Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات امریکہ کے اتحادی سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم اب ان دونوں ممالک نے ایران جنگ میں الجھے ہوئے امریکہ کو دھمکیاں دینا شروع کردی ہیں۔ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے امریکی خزانے سے 15 ارب ڈالرنکال لئے ہیں، جس کے امریکی معیشت پرتباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی دونوں نے کھل کرایران پر مزید حملوں کی مخالفت کی ہے۔

وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکی صدر پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ حالیہ ملاقاتوں کے دوران ان کے اور شی جن پنگ کے درمیان بہتر تعلقات قائم ہوئے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق، صدر شی نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ایران کو کوئی ہتھیار نہیں بھیج رہے۔ یہ ایک اچھا وعدہ ہے اور میں ان کی بات پر بھروسہ کرتا ہوں۔

ٹرمپ نے اتوار کے روز سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ ایران کے لیے وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور انہیں جلد فیصلہ کرنا ہوگا، ورنہ ان کے پاس کچھ بھی نہیں بچے گا۔ وقت بہت قیمتی ہے۔

وہیں، امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو پھر بڑی دھمکی دی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگرایران نے جلد ہی نیوکلیئرمعاہدہ پربہترتجویزنہیں دی تو امریکہ پہلے سے کہیں زیادہ بڑا حملہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ گھڑی چل رہی ہے اورایران کے پاس زیادہ وقت نہیں بچا ہے۔ انہوں نے امریکی میڈیا ایکسیو سے بات چیت میں کہا کہ امریکہ ابھی بھی جنگ ختم کرنے کے لئے معاہدہ چاہتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق بھارت اپنی ضرورت کا 85 فیصد سے زیادہ خام تیل درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی منڈی میں قیمتوں کا ہر اتار چڑھاؤ براہ راست بھارتی معیشت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ تیل مہنگا ہونے سے مہنگائی میں اضافہ، حکومتی مالی بوجھ، گھریلو بجٹ اور اقتصادی ترقی سب متاثر ہوتی ہے۔

ٹرمپ کے چین دورے کے بعد امریکی وفد نے تحائف اور فون ایئر فورس ون میں کیوں پھینک دیے؟ سائبر جاسوسی کا خوف یا کوئی اور وجہ؟

بیجنگ دورے کے دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات خاصی بحث میں رہی۔ شی جن پنگ نے امریکہ کو کمزور قرار دیتے ہوئے مغربی ممالک کے زوال کا ذکر کیا۔

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ جب بدھ کے روز چین کے لئے نکلے، تب انہوں نے ایران سے متعلق بیجنگ میں کوئی بات نہیں کرنے کا اعلان کیا، لیکن جیسے ہی بیجنگ پہنچے، انہوں نے شی جنپنگ سے مڈل ایسٹ میں امن سے متعلق تبادلہ خیال کیا۔ امریکہ کو پتہ ہے کہ شی جنپنگ کے بغیرایران جنگ ختم نہیں ہوسکتا ہے۔

دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ، یوکرین بحران اور جزیرہ نما کوریا سمیت کئی علاقائی اور عالمی امور پر بھی گفتگو کی۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک نے اس سال ہونے والے اے پیک اکنامک لیڈرز اجلاس اور جی-20 سربراہ اجلاس کی کامیاب میزبانی کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون پر بھی اتفاق کیا۔