Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان ٹم ہاکنز کے مطابق، حملوں میں ان مقامات کو نشانہ بنایا گیا جہاں سے میزائل لانچ کیے جا سکتے تھے، جبکہ ان ایرانی کشتیوں پر بھی کارروائی کی گئی جو سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کر رہی تھیں۔

امریکی صدر نے بھارت اور امریکہ کے تعلقات کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک پہلے کبھی اتنے قریب نہیں رہے جتنے آج ہیں۔ انہوں نے کہا، “بھارت امریکہ پر سو فیصد بھروسہ کر سکتا ہے۔ اگر کبھی بھارت کو مدد کی ضرورت پڑے تو انہیں معلوم ہے کہ کہاں فون کرنا ہے،

یہ خصوصی تقریب امریکہ کی آزادی کے اعلان کی 250ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد کی گئی تھی۔ پروگرام کے دوران جب ڈونلڈ ٹرمپ بڑی اسکرین پر نمودار ہوئے تو انہوں نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ”سرجیو، تمہیں ہمارے ملک کی نمائندگی کرنی ہوگی، لیکن میں سب کو ہیلو کہنا چاہتا ہوں۔ مجھے وزیر اعظم بہت پسند ہیں۔ مودی عظیم ہیں، وہ میرے دوست ہیں“۔

امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر مشرق وسطیٰ کا ایک نقشہ شیئر کیا، جس میں ایران کو امریکی پرچم کے رنگوں میں دکھایا گیا ہے۔ نقشے کے اوپر ’’متحدہ ریاستہائے مشرقِ وسطیٰ‘‘ تحریر کیا گیا ہے۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس نیوز ایجنسی نے ہفتہ کو رپورٹ دی کہ اگر واشنگٹن نے لچک نہ دکھائی تو تہران کے ساتھ امن مذاکرات ناکام ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایرانی مذاکراتی ٹیم کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ ایران نے تین بنیادی شرائط پیش کی ہیں۔

صدر ٹرمپ نے مجوزہ معاہدے کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں اور نہ ہی یہ واضح کیا کہ کس ملک کا کیا کردار ہوگا۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے بھی فی الحال اس حوالے سے کوئی اضافی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

حکام نے ابھی تک حملہ آور کی شناخت یا حملے کے مقصد کے بارے میں کوئی معلومات جاری نہیں کی ہیں۔ زخمی راہگیر کی حالت کے بارے میں بھی سرکاری طور پر کچھ نہیں بتایا گیا۔

ملاقات کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا خیر مقدم کر کے خوشی ہوئی۔ انہوں نے لکھا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان بھارت-امریکہ جامع عالمی اسٹریٹجک شراکت داری میں مسلسل ترقی، علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے معاملات پر مثبت تبادلۂ خیال ہوا۔

ایران کے معاملے پر امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑی اسٹریٹجک خلیج کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ جہاں جنگ روک کر معاہدہ چاہتے ہیں، وہیں نتن یاہو ایران کے خلاف مزید سخت فوجی کارروائی کے حامی بتائے جا رہے ہیں…

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا کہنا تھا کہ حج میں اگرایران پرحملہ ہوتا ہے تو لاکھوں عازمین پھنس جائیں گے۔ عرب کے مسلمان بھی اس سے ناراض ہوں گے۔ اس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہیں امریکہ حج ختم ہونے سے پہلے کسی معاہدے پرپہنچنا چاہتا ہے۔