Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

درحقیقت بدھ کے روز نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (NATO) کے سربراہی اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کو اپنی جانب سے ’ختم‘ قرار دیا تھا اور ایرانی قیادت کے لیے نازیبا الفاظ استعمال کیے تھے۔

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پرامریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے خلاف اضافی فوجی کارروائیاں شروع کردی ہیں۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو مزید کمزور کرنا ہے، جس کے ذریعہ، امریکی مؤقف کے مطابق، وہ آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری جہاز رانی کی آزادی کے لئے خطرہ پیدا کرسکتا ہے۔ امریکہ نے الزام عائد کیا ہے کہ حالیہ دنوں میں تجارتی جہازوں اور ان کے شہری عملے پر ہونے والے مبینہ حملوں کے لیے ایران ذمہ دارہے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان انا کیلی کے مطابق صدر ٹرمپ اجلاس کے موقع پر یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی اور شام کے صدر احمد الشرع سے بھی دوطرفہ ملاقات کریں گے۔ ان کے مطابق ٹرمپ منگل کی شام نیٹو رہنماؤں کے اعزازی عشائیے میں شرکت کریں گے، جبکہ بدھ کو سرکاری استقبالیہ، اجتماعی تصویر اور نیٹو رہنماؤں کے ورکنگ سیشن میں شریک ہوں گے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کی پاورفل فضائیہ (ایئرفورس) نے اب تک کی سب سے بڑی ناکہ بندی لگائی اور دو ماہ تک ایک بھی جہاز ناکہ بندی کو پارنہیں کرسکا۔ پھر ہم شاید ایک معاہدے کے قریب پہنچے، اس لئے ہم نے ناکہ بندی میں نرمی دی۔ مجھے نہیں معلوم، لیکن شاید ہم ایک معاہدے (ڈیل) پر پہنچ جائیں۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے بند ہونے کے باوجود تیل کی قیمتوں میں زیادہ اضافہ نہیں ہوا۔

ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی میت اس وقت تہران میں عوامی دیدار کے لیے رکھی گئی ہے، جہاں ہزاروں سوگوار اور مختلف ممالک کے اعلیٰ وفود انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے پہنچ رہے ہیں۔ خامنہ ای 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں میں ہلاک ہوئے تھے۔ ان کی تدفین 9 جولائی کو مشہد میں کی جائے گی۔

امریکی صدر نے پھر سے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ہی حملے میں ایران کی پوری قیادت کو ختم کر سکتے تھے، لیکن پھر مذاکرات کے لیے کوئی باقی نہ رہتا۔ آخری رسومات میں اعلیٰ قیادت اور عوام کے غم کا مذاق اڑاتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہیں حیرت ہوئی کیونکہ ان کے خیال میں ایرانی عوام خامنہ ای کو پسند نہیں کرتے تھے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ 28 فروری کو ایرانی سرزمین پر اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنی نگرانی اور کنٹرول مزید سخت کر دیا ہے۔ اس کے تحت اسرائیل اور امریکہ سے وابستہ یا ان سے منسلک بحری جہازوں کی محفوظ آمد و رفت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اچھی طرح جانتے ہیں کہ ’’اصل باس کون ہے‘‘۔ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد دونوں لیڈروں کی ممکنہ وائٹ ہاؤس ملاقات پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔

عباس عراقچی نے کہا کہ ایرانی عوام اور قیادت کے خلاف کسی بھی قسم کی دھمکی یا جارحانہ اقدام کا فوری اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ان کی جانب سے شیئر کی گئی پوسٹ کے مطابق، جب اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز سے ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ان کی ’موت طے ہے‘۔

سرجیو گور نے دونوں لیڈروں کے ذاتی تعلقات کی ایک دلچسپ مثال بھی پیش کی۔ انہوں نے بتایا کہ چند ماہ قبل میامی میں ہونے والے الٹی میٹ فائٹنگ چیمپئن شپ (UFC) ایونٹ کے دوران صدر ٹرمپ نے اچانک کہا کہ ’چلو وزیر اعظم مودی کو فون کرتے ہیں۔‘