Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

چین کی نیوزایجنسی کے مطابق، بیجنگ میں ڈونلڈ ٹرمپ کا استقبال چین کے نائب صدرنے کیا۔ نائب صدرجھینگ کے ساتھ ہوائی اڈے پربیجنگ میں امریکی سفیرڈیوڈ پڈریو، امریکہ میں چین کے سفیرشی فینگ اور چین کے نائب وزیربرائے خارجہ امورما ژاؤسوبھی موجود رہے۔

ایران نے امریکہ کی جانب سے پیش کیے گئے 14 نکاتی منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے ایک نیا مسودہ تجویز واشنگٹن کو بھیج دیا ہے۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے نئے ڈرافٹ کو مکمل طور پر رد کر دیا۔ اس کے بعد بھارت میں ایرانی سفارت خانے نے امریکی صدر کے بیان پر سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے۔

امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں کشیدگی کی بڑی وجہ 11 ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملے بھی رہے ہیں۔ واشنگٹن کو شبہ تھا کہ القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن کو پاکستان میں پناہ دی گئی تھی، اگرچہ پاکستان مسلسل اس الزام کی تردید کرتا رہا۔

امریکہ نے حال ہی میں ایران سے خام تیل خریدنے کے معاملے پر کئی چینی ریفائنریوں پر بھی پابندیاں عائد کی تھیں، جس کے بعد چین نے اپنی کمپنیوں کو ان پابندیوں کو نہ ماننے کی ہدایت دی تھی۔ بیجنگ کی وزارت خارجہ نے بارہا کہا ہے کہ وہ یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتی ہے کیونکہ ان کی بین الاقوامی قانون میں کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے۔

امریکہ نے ایران کے ڈرون اورمیزائل پروگرام سے منسلک 10 افراد اورکمپنیوں پرپابندیاں عائد کردی ہیں۔ ان کمپنیوں میں چین، ہانگ کانگ، دبئی اوربیلاروس کی کمپنیاں شامل ہیں۔ یہ اقدام ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ چین سے قبل سامنے آیا ہے۔ امریکہ کا الزام ہے کہ یہ کمپنیاں ایران کو ہتھیار اور فوجی سازوسامان فراہم کررہی تھیں۔

امریکی کورٹ آف انٹرنیشنل ٹریڈ نے ڈونالڈ ٹرمپ کے 10 فیصد عالمی ٹیرف کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ جانیے اس فیصلے کا چھوٹے کاروباریوں اور چین کے ساتھ تجارتی مذاکرات پر کیا اثر پڑے گا۔

ایرانی سفارت خانے نے مزید کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور دشمن قوتوں کی سرگرمیوں کے باعث آبنائے ہرمز کی صورتحال پہلے جیسی نہیں رہی۔ اسی لیے جہازوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ مقررہ بحری راستوں پر عمل کریں، جاری کردہ انتباہات پر توجہ دیں اور ایرانی حکام کے ساتھ مکمل رابطے میں رہیں۔

سعودی عرب نے آبنائے ہرمزمیں پروجیکٹ فریڈم کو روکنے کے لئے امریکہ پردباؤڈالا۔ سعودی عرب نے اعلان کیا کہ "آپ ایران سے لڑنے کے لئے ہمارے اڈے استعمال نہیں کر سکتے اورنہ ہی ہم اپنی فضائی حدود کو ٹیک آف کے لئے استعمال کرنے دیں گے۔"

آبنائے ہرمز میں امریکہ اورایران کے درمیان ہوئی گولی باری سے جنگ کا خطرہ بڑھا۔ تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور شیئربازار میں گراوٹ آرہی ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ جانتے ہیں کہ کیا عالمی توانائی کا بحران مزید گہرا ہو گا؟

ڈونلڈ ٹرمپ نے خاص طور پر جنوبی کوریا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ بھی اس مشن میں شامل ہو۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا، “ایران نے جنوبی کوریائی جہاز کو بھی نشانہ بنایا ہے، شاید اب جنوبی کوریا کو اس آپریشن میں حصہ لینا چاہیے۔”