امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سکیورٹی سے متعلق ایک ایسا واقعہ سامنے آیا ہے جس نے دنیا بھر میں توجہ حاصل کرلی ہے۔ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ ماہ ترکی میں نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد برطانیہ روانگی کے وقت ان کا طیارہ خفیہ طور پر تبدیل کیا گیا تھا۔
ٹرمپ پرانے ایئر فورس ون پر سوار ہوتے نظر آئے
رپورٹس کے مطابق 8 جولائی کو انقرہ سے برطانیہ روانگی کے دوران ٹرمپ ابتدا میں پرانے ایئر فورس ون پر سوار ہوتے ہوئے نظر آئے۔ میڈیا اور عملے کو بھی یہی معلوم تھا کہ امریکی صدر اسی طیارے سے سفر کریں گے۔ تاہم کچھ ہی دیر بعد ایک خفیہ آپریشن کے تحت ٹرمپ کو طیارے سے نکالا گیا اور ایک کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے چھوٹے فوجی طیارے C-32A تک پہنچایا گیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ایئر فورس ون کو بطور ڈیکوائے استعمال کیا گیا۔ متعدد صحافی اور وائٹ ہاؤس کے کچھ اہلکار اسی طیارے پر برطانیہ روانہ ہوگئے، جبکہ انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ ٹرمپ اس میں موجود نہیں ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سیکریٹ سروس کا مقصد صدر کی اصل موجودگی اور سفر کی سمت کو ممکنہ حملہ آوروں سے پوشیدہ رکھنا تھا۔
صدر ٹرمپ نے یہ انکشاف کیا
ٹرمپ نے اس معاملے پر کہا کہ وہ سیکریٹ سروس اور فوج کی ہدایات پر عمل کرتے ہیں۔ ان کے مطابق سکیورٹی حکام نے انہیں مختلف پرواز اور طیارے سے سفر کرنے کو کہا، اس لیے انہوں نے ایسا ہی کیا۔ جب ان سے خطرے کی نوعیت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ انہیں بہت سے خطرات لاحق رہتے ہیں اور انہوں نے اس معاملے کی تفصیلات جاننے کے لیے زیادہ سوالات نہیں کیے۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ خطرہ ایران سے ممکنہ قاتلانہ سازش سے متعلق تھا۔ بعض امریکی ذرائع کے مطابق ٹرمپ کے خلاف فضائی حملے یا میزائل سے نشانہ بنانے کا خدشہ بھی سکیورٹی حکام کے سامنے موجود تھا۔ تاہم خطرے کی مکمل تفصیلات سرکاری طور پر منظرعام پر نہیں لائی گئی ہیں۔ حیرت انگیز طور پر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ جس متبادل طیارے سے انہوں نے سفر کیا، ممکن ہے وہ بعض حالات میں ایئر فورس ون سے زیادہ خطرے میں ہو، کیونکہ دشمن یہ سمجھ سکتے تھے کہ صدر اسی طیارے میں موجود ہیں۔ اس واقعے نے امریکی صدر کی سکیورٹی، ایران سے کشیدگی اور خفیہ حفاظتی آپریشنز پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


