US-Iran Tensions: ’’آبنائے ہرمز میں جہازوں کو نشانہ بنایا تو تہران کے پل اور بجلی گھروں پر ہوگا حملہ‘‘ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پھر دی ایران کو دھمکی
آبنائے ہرمز دنیا کے سب سے اہم بحری راستوں میں سے ایک ہے۔ دنیا بھر میں بھیجے جانے والے خام تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اس راستے کی اہمیت کے پیش نظر آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا جہازوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ عالمی توانائی منڈی اور بین الاقوامی تجارت کو متاثر کرسکتی ہے۔
Saudi Nuclear Deal: سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کیلئے بڑی سفارتی کامیابی، ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ محدود حفاظتی انتظامات والے جوہری معاہدے کو دی منظوری
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگر ایران جوہری ہتھیار حاصل کرتا ہے تو سعودی عرب بھی جوہری ہتھیار حاصل کرے گا۔ اسی بیان کے پیشِ نظر ماہرین کو خدشہ ہے کہ سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی صلاحیت فراہم کرنے سے مشرقِ وسطیٰ میں جوہری پھیلاؤ اور ہتھیاروں کی ممکنہ دوڑ کے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔
Trump Warns Iran: ’’ایک بھی امریکی فوجی کو نقصان پہنچا تو کئی گنا قیمت چکانی ہوگی…‘‘، ایران کو ٹرمپ کی کھلی دھمکی، تہران بھی جنگ جاری رکھنے پر قائم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان حملوں اور سخت بیانات کے باعث کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے، جس سے خطے کی صورتحال مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے۔
Iran US War: ایران کے حملوں سے کویت میں خوف کی لہر، شہریوں نے کھانے پینے کا سامان ذخیرہ کرنا شروع کر دیا
اردن کی فوج نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کے 10 میزائل فضا ہی میں تباہ کر دیے اور ملک میں کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔طاسی دوران ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے اطلاع دی کہ جنوبی بندرگاہی شہروں بندر عباس اور بندر لنگہ میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
آبنائے ہرمز سے متعلق بڑی جنگ! امریکہ نے ایران کے انفراسٹرکچرکو بنایا نشانہ، تہران نے کی کویت میں کی میزائلوں پربوچھار
امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمزکے کنٹرول پر تنازعہ بتدریج بڑھتا جا رہا ہے۔ امریکہ نے ایرانی فوجی اڈوں، نگرانی کے مراکز، زیرزمین ہتھیاروں کے ڈپو اور سمندری انفراسٹرکچر پر بڑے حملے کئے ہیں۔
Donald Trump: امریکی انتخابی نظام پر سوالات، پیٹر نوارو نے ٹرمپ کے دعوؤں کی حمایت کرتے ہوئے ’سیو امریکہ ایکٹ‘ کو قرار دیا ضروری
ادھر وائٹ ہاؤس سے قوم سے اپنے ٹیلی ویژن خطاب میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ انتخابی سلامتی سے متعلق خفیہ انٹیلی جنس دستاویزات کو فوری طور پر عوام کے لیے جاری کیا جا رہا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ان دستاویزات سے امریکی انتخابی نظام میں موجود حیران کن خامیاں بے نقاب ہوئی ہیں اور یہ بھی سامنے آیا ہے کہ چین نے برسوں تک امریکی سیاست پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔
Iran US War: ایران کی سخت وارننگ، حملے نہ رکے تو امریکہ کو ایران کی جارحانہ طاقت کا سامنا کرنا پڑے گا: محسن رضائی
خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق محسن رضائی نے کہا کہ ایران نے اب تک تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنگ کو وسیع علاقائی یا بین الاقوامی بحران میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کی ہے، لیکن امریکہ نے صورت حال کا غلط اندازہ لگاتے ہوئے کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔
Donald Trumps Big Claim: ڈریگن کو گھیرنے میں مصروف ڈونلڈ ٹرمپ! کیا امریکا اور چین میں ہونے والا ہے ٹکراؤ یا معاملہ کچھ اور؟ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں بڑا انکشاف
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین پر 22 کروڑ ووٹروں کا ڈیٹا چوری کرنے اور امریکی خفیہ اداروں (ڈیپ اسٹیٹ) پر اس حقیقت کو چھپانے کا سنسنی خیز الزام عائد کیا ہے۔ تاہم نیویارک ٹائمز (NYT) کی ایک رپورٹ میں ان دعوؤں کے پس منظر اور ان سے متعلق حقائق پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ جانیے اس معاملے کی مکمل اندرونی کہانی۔
Iran Attack US base in Bahrain: ایران نے بحرین میں امریکی اڈوں پر اب تک کا سب سے بڑا حملہ کیا، مزید کارروائی کی دھمکی
ایران کا کہنا ہے کہ ان شرائط کی تکمیل تک کسی بھی بحری جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ آبی راستہ دنیا میں تیل کی ترسیل کے اہم ترین راستوں میں شمار ہوتا ہے، اس لیے اس کی بندش نے عالمی توانائی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔
Iran US War: صرف فضائی حملوں سے ایران کے خلاف جنگ نہیں جیتی جا سکتی، ٹرمپ کے سابق وزیر دفاع مارک ایسپر کا انتباہ
امریکہ اور ایران نے حالیہ دنوں میں ایک دوسرے کے خلاف جارحانہ اقدامات میں اضافہ کیا ہے۔ امریکہ نے ایران کے کئی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے اور انہیں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جب کہ ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی نے پورے مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام اور خدشات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔





