Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

ایرانی فوج نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سکیورٹی اس کے کنٹرول میں ہے اور یہاں سے گزرنے والے جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت کے لیے اس کی مسلح افواج کے ساتھ ہم آہنگی ضروری ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ پہلے بھی جرمنی میں فوجی تعیناتی پر سخت موقف اختیار کر چکے ہیں۔ 2020 میں اپنے پہلے دورِ صدارت کے دوران انہوں نے جرمنی کو ’قصوروار‘ قرار دیتے ہوئے فوجیوں کی تعداد ایک تہائی کم کرنے کی بات کہی تھی۔ اس کی وجہ جرمنی کا کم دفاعی بجٹ اور نورڈ اسٹریم 2 کی حمایت تھی۔

ایران نے آبنائے ہرمزکوکھولنے اورامریکہ کواس کی ناکہ بندی ختم کرنے کی اجازت دینے کی تجویزپیش کی، جبکہ جوہری مذاکرات بعد میں ہوسکتے ہیں۔ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تجویز کو مسترد کردیا۔ امریکہ پہلے جوہری ہتھیاروں پرپابندی چاہتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے اور کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس کو خط لکھ کر ایران کے ساتھ فوجی دشمنی کے خاتمے کا اعلان کیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ’وار پاورز ریزولوشن‘ کی مدت کی حد اور سیاسی دباؤ اس فیصلے کی بڑی وجوہات ہو سکتی ہیں…

امریکہ، اسرائیل اور ایران تنازعہ کی وجہ سے آبنائے ہرمزجوکہ عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے ایک اہم آبی گزر گاہ ہے، گزشتہ دو ماہ سے بند ہے، جس سے عالمی سطح پرتیل اور گیس کی سپلائی پربہت زیادہ اثر پڑ رہا ہے۔

آبنائے ہرمز اور خلیج فارس عالمی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہم خطہ ہیں، جہاں سے دنیا کے بڑے حصے کو تیل سپلائی کیا جاتا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی، خاص طور پر ایران کے جوہری پروگرام اور پابندیوں کے معاملے پر، اکثر اس علاقے میں تنازعات کا باعث بنتی رہی ہے۔

امریکہ نے آبنائے ہرمز میں یہ ناکہ بندی اس وقت نافذ کی جب 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بعد کوئی معاہدہ طے نہیں پا سکا۔

ایران اور امریکہ کے درمیان پیغامات کا تبادلہ پاکستان کے ذریعے ہو رہا ہے، قابل ذکر بات یہ ہے کہ  اب تک دونوں ممالک کے درمیان کسی ٹھوس نتیجے پر اتفاق نہیں ہو سکا۔ امریکہ کا مطالبہ ہے کہ ایران آئندہ بیس سال کے لیے اپنے جوہری پروگرام کو معطل کرے اور اپنے پاس موجود افزودہ یورینیم کا ذخیرہ حوالے کرے،

امریکہ میں وائٹ ہاؤس کورسپونڈنٹس ڈنر کے دوران فائرنگ کے ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جس کی شناخت ٹورنس، کیلیفورنیا کے ایک 31 سالہ استاد کے طور پر ہوئی ہے۔ اس نے حملے سے چند منٹ پہلے اپنے خاندان کو ایک ای میل بھیجی تھی، جسے ایک سینئر عہدیدار نے ’مینی فیسٹو‘ قرار دیا ہے۔ اس مینی فیسٹو میں اس نے لکھا تھا کہ وہ ٹرمپ حکومت کے ارکان کو نشانہ بنا رہا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کمپلیکس کے اندر ایک ہائی سکیورٹی بال روم بنانے کے اپنے مطالبے کو دوبارہ دہرایا ہے۔ انہوں نے 150 سال کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فائرنگ کے واقعے جیسے واقعات وائٹ ہاؤس جیسے اہم مرکز میں اس طرح کی سہولت کی ضرورت کو واضح کرتے ہیں۔