Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

امریکا ایران پر معاشی دباؤ مزید بڑھانے کی تیاری کر رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ جو ممالک ایران کو معاشی مدد فراہم کریں گے یا اس کے ساتھ تجارت کریں گے، انہیں بھی سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکا کا مقصد ایران کے ساتھ مالی لین دین اور تجارتی تعلقات کو محدود کرنا ہے۔

ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ امریکہ ایسا معاشی مہم شروع کر رہا ہے، جس کی مثال پہلے کسی ملک کے خلاف نہیں دیکھی گئی۔ ان کے مطابق ایران کو مذاکرات اور معاہدے کے کئی مواقع دیے گئے، لیکن اس نے ان مواقع کا فائدہ نہیں اٹھایا۔

ٹرمپ کی جانب سے یہ نقشہ ایسے وقت میں شیئر کیا گیا ہے جب آبنائے ہرمز کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور عالمی توانائی سپلائی کے لیے اس کی خاص اہمیت ہے۔

متحدہ عرب امارات (یواے ای) کی وزارتِ دفاع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پربتایا کہ علاقے میں سنائی دینے والی تیز آوازیں فضائی دفاعی نظام کی جانب سے میزائلوں کوہوا میں ہی تباہ کیے جانے کی وجہ سے تھیں۔ وزارتِ دفاع نے کہا کہ وہ کسی بھی خطرے کا جواب دینے اورمتحدہ عرب امارات کی خود مختاری، سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لئے پوری طرح تیار ہے۔

سروے کے نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع اور بڑھتی ہوئی پٹرول کی قیمتیں ٹرمپ انتظامیہ کے لیے بڑی سیاسی پریشانی کا باعث بن رہی ہیں۔ 80 فیصد امریکی شہریوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایران میں امریکی فوجی مداخلت طویل عرصے تک جاری رہ سکتی ہے،

میم کے کیپشن میں طنزیہ انداز میں کہا گیا کہ جلد ہی انہیں کچرے کے ڈبے میں چھپایا جائے گا۔ایران کی جانب سے ایک اور پوسٹ میں ٹرمپ پر مزید طنز کیا گیا۔ اس میں دعویٰ کیا گیا کہ جو شخص مبینہ طور پر بنکر میں چھپنے کی باتوں کا سامنا کر رہا تھا، وہ بالآخر اپنے دفتر میں مارا گیا، جبکہ بڑے جنگی بحری جہازوں اور جدید B-2 بمبار طیاروں پر فخر کرنے والے امریکی صدر کو آخرکار ایک فوڈ ٹرک کے ذریعے فرار ہونا پڑا،

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ ماہ ترکی میں نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد برطانیہ روانگی کے وقت ان کا طیارہ خفیہ طور پر تبدیل کیا گیا تھا۔ امریکی سیکریٹ سروس اور فوج کی ہدایت پر یہ فیصلہ ممکنہ سکیورٹی خطرے کے پیش نظر کیا گیا، جس کا تعلق مبینہ طور پر ایران سے تھا۔

رپورٹس کے مطابق مجوزہ قانون صرف روس سے توانائی خریدنے والے ممالک تک محدود نہیں ہوگا بلکہ روسی حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں اور روس کے دفاعی صنعتی شعبے کی مدد کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں پر بھی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن بھی ممکنہ پابندیوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔روس سے توانائی خریدنے والے بڑے ممالک پر ٹیرف کی حتمی شرح امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر طے کریں گے

ناوارو کے تازہ بیان سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ممکنہ 100 فیصد ٹیرف کے معاملے پر بھارت اور امریکہ کے درمیان مذاکرات اور اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ اور وزیراعظم مودی کے درمیان براہ راست بات چیت کے ذریعے اس مسئلے کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے ’برتھ ٹورزم‘ کے خلاف کارروائی کا بھی ذکر کیا ہے۔ برتھ ٹورزم سے مراد ایسے افراد کا امریکا کا سفر کرنا ہے جن کا بنیادی مقصد وہاں بچے کی پیدائش کے ذریعے بچے کو امریکی شہریت دلانا ہو۔محکمہ خارجہ کے مطابق شمالی افریقہ میں واقع ایک امریکی سفارت خانے نے ایسے والدین کے 100 سے زائد ویزے منسوخ کیے