Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

صدر ٹرمپ نے مجوزہ معاہدے کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں اور نہ ہی یہ واضح کیا کہ کس ملک کا کیا کردار ہوگا۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے بھی فی الحال اس حوالے سے کوئی اضافی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

حکام نے ابھی تک حملہ آور کی شناخت یا حملے کے مقصد کے بارے میں کوئی معلومات جاری نہیں کی ہیں۔ زخمی راہگیر کی حالت کے بارے میں بھی سرکاری طور پر کچھ نہیں بتایا گیا۔

ملاقات کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا خیر مقدم کر کے خوشی ہوئی۔ انہوں نے لکھا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان بھارت-امریکہ جامع عالمی اسٹریٹجک شراکت داری میں مسلسل ترقی، علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے معاملات پر مثبت تبادلۂ خیال ہوا۔

ایران کے معاملے پر امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑی اسٹریٹجک خلیج کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ جہاں جنگ روک کر معاہدہ چاہتے ہیں، وہیں نتن یاہو ایران کے خلاف مزید سخت فوجی کارروائی کے حامی بتائے جا رہے ہیں…

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا کہنا تھا کہ حج میں اگرایران پرحملہ ہوتا ہے تو لاکھوں عازمین پھنس جائیں گے۔ عرب کے مسلمان بھی اس سے ناراض ہوں گے۔ اس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہیں امریکہ حج ختم ہونے سے پہلے کسی معاہدے پرپہنچنا چاہتا ہے۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات امریکہ کے اتحادی سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم اب ان دونوں ممالک نے ایران جنگ میں الجھے ہوئے امریکہ کو دھمکیاں دینا شروع کردی ہیں۔ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے امریکی خزانے سے 15 ارب ڈالرنکال لئے ہیں، جس کے امریکی معیشت پرتباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی دونوں نے کھل کرایران پر مزید حملوں کی مخالفت کی ہے۔

وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکی صدر پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ حالیہ ملاقاتوں کے دوران ان کے اور شی جن پنگ کے درمیان بہتر تعلقات قائم ہوئے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق، صدر شی نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ایران کو کوئی ہتھیار نہیں بھیج رہے۔ یہ ایک اچھا وعدہ ہے اور میں ان کی بات پر بھروسہ کرتا ہوں۔

ٹرمپ نے اتوار کے روز سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ ایران کے لیے وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور انہیں جلد فیصلہ کرنا ہوگا، ورنہ ان کے پاس کچھ بھی نہیں بچے گا۔ وقت بہت قیمتی ہے۔

وہیں، امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو پھر بڑی دھمکی دی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگرایران نے جلد ہی نیوکلیئرمعاہدہ پربہترتجویزنہیں دی تو امریکہ پہلے سے کہیں زیادہ بڑا حملہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ گھڑی چل رہی ہے اورایران کے پاس زیادہ وقت نہیں بچا ہے۔ انہوں نے امریکی میڈیا ایکسیو سے بات چیت میں کہا کہ امریکہ ابھی بھی جنگ ختم کرنے کے لئے معاہدہ چاہتا ہے۔