Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

امریکی صدر نے پھر سے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ہی حملے میں ایران کی پوری قیادت کو ختم کر سکتے تھے، لیکن پھر مذاکرات کے لیے کوئی باقی نہ رہتا۔ آخری رسومات میں اعلیٰ قیادت اور عوام کے غم کا مذاق اڑاتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہیں حیرت ہوئی کیونکہ ان کے خیال میں ایرانی عوام خامنہ ای کو پسند نہیں کرتے تھے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ 28 فروری کو ایرانی سرزمین پر اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنی نگرانی اور کنٹرول مزید سخت کر دیا ہے۔ اس کے تحت اسرائیل اور امریکہ سے وابستہ یا ان سے منسلک بحری جہازوں کی محفوظ آمد و رفت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اچھی طرح جانتے ہیں کہ ’’اصل باس کون ہے‘‘۔ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد دونوں لیڈروں کی ممکنہ وائٹ ہاؤس ملاقات پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔

عباس عراقچی نے کہا کہ ایرانی عوام اور قیادت کے خلاف کسی بھی قسم کی دھمکی یا جارحانہ اقدام کا فوری اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ان کی جانب سے شیئر کی گئی پوسٹ کے مطابق، جب اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز سے ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ان کی ’موت طے ہے‘۔

سرجیو گور نے دونوں لیڈروں کے ذاتی تعلقات کی ایک دلچسپ مثال بھی پیش کی۔ انہوں نے بتایا کہ چند ماہ قبل میامی میں ہونے والے الٹی میٹ فائٹنگ چیمپئن شپ (UFC) ایونٹ کے دوران صدر ٹرمپ نے اچانک کہا کہ ’چلو وزیر اعظم مودی کو فون کرتے ہیں۔‘

رپورٹس کے مطابق، ڈی لا ایسپرییلا نے انتخابی مہم کے دوران سخت سکیورٹی پالیسی اپنانے کا وعدہ کیا ہے، جس میں منشیات فروشوں کے لیے بڑی جیلوں کی تعمیر، مبینہ "نارکو دہشت گرد" ٹھکانوں پر کارروائیاں اور صدر پیٹرو کی گوریلا گروپوں کے ساتھ امن مذاکرات ختم کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اس تجویز کی مخالفت کرنے پر ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ ساتھ بعض ریپبلکن لیڈروں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الاسکا سے ریپبلکن سینیٹر لیزا مرکاوسکی کا نام لیتے ہوئے اپنے حامیوں سے کہا کہ وہ ان پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ اس بل کی حمایت کریں۔

ٹرمپ کی مسلسل دھمکیوں نے ایران کے ساتھ عرب امن مفاہمت نامہ کو متنازعہ بنا دیا ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز اور جوہری معائنے کے بارے میں امریکی دعووں کو مسترد کر دیا ہے، جس سے بداعتمادی مزید گہری ہوگئی ہے۔ ٹرمپ کے ہتھکنڈے امن کے عمل کو پٹری سے اتار کرجنگ کا باعث بن سکتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اورامن کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو خوراک کی ضرورت ہے اور امریکہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ضروری غذائی اشیا، خاص طور پر امریکی زرعی مصنوعات، ایران تک پہنچ سکیں۔

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا کہ پاکستان اور قطر کی مسلسل ثالثی کی بدولت لبنان میں جاری جنگ کے خاتمے کی جانب نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران کے تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی برآمدات پر عائد پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں، جب کہ آبنائے ہرمز میں عائد ناکہ بندی بھی ہٹا دی گئی ہے۔