Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

ناوارو کے تازہ بیان سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ممکنہ 100 فیصد ٹیرف کے معاملے پر بھارت اور امریکہ کے درمیان مذاکرات اور اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ اور وزیراعظم مودی کے درمیان براہ راست بات چیت کے ذریعے اس مسئلے کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے ’برتھ ٹورزم‘ کے خلاف کارروائی کا بھی ذکر کیا ہے۔ برتھ ٹورزم سے مراد ایسے افراد کا امریکا کا سفر کرنا ہے جن کا بنیادی مقصد وہاں بچے کی پیدائش کے ذریعے بچے کو امریکی شہریت دلانا ہو۔محکمہ خارجہ کے مطابق شمالی افریقہ میں واقع ایک امریکی سفارت خانے نے ایسے والدین کے 100 سے زائد ویزے منسوخ کیے

مرفی نے کہا کہ ٹرمپ کے جنگ بندی سے متعلق اعلانات اچانک نہیں ہوتے بلکہ مبینہ طور پر پیسہ کمانے کی ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہیں۔ ان کے مطابق تقریباً ایک ہفتہ قبل ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ اگر کوئی شخص انہیں ماہانہ ایک لاکھ ڈالر ادا کرے تو اسے امریکی خارجہ پالیسی سے متعلق فیصلوں کی پہلے سے معلومات فراہم کی جائیں گی۔

اس مجوزہ قانون کا سب سے زیادہ اثر ان ممالک پر پڑنے کا خدشہ ہے جو روس سے بڑی مقدار میں توانائی درآمد کرتے ہیں۔ ان میں بھارت اور چین کے علاوہ جاپان اور یورپ کے بعض ممالک بھی شامل ہیں۔ قانون نافذ ہونے کی صورت میں امریکی صدر ان ممالک سے درآمد ہونے والی اشیا پر 100 فیصد تک اضافی ٹیرف عائد کر سکیں گے۔اس بل کے اہم حامیوں میں ریپبلکن پارٹی کے معروف سینیٹر اور یوکرین کے مضبوط حامی مرحوم لنڈسے گراہم بھی شامل تھے۔ ا

امریکی آئین کی 14ویں ترمیم 1868 میں نافذ ہوئی تھی۔ اس کے تحت امریکہ میں پیدا ہونے والے یا وہاں کی شہریت حاصل کرنے والے اور امریکی قوانین کے تابع تمام افراد کو امریکہ اور اس ریاست کا شہری قرار دیا گیا ہے جہاں وہ رہتے ہیں۔ پیدائشی شہریت کے معاملے میں اسی آئینی شق کو بنیادی قانونی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا فوجی ہیلی کاپٹر ’میرین ون‘ واشنگٹن نیشنل ایئرپورٹ کے قریب ایک کمرشل مسافر طیارے کے انتہائی قریب آ گیا۔ اس واقعے کو فضائی اصطلاح میں ’لاس آف سیپریشن‘ (طیاروں کے درمیان محفوظ فاصلے میں کمی) قرار دیا جا رہا ہے۔ اس واقعے کے بعد امریکی نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ (NTSB) نے معاملے کی باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

لاس اینجلس میں واقع ٹرمپ نیشنل گولف کورس کے باہر ایک مشتبہ شخص کو اسلحے سمیت گرفتار کیا گیا ہے۔ فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) اور امریکی سیکریٹ سروس اس بات کی مشترکہ تحقیقات کر رہی ہیں کہ آیا یہ واقعہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر حملے کی کسی مبینہ سازش کا حصہ تھا یا نہیں۔

ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کو نئے انداز میں منظم کرنے کے لیے عمان کے ساتھ مذاکرات شروع کر دیے ہیں۔ تہران کے مطابق مقصد یہ ہے کہ اس اہم آبی گذرگاہ میں موجود مختلف بحری راستوں کی جگہ ایک مشترکہ دوطرفہ راہداری قائم کی جائے تاکہ جہازوں کی نقل و حرکت زیادہ محفوظ اور منظم ہو سکے۔

صدر ٹرمپ نے ایرانی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر لکھا کہ ایرانی قیادت دوہرا رویہ اختیار کر رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملاقات کی درخواست کرنے کے باوجود ایران عوامی سطح پر مذاکرات سے انکار کر رہا ہے۔اسماعیل بقائی نے مزید بتایا کہ ایران اس معاملے پر سلطنتِ عمان کے ساتھ مشاورت کر رہا ہے۔

خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق، مقدمے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت ٹرمپ دور کی وسیع ٹیرف پالیسی کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے، حالانکہ اس سے قبل وفاقی عدالتیں مختلف قانونی بنیادوں پر اس پالیسی کے دو سابقہ ورژن مسترد کر چکی ہیں۔ ریاستوں کا الزام ہے کہ وفاقی حکام نے 1974 کے ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 301 اور جبری مشقت سے متعلق خدشات کو محض جواز بنا کر تقریباً وہی عالمی ٹیرف دوبارہ نافذ کیے،