Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

امریکی سفارت خانے نے کہا کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ نے سعودی عرب کے خلاف حملوں میں حصہ لیا ہے، جن میں شہری ہوائی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ سفارت خانے کے مطابق، یہ فوجی تنازع بہت تیزی سے شدت اختیار کر سکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق محسن رضائی نے کہا کہ ایران قطر کے رابطے میں ہے اور ٹرمپ کے جواب کا انتظار کر رہا ہے۔ رضائی کے مطابق ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کے لیے 7 شرائط رکھی ہیں۔ان شرائط میں تمام محاذوں پر جنگ ختم کرنا، روکے گئے ایرانی فنڈز جاری کرنا اور سمندری ناکہ بندی ختم کرنا شامل ہے۔

بھارتی آئی ٹی پروفیشنلز اور امریکی کمپنیوں پر کیا ہوگا اثر؟ موجودہ ویزا ہولڈرز اور امریکہ میں موجود غیر ملکی گریجویٹس کو ملے گی رعایت

امریکی حکام کے مطابق روس اور چین جیسے ممالک کی گرین لینڈ میں حساس سرمایہ کاری کی صلاحیت بھی محدود کی جائے گی اور انہیں وہاں فوجی اڈہ قائم کرنے سے روکا جائے گا۔ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا گرین لینڈ میں اپنی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ کرنے کا عمل شروع کرے گا۔

قانون میں امریکا کے یورپی اتحادیوں کو بعض پابندیوں سے بچانے کے لیے بھی گنجائش رکھی گئی ہے۔ ایسے ممالک کو استثنیٰ دیا جا سکتا ہے جن کی روس سے قدرتی گیس کی درآمد، روس کی مجموعی گیس برآمدات کے 15 فیصد سے کم ہو اور جو ان درآمدات کو کم کرنے کے لیے اہم اقدامات کر رہے ہوں۔

برکس سربراہ اجلاس 2026: برکس سربراہ اجلاس کے دوران ایران اور متحدہ عرب امارات کے لیڈرز کی ملاقات نے مغربی ایشیا میں امن کی امید پیدا کی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ وسط مدتی انتخابات کے بعد ختم ہو جائے گی۔

برکس سربراہی کانفرنس میں امن مذاکرات: برکس سربراہی کانفرنس کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی اور چین کے صدر شی جن پنگ نے یوکرین جنگ ختم کرنے کے لیے امن مذاکرات میں مدد کی پیشکش کی۔

وال اسٹریٹ جرنل نے بدھ کو امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور دیگر اعلیٰ حکام نے ٹرمپ کے ساتھ جنگ کے طویل عرصے تک جاری رہنے کے امکان پر بات چیت کی ہے۔رپورٹ کے مطابق، ایران امریکی دباؤ، ناکہ بندی اور دیگر فوجی اقدامات کے باوجود پیچھے ہٹنے سے انکار کر سکتا ہے۔ ایسی صورت میں یہ تنازع جنوری 2029 میں ٹرمپ کی مدتِ صدارت کے اختتام تک بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔

امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ویب سائٹ پر موجود اعداد و شمار کے مطابق، مالی سال 2026 کے لیے امیگریشن اینڈ نیشنلٹی ایکٹ (INA) کی دفعہ 201 کے تحت دنیا بھر کے لیے روزگار کی بنیاد پر ترجیحی ویزوں کی مجموعی حد 186,317 ہے۔ اس کے علاوہ کسی ایک ملک کے شہریوں کے لیے سالانہ روزگار پر مبنی امیگریشن ویزوں کی حد مجموعی سالانہ حد کے 7 فیصد تک مقرر ہے۔ 

بھارت میں امریکی سفیر سرجیو گور نے بنگلورو کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس موضوع پربات کرنے کے لیے بنگلورو سے بہتر جگہ کوئی نہیں ہوسکتی، کیونکہ یہ شہر کام کرتا ہے، چیزیں بناتا ہے اور کام کو انجام تک پہنچاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلورو انتظار کرنے والا شہر نہیں ہے اور یہاں کی انتظامیہ بھی اسی جذبے کے ساتھ کام کرتی ہے۔