Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

اردن کی فوج نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کے 10 میزائل فضا ہی میں تباہ کر دیے اور ملک میں کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔طاسی دوران ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے اطلاع دی کہ جنوبی بندرگاہی شہروں بندر عباس اور بندر لنگہ میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمزکے کنٹرول پر تنازعہ بتدریج بڑھتا جا رہا ہے۔ امریکہ نے ایرانی فوجی اڈوں، نگرانی کے مراکز، زیرزمین ہتھیاروں کے ڈپو اور سمندری انفراسٹرکچر پر بڑے حملے کئے ہیں۔

ادھر وائٹ ہاؤس سے قوم سے اپنے ٹیلی ویژن خطاب میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ انتخابی سلامتی سے متعلق خفیہ انٹیلی جنس دستاویزات کو فوری طور پر عوام کے لیے جاری کیا جا رہا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ان دستاویزات سے امریکی انتخابی نظام میں موجود حیران کن خامیاں بے نقاب ہوئی ہیں اور یہ بھی سامنے آیا ہے کہ چین نے برسوں تک امریکی سیاست پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔

خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق محسن رضائی نے کہا کہ ایران نے اب تک تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنگ کو وسیع علاقائی یا بین الاقوامی بحران میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کی ہے، لیکن امریکہ نے صورت حال کا غلط اندازہ لگاتے ہوئے کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین پر 22 کروڑ ووٹروں کا ڈیٹا چوری کرنے اور امریکی خفیہ اداروں (ڈیپ اسٹیٹ) پر اس حقیقت کو چھپانے کا سنسنی خیز الزام عائد کیا ہے۔ تاہم نیویارک ٹائمز (NYT) کی ایک رپورٹ میں ان دعوؤں کے پس منظر اور ان سے متعلق حقائق پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ جانیے اس معاملے کی مکمل اندرونی کہانی۔

ایران کا کہنا ہے کہ ان شرائط کی تکمیل تک کسی بھی بحری جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ آبی راستہ دنیا میں تیل کی ترسیل کے اہم ترین راستوں میں شمار ہوتا ہے، اس لیے اس کی بندش نے عالمی توانائی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔

امریکہ اور ایران نے حالیہ دنوں میں ایک دوسرے کے خلاف جارحانہ اقدامات میں اضافہ کیا ہے۔ امریکہ نے ایران کے کئی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے اور انہیں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جب کہ ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی نے پورے مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام اور خدشات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپانہوں نے امریکہ کو "آبنائے ہرمز کا محافظ" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اہم بحری راستہ امریکی نگرانی میں دنیا کے تمام ممالک کے لیے کھلا رہے گا، قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایران سے تعلق رکھنے والے جہازوں اور ایرانی یوزر کو اس راستے کے استعمال کی اجازت نہیں ہوگی۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ طے شدہ مفاہمتی یادداشت اب ’’بحران کے مرحلے‘‘ میں داخل ہو چکی ہے۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق بقائی نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے معاہدے کو تقریباً فوری طور پر سبوتاژ کر دیا اور ایران کو آبنائے ہرمز سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے دی گئی ایک ماہ کی مہلت بھی مکمل نہیں ہونے دی۔

آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال کے بعد جانشین مجتبیٰ خامنہ ای کے پہلے عوامی خطاب کے ساتھ شائع ہونے والی فہرست نے نئی سفارتی کشیدگی کو جنم دے دیا ہے۔ ایرانی حکومت کی باضابطہ توثیق سامنے نہیں آئی ہے۔ فہرست میں کیراسٹارمر، ایمانوئل میکرون، جورجیا میلونی، فریڈرک مرز، مارکو روبیو، پیٹ ہیگستھ، بریڈ کوپر، مائیک ہکابی، ایال ضمیر اور گیدون سار شامل ہیں۔