Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

 مرکزی وزیر رام داس اٹھاولے نے راج ٹھاکرے کے امت شاہ سے متعلق بیان کو خارج کرتے ہوئے اسے بے بنیاد بتایا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے نیٹ 2026 کے دوبارہ امتحان سے متعلق سیکورٹی انتظامات اور وزیراعظم کی سفارتی پالیسی سے متعلق اپنے خیالات ظاہرکئے۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ایران کوئی ٹول نہیں وصول کرے گا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے وارننگ دی کہ اگر ایران ڈیل پوری نہیں کرپاتا تو اس اہم شاہراہ پرامریکہ ٹول لگا سکتا ہے۔

پون کھیڑا نے وزیراعظم مودی کی جانب سے ملاقات کے دوران تحریری نوٹس سے خطاب کرنے پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو بار بار پرچی دیکھ کر گفتگو کرنا پڑی، جس پر انہوں نے طنزیہ انداز میں انہیں ’’سلپس پی ایم‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت جیسے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے سربراہ کو کسی بھی عالمی رہنما کے سامنے اس انداز میں پیش نہیں آنا چاہیے تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اٹلی کے ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں ٹیلیفونک انٹرویو کے دوران دعویٰ کیا کہ جارجیا میلونی ان کے ساتھ تصویر کھنچوانے کی شدید خواہش مند تھیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ میلونی نے ان سے تصویر لینے کی درخواست کی تھی اور شاید وہ ایسا نہ کرتے، لیکن انہیں ان پر کچھ ہمدردی محسوس ہوئی۔

میلونی نے کہا کہ سیاسی نظریات کچھ بھی ہوں، امریکہ کے صدر کو کسی قریبی یورپی اتحادی ملک کے جمہوری طور پر منتخب لیڈر کا عوامی سطح پر مذاق اڑانے یا ان کی توہین کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ 14 جون کو ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے نے ان تمام مقاصد کو پورا کیا جنہیں امریکہ حاصل کرنا چاہتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں کشیدگی کا خاتمہ، عالمی تجارت کے لیے اہم آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور ایران کے جوہری عزائم کو محدود کرنا اس معاہدے کے بنیادی نکات ہیں۔

مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کی سمت اور انداز دونوں پر سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے۔جے رام رمیش نے خبردار کیا کہ پاکستان اب مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست اور سکیورٹی ڈھانچے کا ایک اہم حصہ بنتا جا رہا ہے، جس کے بھارت کے لیے طویل مدتی اور دور رس نتائج ہو سکتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا مذاکرات کا بنیادی مقصد ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ موجودہ جوہری مواد سے متعلق خدشات اپنی جگہ، لیکن اصل تشویش یہ ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں۔

امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادی ایران کی اقتصادی بحالی اور ترقی کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کی فنڈنگ فراہم کرنے پر متفق ہوئے ہیں، دونوں ممالک اقتصادی اور مالی پابندیوں کے خاتمے کے لیے فوری بات چیت شروع کریں گے۔

فرانس میں اہم سفارتی پیش رفت، دونوں ممالک نے تنازع کم کرنے اور تعلقات بہتر بنانے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے، جنیوا میں مزید بات چیت کا امکان برقرار۔