G-7 Summit: جی-7 سربراہ اجلاس میں روایتی گروپ فوٹو کے بعد وزیراعظم مودی اور صدر ٹرمپ کی مختصر ملاقات
جی-7 اجلاس کے موقع پر وزیراعظم مودی کی کئی اہم عالمی رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔ ان میں کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی، برطانیہ کے وزیراعظم کیر اسٹارمر اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان شامل ہیں۔ کل وزیر اعظم مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اہم دوطرفہ ملاقات بھی متوقع ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق اس ملاقات میں مجوزہ بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے کو آگے بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
Trump’s Statement on Middle East: ’’اگر میں نہ ہوتا تو اسرائیل تباہ ہو چکا ہوتا…لبنان کے معاملے میں ذمہ داری سے کام لیں نیتن یاہو…‘‘، مشرق وسطیٰ پر ٹرمپ کا بڑا بیان
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تنازع بہت طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی ایک شخص کو نشانہ بنانے کے لیے پوری عمارت کو تباہ کر دینا مناسب نہیں، کیونکہ ایسی عمارتوں میں بے گناہ افراد بھی رہتے ہیں جن کا حزب اللہ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
Iran – US Peace Deal: امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے، ٹرمپ کا بڑا اعلان؛ آبنائے ہرمز کھولنے کی بھی منظوری
شہباز شریف نے مزید بتایا کہ اس معاہدے پر باضابطہ دستخط 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہونے والی ایک خصوصی تقریب کے دوران کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ خطے میں امن و استحکام کے قیام کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوگا اور اس کے مثبت اثرات عالمی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔
US Iran Peace Deal: ٹرمپ کا بڑا دعویٰ ایران-امریکہ معاہدے پر آج ہوں گے دستخط؟، تہران نے کہا- ابھی وقت لگے گا
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی گزشتہ روز اس امید کا اظہار کیا تھا کہ معاہدہ "آنے والے چند دنوں" میں طے پا سکتا ہے۔ اسی طرح امریکی حکام کا کہنا ہے کہ معاہدے کے امکانات 80 سے 85 فیصد تک پہنچ چکے ہیں، اگرچہ بعض حساس نکات پر ابھی بھی بات چیت جاری ہے۔
Trump to Meet PM Modi in France: فرانس میں وزیر اعظم مودی سے ملاقات کریں گے صدر ٹرمپ، مجوزہ تجارتی معاہدے پر پیش رفت کا جائزہ متوقع
وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر عہدیدار نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ مجوزہ تجارتی معاہدہ ممکنہ طور پر دونوں لیڈران کے درمیان گفتگو کا ایک اہم موضوع ہوگا۔ تاہم، حکام کو یہ امید نہیں ہے کہ سربراہی اجلاس کے دوران کسی حتمی معاہدے پر دستخط ہو سکیں گے۔
West Asia Conflict: کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا ایران، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کا کیا اعلان، ایران نے کی تردید
ایران نے واضح کیا ہے کہ ابھی تک کسی حتمی معاہدے پر فیصلہ نہیں ہوا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا: ’’ابھی تک ایران کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا ہے۔‘‘ انہوں نے ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ معاہدے پر جلد دستخط ہونے والے ہیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے بھی امریکی دعوؤں پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔
US Iran conflict: امریکہ کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں، ایران کے وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ٹرمپ کے معاہدے کے دعووں کو کیا مسترد
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر امریکہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حالیہ دنوں میں بھارتی تجارتی جہازوں پر ہونے والے امریکی حملے، جن میں کم از کم تین بھارتی شہری ہلاک ہوئے، امریکہ کی جارحانہ پالیسیوں اور بین الاقوامی سمندری قوانین کی خلاف ورزی کی مثال ہیں۔
Trump Congratulates PM Modi: پی ایم مودی کے 12 سال مکمل، ٹرمپ نے اپنے انداز میں دی مبارکباد؛ بولے- “وہ بہت ہوشیار اور باصلاحیت لیڈر ہیں”
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر جاری ایک پیغام میں نریندر مودی کو بھارت کا سب سے طویل عرصے تک مسلسل منتخب رہنے والا وزیر اعظم بننے پر مبارکباد دی۔ ٹرمپ نے لکھا کہ مودی ایک مضبوط، صحت مند اور ذہین لیڈر ہیں۔
US Strikes on Iran: اپاچی ہیلی کاپٹر واقعے کے بعد امریکہ کا ایران پر بڑا حملہ، ٹرمپ نے کہا- جواب دینا ضروری تھا
امریکی حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب اسرائیل نے منگل کے روز جنوبی لبنان میں بھی اپنی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کر دی ہیں۔ گزشتہ کئی دنوں سے ایران اور اسرائیل کے درمیان جوابی حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث پورے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
H-1B Visa: امریکی عدالت سے ٹرمپ کو بڑا جھٹکا، بھارتی آئی ٹی پروفیشنلز کو ملی راحت،H-1B ویزا پر ایک لاکھ ڈالر فیس کا فیصلہ کالعدم
عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اس پالیسی کو نافذ کرنے والی سرکاری ایجنسیوں نے مقررہ قانونی طریقہ کار اور ضوابط کی مکمل پاسداری نہیں کی۔ فیصلے میں کہا گیا کہ حکومت یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی کہ امریکی کمپنیوں پر اچانک اتنی بھاری اضافی لاگت ڈالنے کی ضرورت کیوں پیش آئی اور اس اقدام کا قانونی جواز کیا تھا۔





