Bharat Express DD Free Dish

Israel-Gaza War

غزہ جنگ کی وجہ سے اسرائیل میں یرغمالیوں کا بحران گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ موساد کے سابق اہلکاروں نے ایک خط جاری کیا ہے، جس میں حکومت سے جنگ بندی کا اعلان کرنے اورمغویوں کو بحفاظت رہا کرنے کا کہا گیا ہے۔

سعودی وزیرِخارجہ فیصل بن فرحان نے جنوبی ترکیہ میں اپنے علاقائی ہم منصبوں کے ساتھ ایک ملاقات کے بعد کہا، میں غزہ کی پٹی میں امداد کی مسلسل اورمناسب روانی کو یقینی بنانے کے لیے زیادہ سے زیادہ دباؤ کے استعمال کا مطالبہ کرتا ہوں۔

فلسطینی پناہ گزینوں کے لئے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (انروا) کے کمشنر جنرل نے اسرائیلی حملوں کے دوبارہ شروع ہونے کے بعد سے غزہ کی پٹی میں روزانہ کم از کم 100 بچوں کی ہلاکت اورزخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسیف) نے بچوں کے قتل عام کو ہولناک قراردیا ہے۔

اسرائیل مسلسل غزہ میں اپنے فوجی مہم جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس سلسلے میں اس نے غزہ کے کچھ حصوں کے لیے جامع انخلاء کے احکامات جاری کیے ہیں۔ بنجامن نیتن یاہو نے واضح طورپرکہا ہے کہ ان علاقوں کو جلد ازجلد خالی کردیا جائے۔ دوسری جانب، اسرائیل کے انخلاء کے حکم کے حوالے سے اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ جنگ بندی ٹوٹنے کے بعد سے تقریباً 280,000 فلسطینی جبری طور پر بے گھرہوچکے ہیں۔

ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر کے صدر مولانا محمد رحمانی مدنی نے خطبہ عیدالفطر کے دوران اللہ تعالی کے وعدوں کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ اللہ نے مؤمنوں کی نصرت کو اپنے اوپر واجب کرنے، مؤمنوں کا دفاع کرنے نیز مؤمنوں کو دنیا میں عزت ووقارعطا کرنے اورغلبہ اورخلافت سے نوازنے کا وعدہ فرمایا ہے۔

اسرائیل نے غزہ کے حوالے سے مصر کی نئی تجویز پر جواب دینے کے لیے مہلت طلب کی ہے۔ العربیہ نیوز کے مطابق اسرائیل غزہ کی پٹی سے حماس کے ہتھیار لیے جانے کے واسطے ٹائم ٹیبل وضع کرنا چاہتا ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل اخبارنے واضح کیا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ اوریرغمالیوں کی رہائی میں پیش رفت نہ ہونے کے بیچ اسرائیلی حکام غزہ کی پٹی میں لڑائی کی کارروائیوں میں کامیاب ہو جائیں گے۔ بالخصوص جبکہ اسرائیل کے ہتھیاروں اورگولہ بارود کے ذخائرکی تجدید ہوچکی ہے۔

فلسطین کے صدر محمود عباس اور غزہ کے شہریوں نے بھی ڈونالڈ ٹرمپ کی پیشکش کو ازسرنو مسترد کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کبھی نہیں ہوسکتا ہے۔ ہاں ہم تکلیف میں ہیں، لیکن یہودیوں کے لئے ہم اپنا ملک نہیں چھوڑیں گے۔

غزہ پٹی میں اسرائیلی حملوں میں 46000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔  اسرائیل نے 17000 سے زائد جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے، حالانکہ اس بارے میں کوئی واضح ثبوت فراہم نہیں کیا گیا ہے۔

اسرائیل نے جمعرات کو غزہ پٹی میں تازہ ہوائی حملے کئے، جس میں 26 افراد مارے گئے۔ ان حملوں میں حماس کے سیکورٹی اہلکاروں اوراسرائیل کے اعلان کردہ انسانی زون کوبھی نشانہ بنایا گیا۔ مُواسی کے علاقے میں 3 بچوں سمیت 10 افراد جاں بحق ہوگئے۔ اسرائیل نے پولیس فورسزاورمقامی کمیٹیوں کونشانہ بنایا جس سے غزہ میں امن وامان پربھی بڑااثرپڑا۔