Bharat Express DD Free Dish

Israel-Gaza War

اسرائیلی فوج خان یونس سے پیچھے ہٹ گئی ہے۔ اسرائیل کا پیچھے ہٹنا فلسطینیوں کے لئے راحت نہیں بلکہ تشویش کی بات ہے۔ اسرائیلی افسران نے اس کے پیچھے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ فوجیوں کی واپسی اگلے پلان کا حصہ ہے، کیونکہ فوج حماس کے آخری گڑھ رفح میں جانے کی تیاری کررہی ہے۔

سید جلال الدین نے کہا کہ حماس سے جنگ تھی تو ہوتی اور جو جنگی قوانین ہیں ان پر عمل کیا جاتا لیکن گریٹر اسرائیل بنانے کا خواب لیے اسرائیل غزہ میں نسل کشی پر آمادہ ہے۔

اسرائیل اپنے دشمنوں کی جانکاری جمع کرنے اوراس کی بنیاد پر ہدف کو چننے اوراسے برباد کرنے میں آرٹیفیشیل انٹلی جنس کا جم کراستعمال کر رہا ہے۔ اسرائیلی سیکورٹی سے منسلک لوگوں کے مطابق، اسرائیل نے گاسپیل نام سے ایک اے آئی سسٹم تیارکیا ہے۔

اسرائیل کی جانب سے غزہ پرمسلسل حملے کئے جا رہے ہیں۔ اس حملے میں عام شہری اور امدادی کاموں میں مصروف لوگ بھی مارے جا رہے ہیں۔ اس حوالے سے امریکہ اور برطانیہ اسرائیل سے ناراض ہیں۔ جو بائیڈن نے اسرائیل کو دھمکی دی ہے۔

اسرائیل کے وزیرتوانائی ایلی کوہن نےزوردے کرکہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے اہداف اورمفادات اسرائیل کے بغیرحاصل نہیں ہوسکتے۔ اگراسرائیل مدد نہیں کرے توامریکہ کے لئے خطے میں اپنے مفادات کا حصول ممکن نہیں۔

حملے کے فوراً بعد سائپرس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ امدادی سامان کے ساتھ بھیجے گئے جہاز واپس لوٹ رہے ہیں اور تقریباً 240 ٹن امدادی سامان جہاز سے نہیں اتارا جا سکا۔

صدر کی ڈیموکریٹک پارٹی کو خدشہ ہے کہ بائیڈن کے لیے مسلمانوں کی کم ہوتی حمایت ری پبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔

مظاہرین اور مظاہروں میں سے بہت ساروں کی قیادت یرغمالیوں کے اہل خانہ کرتے رہے ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ نیتن یاہو حکومت ان کے عزیزوں کو رہائی دلانے کے لیے نہیں ہے بلکہ قوم کو تقسیم کر کے اس پر حکمرانی کے لیے ہے۔

وائٹ ہاؤس کی طرف سے جاری کردہ جو بائیڈن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ 'عرب امریکیوں کے غزہ جنگ کے حوالے سے درد کو سمجھنے کے لئے جنگ میں کچھ دیرکے لئے وقفہ کرلینا چاہئے۔'

پولیٹیکو میگزین نے جمعرات کو رپورٹ کیا کہ اگرچہ ان خیالات میں زمین پر امریکی فوجیوں کی تعیناتی شامل نہیں لیکن وہ پینٹاگون کو کثیرالقومی فوج یا فلسطینی امن دستے کے لیے فنڈزفراہم کرنے کی تجویز پیش کرتے ہیں۔