Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

ٹرمپ نے 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے ووٹروں کو دھوکہ دہی کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے 10 لاکھ ڈالر کے انعام کا اعلان بھی کیا۔یہ انعام ایسے معاملات میں معلومات دینے والے شخص کو دیا جائے گا جن کے نتیجے میں کسی کی گرفتاری اور اسے سزا ملنے کی نوبت آئے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ دو برسوں کے دوران آٹھ ممالک کے انتخابات میں اپنے پسندیدہ امیدواروں اور سیاسی پارٹیوں کی حمایت کی، لیکن کینیڈا، آسٹریلیا، رومانیہ، ہنگری، برازیل اور جرمنی سمیت چھ ممالک میں ان کے حمایت یافتہ امیدواروں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

سی این این کے مطابق بعض امریکی حکام کا خیال ہے کہ ٹرمپ رواں سال کے اختتام سے پہلے کسی بھی وقت فوجی کارروائی کا حکم دے سکتے ہیں، تاہم اس کا زیادہ امکان امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ظاہر کیا جا رہا ہے۔ امریکی حکام نے اعتراف کیا ہے کہ ایرانی افواج اب امریکی فوجی حکمت عملیوں سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ واقف ہیں، جس کے باعث امریکی فوج کے لیے تمام مطلوبہ اہداف کو تباہ کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

بارک اوباما کی ٹرمپ پر سخت تنقید: امریکہ کے سابق صدر بارک اوباما نے اوہائیو میں انتخابی ریلی کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مہنگائی، ایران پالیسی، محصولات اور امیگریشن کے معاملے پر نشانہ بنایا۔ انہوں نے 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات کو جمہوری نظام کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے ووٹروں سے فعال کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔

یوکرینی حکام کے مطابق، فوجی استعمال کے لیے تیار کردہ اسٹارشیلڈ نظام پر پابندیوں کے باعث روسی فوج کی اگلی صفوں کے پیچھے کام کرنے والے بعض ڈرونز کے آپریشن میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ روسی حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والے فضائی دفاعی نظام پر بھی اثر پڑنے کی بات کہی گئی ہے۔فوجی کارروائیوں میں سیٹلائٹ مواصلات کی اہمیت کے پیش نظر اس تنازع نے یوکرین،

فرانس میں طلبہ کے احتجاج کے دوران ’بسم اللہ‘ لکھے پوسٹروں نے سیاسی اور سوشل میڈیا حلقوں میں بحث چھیڑ دی۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے اسے مسلم تارکین وطن سے جوڑا، لیکن رپورٹس کے مطابق طلبہ مبینہ خفیہ پولیس اہلکار کا مذاق اڑانے کے لیے یہ لفظ استعمال کر رہے تھے۔

بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی مذاکرات آخری مرحلے میں، مارکو روبیو نے چند ہفتوں میں معاہدہ مکمل ہونے کی ظاہر کی امید

امریکہ کے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ امریکی فوج میں 1.5 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہے۔ اس کا مقصد ہتھیاروں کی پیداوار میں تیزی لانا، خودکار جنگی صلاحیتوں کو وسعت دینا اور غیر ملکی دفاعی سپلائی چین پر انحصار کم کرنا ہے۔

قانون کے نافذ ہونے میں دو دن باقی رہنے کے دوران ٹرمپ نے اسی اختیار کا استعمال کیا۔ اپنے حکم میں انہوں نے کہا، ’’میں اس کے تحت گراہم ایکٹ میں مقرر کردہ پابندیوں، قدغنوں اور محصولات کے نفاذ سے چھوٹ دیتا ہوں۔ میں نے کانگریس کو تصدیق کرکے مطلع کیا ہے کہ اس وقت ایسی چھوٹ دینا امریکہ کے قومی مفاد میں ہے۔‘‘ٹرمپ کے اس فیصلے سے ہندوستان کو فی الحال ممکنہ امریکی ٹیرف سے راحت مل سکتی ہے،

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ یہ دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں سے ایک ہے، جہاں سے بڑی مقدار میں خام تیل اور قدرتی گیس دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچائی جاتی ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور اس وقت وہاں سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیل باہر جا رہا ہے۔ان کے مطابق، امریکی بحریہ کی کارروائیوں کی وجہ سے یہ صورت حال ممکن ہوئی ہے۔