Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

ایران نے واضح کیا ہے کہ ابھی تک کسی حتمی معاہدے پر فیصلہ نہیں ہوا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا: ’’ابھی تک ایران کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا ہے۔‘‘ انہوں نے ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ معاہدے پر جلد دستخط ہونے والے ہیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے بھی امریکی دعوؤں پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر امریکہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حالیہ دنوں میں بھارتی تجارتی جہازوں پر ہونے والے امریکی حملے، جن میں کم از کم تین بھارتی شہری ہلاک ہوئے، امریکہ کی جارحانہ پالیسیوں اور بین الاقوامی سمندری قوانین کی خلاف ورزی کی مثال ہیں۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر جاری ایک پیغام میں نریندر مودی کو بھارت کا سب سے طویل عرصے تک مسلسل منتخب رہنے والا وزیر اعظم بننے پر مبارکباد دی۔ ٹرمپ نے لکھا کہ مودی ایک مضبوط، صحت مند اور ذہین لیڈر ہیں۔

امریکی حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب اسرائیل نے منگل کے روز جنوبی لبنان میں بھی اپنی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کر دی ہیں۔ گزشتہ کئی دنوں سے ایران اور اسرائیل کے درمیان جوابی حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث پورے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اس پالیسی کو نافذ کرنے والی سرکاری ایجنسیوں نے مقررہ قانونی طریقہ کار اور ضوابط کی مکمل پاسداری نہیں کی۔ فیصلے میں کہا گیا کہ حکومت یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی کہ امریکی کمپنیوں پر اچانک اتنی بھاری اضافی لاگت ڈالنے کی ضرورت کیوں پیش آئی اور اس اقدام کا قانونی جواز کیا تھا۔

اس دوران خطے میں میزائل اور ڈرون حملوں، جوابی فوجی کارروائیوں اور وسیع علاقائی جنگ کے خدشات نے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے کہا ہے کہ یہ صورتحال حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں نہ روکنے کا نتیجہ ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر مختصر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور ایران کو "فوراً فائرنگ بند" کر دینی چاہیے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان حالیہ دنوں میں ایک بار پھر شدید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔

ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور نئی دہلی دونوں میں یہ توقعات بڑھ رہی ہیں کہ فریقین ایک ایسے تجارتی معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں جو منڈیوں تک رسائی آسان بنانے اور ٹیرف سے متعلق متعدد تنازعات کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

ایران سے متعلق کشیدگی اور سفارتی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایک وقت میں ایک ہی معاملے پر توجہ دینا پسند کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پہلے ایران کی اسلامی جمہوریہ سے متعلق معاملہ نمٹائیں گے، اس کے بعد واپسی پر وہاں ایک چھوٹا سا پڑاؤ ڈالیں گے۔

رپورٹس کے مطابق یہ قرارداد 215 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور کی گئی۔ حیران کن طور پر اس بار کچھ ریپبلکن ارکان نے بھی اپنی ہی جماعت کے مؤقف سے ہٹ کر ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر اس بل کی حمایت کی۔کم از کم چار ریپبلکن ارکان نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا،