Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

ایران سے متعلق کشیدگی اور سفارتی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایک وقت میں ایک ہی معاملے پر توجہ دینا پسند کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پہلے ایران کی اسلامی جمہوریہ سے متعلق معاملہ نمٹائیں گے، اس کے بعد واپسی پر وہاں ایک چھوٹا سا پڑاؤ ڈالیں گے۔

رپورٹس کے مطابق یہ قرارداد 215 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور کی گئی۔ حیران کن طور پر اس بار کچھ ریپبلکن ارکان نے بھی اپنی ہی جماعت کے مؤقف سے ہٹ کر ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر اس بل کی حمایت کی۔کم از کم چار ریپبلکن ارکان نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا،

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے مبینہ ’جبری مشقت‘ (Forced Labour) کے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے بھارت سمیت تقریباً 60 ممالک سے درآمد ہونے والی اشیا پر 12.5 فیصد تک اضافی ٹیرف (درآمدی محصول) عائد کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس اقدام کو عالمی تجارتی حلقوں میں ایک بڑے معاشی دباؤ کے حربے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے اثرات بھارتی برآمدات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

امریکی خفیہ ایجنسیوں، سی آئی اے اوراوڈی این آئی کے درمیان کشیدگی مبینہ طور پر بڑھ رہی ہے۔ تنازعہ ایران کی تشخیص، صدرکی ڈیلی انٹیلی جنس رپورٹ، کووڈ-19 کی ابتدا کی تحقیقات اورسیکورٹی کلیئرنس کی منسوخی جیسے مسائل پر تنازعات پیدا ہوئے ہیں۔ تلسی گیبارڈ کے ڈی این آئی بننے کے بعد دونوں ایجنسیوں کے درمیان تعلقات خراب ہوگئے ہیں اور معاملہ جانچ تک پہنچ گیا۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کو جیل جانے سے بچانے کے لئے ڈونلڈ ٹرمپ نے جہاں بین الاقوامی عدالت کے خلاف محاذ کھولا۔ وہیں داخلی طورپربھی انہوں نے نیتن یاہو سے متعلق کیس کو کمزور کرنے میں اہم رول نبھایا۔ اب ٹرمپ خود نیتن یاہو کے خلاف غیر پارلیمانی الفاظ کا استعمال کررہے ہیں۔

تسنیم نیوز ایجنسی نے فوجی حکام کے حوالے سے بتایا کہ اس جنگی کشتی کی رونمائی آئی آر جی سی نیوی کی جانب سے تیز رفتار اور میزائلوں سے لیس بحری صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کی مسلسل کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔

24 مئی کو عمان کے وزیر خارجہ سید بدر بن حمد البوسعیدی کی قیادت میں عمانی وفد نے ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کی سربراہی والے وفد سے ملاقات کی۔ دونوں فریقوں نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آزادانہ آمد و رفت اور خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان ٹم ہاکنز کے مطابق، حملوں میں ان مقامات کو نشانہ بنایا گیا جہاں سے میزائل لانچ کیے جا سکتے تھے، جبکہ ان ایرانی کشتیوں پر بھی کارروائی کی گئی جو سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کر رہی تھیں۔

امریکی صدر نے بھارت اور امریکہ کے تعلقات کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک پہلے کبھی اتنے قریب نہیں رہے جتنے آج ہیں۔ انہوں نے کہا، “بھارت امریکہ پر سو فیصد بھروسہ کر سکتا ہے۔ اگر کبھی بھارت کو مدد کی ضرورت پڑے تو انہیں معلوم ہے کہ کہاں فون کرنا ہے،

یہ خصوصی تقریب امریکہ کی آزادی کے اعلان کی 250ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد کی گئی تھی۔ پروگرام کے دوران جب ڈونلڈ ٹرمپ بڑی اسکرین پر نمودار ہوئے تو انہوں نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ”سرجیو، تمہیں ہمارے ملک کی نمائندگی کرنی ہوگی، لیکن میں سب کو ہیلو کہنا چاہتا ہوں۔ مجھے وزیر اعظم بہت پسند ہیں۔ مودی عظیم ہیں، وہ میرے دوست ہیں“۔