Bharat Express DD Free Dish

Israel-Gaza War

اقوام متحدہ (یواین) میں ووٹنگ اسرائیل کے لئے ایک چیلنج پیش کرتا ہے اوربین الاقوامی برادری میں ملک کی صورتحال کو مزید کمزورکرسکتا ہے۔

تقریباً ایک سال سے غزہ میں حماس کے خلاف جنگ لڑ رہے اسرائیل کی مشکلات کم نہیں ہورہی ہیں۔ رفح بارڈر پرواقع فیلوڈیلفی کاریڈورپرکنٹرول سے متعلق اب مصر کے ساتھ تنازعہ بڑھتا جا رہا ہے۔ مصرنے بنجامن نیتن یاہوکے رفح بارڈرسے ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے دعووں کی مذمت کی ہے اورعلاقے سے اسرائیلی فوجیوں کی واپسی کے لئے ڈیڈ لائن کا مطالبہ کیا ہے۔

غزہ کی پٹی میں شہری دفاع کے اعلان کے مطابق حملے میں کم از کم 40 افراد جاں بحق اور 60 زخمی ہو گئے۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نے حماس کی کمان کے مرکز کو نشانہ بنایا ہے۔

غزہ-اسرائیل جنگ بندی کے درمیان اسرائیل نے غزہ-مصرکاریڈور سے متعلق ایک ایسی شرط رکھ دی ہے، جس پراب سعودی عرب نے بھی اسرائیل کی مذمت کی ہے۔ اسرائیل کی اس شرط کے خلاف سعودی عرب نے مصرکی مکمل حمایت کی ہے۔

کیمپ کی گلیوں کے اندراورشہرکے متعدد علاقوں میں جھڑپیں جاری ہیں۔ چھتوں پراسنائپرزتعینات ہیں۔ نامہ نگار کے مطابق، شہرمیں تباہی کی حد بہت زیادہ ہے۔

سی آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹرڈیوڈ کوہن نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ جنگ بندی کا معاہدہ اب حماس رہنما کے ہاتھ میں ہے۔ انہوں نے یحییٰ شنوارکا نام لئے بغیرکہا کہ اسرائیل اورحماس کے درمیان جنگ بندی معاہدے کی قسمت بڑی حد تک ایک سوال ہے، جس کا جواب حماس کے رہنما دے سکتے ہیں۔

فلسطینی سیکورٹی ذرائع نے بدھ کے روز بتایا کہ ایک اسرائیلی جنگی طیارے نے دیر البلاح شہر کے مشرق میں المنفالوتی اسکول کے قریب میزائل سے حملہ کیا۔ اس دوران، اسرائیل کی دفاعی افواج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے نیٹزارم راہداری میں درجنوں عسکریت پسندوں کو ہلاک اور سینکڑوں انفراسٹرکچر کو تباہ کر دیا ہے۔

سعودی عرب نے غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے امریکی، مصری اور قطری سربراہان کے مشترکہ بیان کا خیرمقدم کیا تھا۔ سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں باور کرایا گیا ہے کہ مملکت غزہ میں فائر بندی اور خراب انسانی صورت حال کے معالجے کے لئے جاری تمام کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے۔

غزہ پر اسرائیل کی جنگ میں کم از کم 40,099 افراد ہلاک اور 92,609 زخمی ہو چکے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق 7 اکتوبر کو حماس کی قیادت میں کیے گئے حملوں کے دوران اسرائیل میں 1,139 افراد ہلاک اور 200 سے زائد کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔

جماعت اسلامی ہند نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں 38 ہزارسے زیادہ فلسطینی ہلاک کئے جا چکے ہیں، جن میں نصف سے زیادہ بچے اورخواتین ہیں۔ غزہ میں اسکولوں، اسپتالوں، امدادی کیمپوں، اقوام متحدہ کے مشنوں، صحافیوں، امدادی کارکنوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہورہی ہے۔