں تاخیر کر رہا ہے۔

حماس کے پولیٹیکل بیورو کے رکن باسم نعیم نے بتایا ہے کہ فلسطینی مزاحمتی تنظیم غزہ جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کے لیے کسی بھی رکاوٹ پر قابو پانے کے لیے تیار ہے لیکن اسرائیل اس معاہدے کو کمزور کرنے کے لیے ’مکروہ کھیل‘ کھیل رہا ہے۔حماس کے ایک سینیئر عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کی “عدم تعمیل” نے اسے تباہ ہونے کے خطرے میں ڈال دیا ہے۔حماس کے سیاسی بیورو کے رکن باسم نعیم نے ایجنسی فرانس پریس کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ جس چیز کو ہم پہلے مرحلے پر عمل درآمد میں تاخیر اور عزم کی کمی کے طور پر دیکھ رہے ہیں وہ یقینی طور پر معاہدے کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ اس صورت حال میں معاہدہ رُک سکتا یا ٹوٹ سکتا ہے۔

باسم نعیم نے زور دیا کہ حماس اسرائیل کے ساتھ “جنگ میں واپسی” نہیں چاہتی۔ انہوں نے کہا جنگ میں واپسی یقینی طور پر ہماری خواہش اور نہ ہی ہمارا فیصلہ ہے۔ انہوں نے کہا حماس اسرائیل کے ساتھ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے دوسرے مرحلے میں شرکت کے لیے اب بھی تیار ہے۔ ہم اب بھی مذاکرات میں جانے کے لیے تیار ہیں لیکن اسرائیل ان مذاکرات کو شروع کرنے میں تاخیر کر رہا ہے۔یہ بات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ہفتے کے روز اسرائیلی میڈیا نے اطلاع دی تھی کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے جنگ بندی مذاکرات کے اگلے مرحلے میں شرکت کے لیے ایک وفد دوحہ بھیجا ہے۔

واضح رہے کہ جنگ بندی کے معاہدے کے نافذ العمل ہونے کے بعد سے غزہ کی پٹی میں داخل ہونے والی امداد کی رقم کتنی ہے۔شمالی سینا کے گورنر میجر جنرل خالد مجاور نے العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحادث ڈاٹ نیٹ کو خصوصی بیانات دیتے ہوئے کہا کہ مصر نے جنگ بندی کے آغاز سے اب تک فلسطینی علاقوں میں داخل ہونے والی کل انسانی امداد کا 80 فیصد فراہم کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ رفح کے راستے داخل ہونے والے ٹرکوں کی تعداد 3300 سے تجاوز کرگئی ہے۔ جس میں 430 انسانی امدادی ٹرک شامل ہیں۔ 238 ایندھن اور کھانا پکانے والی گیس کے ٹرک اس کے علاوہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ فضائی اور سمندری راستے سے بھیجی جانے والی امداد 22 بحری جہازوں اور 3000 سے زائد طیاروں کے ذریعے العریش کے ہوائی اڈے اور بندرگاہ پر پہنچی ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read