Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

ایران نے سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے آبنائے ہرمز کو آئندہ اطلاع تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ایران نے واضح کیا ہے کہ جب تک خطے میں امریکہ کی فوجی موجودگی اور مداخلت جاری رہے گی، اس اہم بحری گزرگاہ کو دوبارہ نہیں کھولا جائے گا۔ تہران نے یہ انتباہ بھی دیا ہے کہ اگر اس کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رہیں تو خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں...

مجوزہ قانون کے تحت روس سے خام تیل، قدرتی گیس، یورینیم اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات خریدنے والے ممالک کی امریکہ کو برآمد کی جانے والی اشیا اور خدمات پر 500 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ یہ بل 2025 کے "سینکشننگ رشیا ایکٹ" کو مزید سخت بنانے کی کوشش کا حصہ ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران نے کبھی بھی اپنی دفاعی تیاریوں میں کمی نہیں کی اور اگر امریکہ کسی بھی معاہدے سے پیچھے ہٹتا ہے تو ایران پوری طاقت کے ساتھ اپنا دفاع کرے گا، ہر چیلنج کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گا اور ایرانی عوام کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے گا۔

جمعرات کے روز امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے الزام عائد کیا کہ ایران نے تجارتی جہازوں پر دوبارہ حملے کر کے امریکہ کے ساتھ حالیہ معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت میں رکاوٹ ڈالنے کی مزید کوشش کی گئی تو امریکہ اس کا پہلے سے زیادہ سخت فوجی جواب دے گا۔

سی این این کے مطابق واشنگٹن کو خدشہ ہے کہ اسرائیل کی براہِ راست شمولیت سے مغربی ایشیا میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ وہیں دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع نے ایران پر دوبارہ حملے کی تیاری کا اعلان کیا ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اور سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے کی تازہ صورتحال اور امریکی فوجی کارروائی کے بعد پیدا ہونے والے حالات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے موجودہ حالات پر اپنے اپنے مؤقف سے آگاہ کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے کی صورتحال پر آئندہ بھی مشاورت جاری رکھی جائے گی۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفترکی جانب سے جاری بیان کے مطابق، دونوں لیڈران  نے مختلف معاملات پرگفتگوکی اوردونوں ممالک کے درمیان قریبی رابطہ اورتعاون جاری رکھنے پراتفاق کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو خلیجی خطے میں امریکہ کی حالیہ سرگرمیوں سے بھی آگاہ کیا۔

درحقیقت بدھ کے روز نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (NATO) کے سربراہی اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کو اپنی جانب سے ’ختم‘ قرار دیا تھا اور ایرانی قیادت کے لیے نازیبا الفاظ استعمال کیے تھے۔

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پرامریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے خلاف اضافی فوجی کارروائیاں شروع کردی ہیں۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو مزید کمزور کرنا ہے، جس کے ذریعہ، امریکی مؤقف کے مطابق، وہ آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری جہاز رانی کی آزادی کے لئے خطرہ پیدا کرسکتا ہے۔ امریکہ نے الزام عائد کیا ہے کہ حالیہ دنوں میں تجارتی جہازوں اور ان کے شہری عملے پر ہونے والے مبینہ حملوں کے لیے ایران ذمہ دارہے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان انا کیلی کے مطابق صدر ٹرمپ اجلاس کے موقع پر یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی اور شام کے صدر احمد الشرع سے بھی دوطرفہ ملاقات کریں گے۔ ان کے مطابق ٹرمپ منگل کی شام نیٹو رہنماؤں کے اعزازی عشائیے میں شرکت کریں گے، جبکہ بدھ کو سرکاری استقبالیہ، اجتماعی تصویر اور نیٹو رہنماؤں کے ورکنگ سیشن میں شریک ہوں گے۔