Bharat Express DD Free Dish

US direct talks with Hamas: حماس کے ساتھ امریکہ کے براہ راست مذاکرات سے اسرائیل بے چین، ٹرمپ کے ایلچی نے کہا ہم اسرائیل کے ایجنٹ نہیں ہیں

حماس ثالثوں اور ٹرمپ کے ایلچی کی کوششوں سے نرمی سے نمٹی ہے۔ یہ بھی واضح کیا گیا کہ حماس متوقع مذاکرات کے نتائج کا انتظار کر رہی ہے ۔ جنگ بندی کے معاہدے پر رضامندی اور اس کے دوسرے مرحلے میں جانے کی ذمہ داری اسرائیل کی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کے یرغمالیوں کے حوالے سے خصوصی ایلچی ایڈم بوہلر نے کہا ہے کہ غزہ میں یرغمالیوں سے متعلق معاہدہ چند ہفتوں میں ممکن ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی سفیر ایڈم بوہلر نے کہا ہے کہ حماس کےساتھ براہِ راست ملاقات بہت مددگار رہی ہے۔ایڈم بوہلر نے کہا ہے کہ امریکا حماس بات چیت پر اسرائیل کی تشویش کو سمجھتے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ یقین ہے کہ یرغمالیوں کی رہائی کا معاہدہ ہفتوں میں طے پا جائے گا، یہ ایسا معاہدہ ہو گا جس کے تحت امریکی ہی نہیں تمام قیدی رہا ہو سکیں گے۔اسرائیلی حکام کی جانب سے امریکا اور حماس کے درمیان مذاکرات پر تنقید کے بعد گزشتہ روز امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے ایڈم بوہلر نے کہا کہ ’ہم امریکا ہیں، ہم اسرائیل کے ایجنٹ نہیں ہیں‘ ۔

غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق ایڈم بوہلر کے مذاکرات کا مقصد بنیادی طور پر غزہ میں قید امریکی یرغمالیوں کی رہائی کو یقینی بنانا تھا، انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ چند ہفتوں میں اس حوالے سے کوئی پیش رفت ہو سکتی ہے۔ایک اسرائیلی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں ایڈم بوہلر نے انکشاف کیا کہ حماس نے 5 سے 10 سال کے لیے جنگ بندی کی پیشکش کی ہے جس کے دوران وہ اپنے ہتھیار ڈال کر غزہ کی سیاسی قیادت سے الگ ہو جائے گی۔ایڈم بوہلر نے کہا کہ حماس نے تمام قیدیوں کے تبادلے اور 5 سے 10 سال کی جنگ بندی کی تجویز دی تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ حماس نے اس پر باضابطہ طور پر اتفاق نہیں کیا ہے۔خبررساں ایجنسی کے مطابق ایڈم بوہلر کے بیانات کے بعد اسرائیلی حکام میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے، اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی اسٹریٹجک امور کے وزیر رون ڈرمر نے ان مذاکرات کے حوالے سے بوہلر پر سخت تنقید کی۔

ادھر مذاکرات کے بعد  حماس نے انکشاف کیا کہ بات چیت جنگ روکنے اور غزہ کی پٹی سے اسرائیلی انخلا پر مرکوز تھی۔ حماس نے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ مصری اور قطری ثالثوں اور ٹرمپ کے ایلچی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں جنگ کے خاتمے، اسرائیل کے پٹی سے انخلاء اور غزہ کی تعمیر نو پر توجہ مرکوز کی گئی۔

یہ بھی کہا گیا کہ حماس ثالثوں اور ٹرمپ کے ایلچی کی کوششوں سے نرمی سے نمٹی ہے۔ یہ بھی واضح کیا گیا کہ حماس متوقع مذاکرات کے نتائج کا انتظار کر رہی ہے ۔ جنگ بندی کے معاہدے پر رضامندی اور اس کے دوسرے مرحلے میں جانے کی ذمہ داری اسرائیل کی ہے۔ ایڈم بوہلر نے اتوار کی شام کو دیے گئے بیانات میں زور دیا کہ ان کا ملک غزہ جنگ کے خاتمے اور تمام قیدیوں کی رہائی کے لیے پرعزم ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read