ایران پر نئے حملے کے خلاف کیوں ہے سعودی عرب؟ ٹرمپ کو کیوں دیا پیچھے ہٹنے کا مشورہ؟ جانئے پوری تفصیل
سعودی عرب نے ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران پرنئے فوجی حملے نہیں کرنے کی اپیل کی ہے۔ اسے خوف ہے کہ جنگ بڑھنے سے آبنائے ہرمز، عالمی تیل فراہمی اوراس کے وژن 2030 منصوبے پرسنگین اثرپڑسکتا ہے۔
Iran US Crisis: ٹرمپ کا ایران سے نئی بات چیت کا اعلان، خلیجی ممالک کی ثالثی کی کوششیں تیز
صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ نے ایران پر مجوزہ فوجی حملہ مؤخر کرنے پر اتفاق کیا ہے کیونکہ تہران اور مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک نے اس کارروائی کو روکنے کی درخواست کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکنہ معاہدے کا ابتدائی خاکہ تیار کر لیا گیا ہے۔ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ مکمل طور پر کارروائی کے لیے تیار تھا،
Middle East Crisis: سعودی ولی عہد کی ایک فون کال نے بدل دیا ٹرمپ کا فیصلہ! ایران پر حملے کے معاملے میں امریکہ کا بڑا یو ٹرن
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے فی الحال ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی مؤخر کر دی ہے۔ کیا اس فیصلے کے پیچھے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی فون کال وجہ بنی؟ جانیے پورا معاملہ۔
Trump Agrees to Halt Attacks on Iran: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر مجوزہ حملہ روکنے پر آمادگی ظاہر کی، آبنائے ہرمز کھولنے کا دیا حوالہ
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی فوج مکمل طور پر کارروائی کے لیے تیار تھی، تاہم سفارتی کوششوں کو موقع دینے کے لیے مجوزہ حملہ روکنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
US President Donald Trump: جبری مشقت سے تیار مصنوعات کے خلاف امریکی کارروائی، بھارت پر دیگر کئی ممالک کے مقابلے میں کم ٹیرف عائد
یہ کارروائی 12 مارچ کو شروع ہونے والی تحقیقات کا نتیجہ ہے، جس کے تحت 60 معیشتوں کی پالیسیوں کا جائزہ لیا گیا۔ اس دوران دو مرحلوں میں عوامی سماعتیں ہوئیں، 45 سے زائد حکومتوں سے مشاورت کی گئی، 2,100 سے زیادہ عوامی تجاویز موصول ہوئیں اور 100 سے زائد گواہوں کے بیانات قلم بند کیے گئے۔یو ایس ٹی آر نے 2 جون کو اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ تمام 60 معیشتوں کی پالیسیاں ’’غیر منصفانہ‘‘ ہیں اور امریکی تجارت پر منفی اثر ڈالتی ہیں،
US-Saudi Nuclear Deal: ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہونے سے مشروط ہوگا امریکی-سعودی جوہری معاہدہ، یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی: ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر کا یہ بیان امریکی اور سعودی حکام کی جانب سے اہم توانائی معاہدے کا اعلان کیے جانے کے 24 گھنٹے بعد سامنے آیا ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے ابراہیمی معاہدوں کا دائرہ وسیع کرنے کی مسلسل سفارتی کوششوں کے باوجود سعودی حکام فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق اپنے موقف پر قائم ہیں۔
US Strikes Iran: امریکہ نے ایران پر ایک بار پھر فضائی حملے کیے، جواب میں تہران نے تیل کی برآمدات روکنے کی دی دھمکی
منگل کی رات امریکہ نے ایران پر فضائی حملوں کا ایک اور سلسلہ شروع کیا، جس کے بعد تہران کی فضاؤں میں ایرانی فضائی دفاعی نظام متحرک ہو گیا۔ جوابی کارروائی میں ایران نے اسرائیلی سرحد کے قریب اردن کے ایک شہر پر میزائل حملہ کیا، جس کے بعد بحرین اور سعودی عرب میں بھی ہنگامی انتباہ جاری کر دیا گیا۔
US-Iran Tensions: ’’آبنائے ہرمز میں جہازوں کو نشانہ بنایا تو تہران کے پل اور بجلی گھروں پر ہوگا حملہ‘‘ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پھر دی ایران کو دھمکی
آبنائے ہرمز دنیا کے سب سے اہم بحری راستوں میں سے ایک ہے۔ دنیا بھر میں بھیجے جانے والے خام تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اس راستے کی اہمیت کے پیش نظر آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا جہازوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ عالمی توانائی منڈی اور بین الاقوامی تجارت کو متاثر کرسکتی ہے۔
Saudi Nuclear Deal: سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کیلئے بڑی سفارتی کامیابی، ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ محدود حفاظتی انتظامات والے جوہری معاہدے کو دی منظوری
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگر ایران جوہری ہتھیار حاصل کرتا ہے تو سعودی عرب بھی جوہری ہتھیار حاصل کرے گا۔ اسی بیان کے پیشِ نظر ماہرین کو خدشہ ہے کہ سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی صلاحیت فراہم کرنے سے مشرقِ وسطیٰ میں جوہری پھیلاؤ اور ہتھیاروں کی ممکنہ دوڑ کے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔
Trump Warns Iran: ’’ایک بھی امریکی فوجی کو نقصان پہنچا تو کئی گنا قیمت چکانی ہوگی…‘‘، ایران کو ٹرمپ کی کھلی دھمکی، تہران بھی جنگ جاری رکھنے پر قائم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان حملوں اور سخت بیانات کے باعث کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے، جس سے خطے کی صورتحال مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے۔





