Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

رپورٹس کے مطابق، ڈی لا ایسپرییلا نے انتخابی مہم کے دوران سخت سکیورٹی پالیسی اپنانے کا وعدہ کیا ہے، جس میں منشیات فروشوں کے لیے بڑی جیلوں کی تعمیر، مبینہ "نارکو دہشت گرد" ٹھکانوں پر کارروائیاں اور صدر پیٹرو کی گوریلا گروپوں کے ساتھ امن مذاکرات ختم کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اس تجویز کی مخالفت کرنے پر ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ ساتھ بعض ریپبلکن لیڈروں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الاسکا سے ریپبلکن سینیٹر لیزا مرکاوسکی کا نام لیتے ہوئے اپنے حامیوں سے کہا کہ وہ ان پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ اس بل کی حمایت کریں۔

ٹرمپ کی مسلسل دھمکیوں نے ایران کے ساتھ عرب امن مفاہمت نامہ کو متنازعہ بنا دیا ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز اور جوہری معائنے کے بارے میں امریکی دعووں کو مسترد کر دیا ہے، جس سے بداعتمادی مزید گہری ہوگئی ہے۔ ٹرمپ کے ہتھکنڈے امن کے عمل کو پٹری سے اتار کرجنگ کا باعث بن سکتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اورامن کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو خوراک کی ضرورت ہے اور امریکہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ضروری غذائی اشیا، خاص طور پر امریکی زرعی مصنوعات، ایران تک پہنچ سکیں۔

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا کہ پاکستان اور قطر کی مسلسل ثالثی کی بدولت لبنان میں جاری جنگ کے خاتمے کی جانب نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران کے تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی برآمدات پر عائد پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں، جب کہ آبنائے ہرمز میں عائد ناکہ بندی بھی ہٹا دی گئی ہے۔

 مرکزی وزیر رام داس اٹھاولے نے راج ٹھاکرے کے امت شاہ سے متعلق بیان کو خارج کرتے ہوئے اسے بے بنیاد بتایا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے نیٹ 2026 کے دوبارہ امتحان سے متعلق سیکورٹی انتظامات اور وزیراعظم کی سفارتی پالیسی سے متعلق اپنے خیالات ظاہرکئے۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ایران کوئی ٹول نہیں وصول کرے گا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے وارننگ دی کہ اگر ایران ڈیل پوری نہیں کرپاتا تو اس اہم شاہراہ پرامریکہ ٹول لگا سکتا ہے۔

پون کھیڑا نے وزیراعظم مودی کی جانب سے ملاقات کے دوران تحریری نوٹس سے خطاب کرنے پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو بار بار پرچی دیکھ کر گفتگو کرنا پڑی، جس پر انہوں نے طنزیہ انداز میں انہیں ’’سلپس پی ایم‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت جیسے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے سربراہ کو کسی بھی عالمی رہنما کے سامنے اس انداز میں پیش نہیں آنا چاہیے تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اٹلی کے ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں ٹیلیفونک انٹرویو کے دوران دعویٰ کیا کہ جارجیا میلونی ان کے ساتھ تصویر کھنچوانے کی شدید خواہش مند تھیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ میلونی نے ان سے تصویر لینے کی درخواست کی تھی اور شاید وہ ایسا نہ کرتے، لیکن انہیں ان پر کچھ ہمدردی محسوس ہوئی۔

میلونی نے کہا کہ سیاسی نظریات کچھ بھی ہوں، امریکہ کے صدر کو کسی قریبی یورپی اتحادی ملک کے جمہوری طور پر منتخب لیڈر کا عوامی سطح پر مذاق اڑانے یا ان کی توہین کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔