Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کو نئے انداز میں منظم کرنے کے لیے عمان کے ساتھ مذاکرات شروع کر دیے ہیں۔ تہران کے مطابق مقصد یہ ہے کہ اس اہم آبی گذرگاہ میں موجود مختلف بحری راستوں کی جگہ ایک مشترکہ دوطرفہ راہداری قائم کی جائے تاکہ جہازوں کی نقل و حرکت زیادہ محفوظ اور منظم ہو سکے۔

صدر ٹرمپ نے ایرانی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر لکھا کہ ایرانی قیادت دوہرا رویہ اختیار کر رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملاقات کی درخواست کرنے کے باوجود ایران عوامی سطح پر مذاکرات سے انکار کر رہا ہے۔اسماعیل بقائی نے مزید بتایا کہ ایران اس معاملے پر سلطنتِ عمان کے ساتھ مشاورت کر رہا ہے۔

خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق، مقدمے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت ٹرمپ دور کی وسیع ٹیرف پالیسی کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے، حالانکہ اس سے قبل وفاقی عدالتیں مختلف قانونی بنیادوں پر اس پالیسی کے دو سابقہ ورژن مسترد کر چکی ہیں۔ ریاستوں کا الزام ہے کہ وفاقی حکام نے 1974 کے ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 301 اور جبری مشقت سے متعلق خدشات کو محض جواز بنا کر تقریباً وہی عالمی ٹیرف دوبارہ نافذ کیے،

 سعودی عرب نے ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران پرنئے فوجی حملے نہیں کرنے کی اپیل کی ہے۔ اسے خوف ہے کہ جنگ بڑھنے سے آبنائے ہرمز، عالمی تیل فراہمی اوراس کے وژن 2030 منصوبے پرسنگین اثرپڑسکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ نے ایران پر مجوزہ فوجی حملہ مؤخر کرنے پر اتفاق کیا ہے کیونکہ تہران اور مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک نے اس کارروائی کو روکنے کی درخواست کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکنہ معاہدے کا ابتدائی خاکہ تیار کر لیا گیا ہے۔ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ مکمل طور پر کارروائی کے لیے تیار تھا،

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے فی الحال ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی مؤخر کر دی ہے۔ کیا اس فیصلے کے پیچھے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی فون کال وجہ بنی؟ جانیے پورا معاملہ۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی فوج مکمل طور پر کارروائی کے لیے تیار تھی، تاہم سفارتی کوششوں کو موقع دینے کے لیے مجوزہ حملہ روکنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یہ کارروائی 12 مارچ کو شروع ہونے والی تحقیقات کا نتیجہ ہے، جس کے تحت 60 معیشتوں کی پالیسیوں کا جائزہ لیا گیا۔ اس دوران دو مرحلوں میں عوامی سماعتیں ہوئیں، 45 سے زائد حکومتوں سے مشاورت کی گئی، 2,100 سے زیادہ عوامی تجاویز موصول ہوئیں اور 100 سے زائد گواہوں کے بیانات قلم بند کیے گئے۔یو ایس ٹی آر نے 2 جون کو اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ تمام 60 معیشتوں کی پالیسیاں ’’غیر منصفانہ‘‘ ہیں اور امریکی تجارت پر منفی اثر ڈالتی ہیں،

امریکی صدر کا یہ بیان امریکی اور سعودی حکام کی جانب سے اہم توانائی معاہدے کا اعلان کیے جانے کے 24 گھنٹے بعد سامنے آیا ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے ابراہیمی معاہدوں کا دائرہ وسیع کرنے کی مسلسل سفارتی کوششوں کے باوجود سعودی حکام فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق اپنے موقف پر قائم ہیں۔

منگل کی رات امریکہ نے ایران پر فضائی حملوں کا ایک اور سلسلہ شروع کیا، جس کے بعد تہران کی فضاؤں میں ایرانی فضائی دفاعی نظام متحرک ہو گیا۔ جوابی کارروائی میں ایران نے اسرائیلی سرحد کے قریب اردن کے ایک شہر پر میزائل حملہ کیا، جس کے بعد بحرین اور سعودی عرب میں بھی ہنگامی انتباہ جاری کر دیا گیا۔