Bharat Express DD Free Dish

Tariff on Russian-Oil: ’’صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیراعظم مودی روسی تیل پر سو فیصد ٹیرف کا مسئلہ مل کر کریں گے حل‘‘ روسی تیل کی تجارت پر امریکی عہدیدار کا بیان

ناوارو کے تازہ بیان سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ممکنہ 100 فیصد ٹیرف کے معاملے پر بھارت اور امریکہ کے درمیان مذاکرات اور اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ اور وزیراعظم مودی کے درمیان براہ راست بات چیت کے ذریعے اس مسئلے کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔

واشنگٹن: امریکی تجارت و مینوفیکچرنگ کے سینئر مشیر پیٹر ناوارو نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان ’’بہت اچھے ورکنگ ریلیشن شپ‘‘ ہیں اور دونوں رہنما روسی تیل سے متعلق 100 فیصد ٹیرف کے معاملے کو آپس میں حل کر لیں گے۔ اے این آئی کے ایک سوال کے جواب میں ناوارو نے کہا کہ روس-یوکرین جنگ کے دوران بھارت نے روس سے تیل کی خریداری میں نمایاں اضافہ کیا اور روسی تیل سے تیار شدہ مصنوعات کی فروخت میں بھی کردار ادا کیا، جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس سے روس کی جنگی مشین کو مدد ملی۔ ناوارو نے دعویٰ کیا کہ یہ مسئلہ اب حل ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً چھ سے آٹھ ماہ قبل انہوں نے اس معاملے پر فنانشل ٹائمز میں ایک مضمون بھی لکھا تھا۔

بھارتی صارفین کے ردعمل کا بھی ذکر

ناوارو نے اپنے مضمون کے بعد انٹرنیٹ پر بھارتی صارفین کی جانب سے شدید ردعمل کا ذکر بھی کیا۔ انہوں نے کہا، ’’میں بھارتی برصغیر کی جانب سے انٹرنیٹ پر شدید تنقید کا نشانہ بنا۔ میں صرف اتنا کہوں گا کہ ایسا نہ کریں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ امریکا میں مسائل اس طرح حل نہیں کیے جاتے اور روسی تیل سے متعلق معاملے پر دونوں ممالک کے اعلیٰ ترین رہنما ہی بات چیت کریں گے۔

100 فیصد تک ٹیرف کی راہ ہموار

اس سے قبل 7 اگست کو امریکی سینیٹ نے ایک دو طرفہ بل منظور کیا تھا، جس کے تحت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ان ممالک کی مصنوعات پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کا اختیار مل سکتا ہے جو روس سے تیل اور گیس کی درآمد جاری رکھتے ہیں۔ اس میں بھارت اور چین بھی شامل ہیں۔ لنڈسی او گراہم سینکشننگ رشیا اینڈ ایران ایکٹ 2026 کو سینیٹ نے 86 کے مقابلے میں 11 ووٹوں سے منظور کیا۔ اس قانون سازی کا مقصد روس اور ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانا اور ماسکو کے ساتھ بڑے پیمانے پر توانائی کی تجارت کرنے والے ممالک کو نشانہ بنانا ہے۔

بھارت روسی خام تیل کے بڑے خریداروں میں

مجوزہ قانون کے تحت امریکی صدر کو روسی خام تیل یا قدرتی گیس کے پانچ بڑے خریدار ممالک کی درآمدات پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کا صوابدیدی اختیار حاصل ہوگا۔ بھارت روسی خام تیل کے بڑے خریداروں میں شامل ہے، جبکہ چین بھی ان اہم خریداروں میں شمار ہوتا ہے۔ بھارت نے 2022 میں روس اور یوکرین کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد رعایتی روسی خام تیل کی خریداری میں نمایاں اضافہ کیا تھا۔ اس کا مقصد عالمی منڈی میں اتھل پتھل کے دوران ملک کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنا اور گھریلو سطح پر ایندھن کی مسلسل فراہمی یقینی بنانا تھا۔ ناوارو کے تازہ بیان سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ممکنہ 100 فیصد ٹیرف کے معاملے پر بھارت اور امریکہ کے درمیان مذاکرات اور اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ اور وزیراعظم مودی کے درمیان براہ راست بات چیت کے ذریعے اس مسئلے کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read