Bharat Express DD Free Dish

india russia relations

دونوں لیڈروں کی یہ ملاقات بھارت اور روس کے باہمی تعلقات کے حوالے سے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔ پوتن کے دورہ بھارت کی تصدیق کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس بھارت کو اپنا اسٹریٹجک شراکت دار مانتا ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات ماسکو کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

روسی صدر کے دہلی پہنچنے سے قبل کریملن کے ترجمان اور صدر پوتن کے پریس سیکریٹری دمتری پیسکوف نے منگل کو میڈیا سے ورچوئل گفتگو کی۔ ان کے بیان میں ہندوستان اور روس کے قریبی تعلقات کے ساتھ بدلتی عالمی صورتحال کی بھی جھلک نظر آئی۔ پیسکوف نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی رابطے انتہائی اہم ہوں گے، خاص طور پر وزیراعظم مودی کے ساتھ ملاقات۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ تمام مسائل کا جلد از جلد پرامن حل وقت کی اہم ضرورت ہے اور یہی ہندوستان کا پیغام بھی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’تمام مسائل کا جلد از جلد پرامن حل انسانیت کی پکار ہے اور یہی ہندوستان کا پیغام ہے۔ گاندھی کی سرزمین اور بدھ کی سرزمین ایک ہی پیغام دیتی ہیں، اور وہ ہے امن کا راستہ۔ آج میں آپ کے ساتھ ان معاملات پر بات چیت کا منتظر ہوں۔‘‘

ولادیمیر پوتن نے پیر کو بھارت اور روس کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے میں وزیر اعظم نریندر مودی کی ذاتی توجہ اور قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ’خصوصی اور مراعات یافتہ اسٹریٹجک شراکت داری‘ مسلسل مستحکم ہو رہی ہے۔

بھارت آج 15 اگست 2026 کو اپنی آزادی کی 80ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ اس موقع پر ملک بھر میں یومِ آزادی کی تقریبات جوش و خروش کے ساتھ منعقد کی جارہی ہیں۔ دوسری جانب دنیا کے کئی ممالک کے سربراہان اور اہم لیڈروں نے بھی بھارت کو یومِ آزادی کی مبارکباد پیش کی اور ملک کی ترقی و کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

ناوارو کے تازہ بیان سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ممکنہ 100 فیصد ٹیرف کے معاملے پر بھارت اور امریکہ کے درمیان مذاکرات اور اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ اور وزیراعظم مودی کے درمیان براہ راست بات چیت کے ذریعے اس مسئلے کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔

روسی خلائی مسافروں نے بھارت اور روس کے درمیان خلائی تعاون کی طویل تاریخ کا بھی ذکر کیا۔ دونوں ممالک کے درمیان خلائی تعاون کا آغاز 1975 میں سوویت یونین کی جانب سے بھارت کے پہلے سیٹلائٹ ’آریہ بھٹ‘ کی لانچنگ کے ساتھ ہوا تھا۔ تقریباً ایک دہائی بعد 1984 میں راکیش شرما سوویت خلائی جہاز ’سویوز ٹی-11‘ کے ذریعے خلا میں جانے والے پہلے بھارتی بنے۔ اس تاریخی کامیابی نے دونوں ممالک کے خلائی تعلقات کو مزید مضبوط کیا۔

نئی دہلی میں جمعرات کے روز ایک اہم سفارتی ملاقات اس وقت دیکھنے میں آئی جب روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب روسی وزیر خارجہ دو روزہ برکس وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت کے دورے پر موجود ہیں۔

بھارت میں روس کے فوجی، جنگی جہاز اور فوجی طیارے تعینات کیے جائیں گے۔ یہ نیا معاہدہ اب نافذ ہو چکا ہے۔ نئی فوجی ڈیل کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے کے ملک میں ایک وقت میں 3000 فوجی، 10 فوجی طیارے اور 5 جنگی بحری جہاز تعینات کر سکتے ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کے درمیان بھارت کے لیے ایک اہم اور مثبت خبر سامنے آئی ہے۔ روس نے اعلان کیا ہے کہ وہ بھارت اور چین کو تیل کی فراہمی بڑھانے کے لیے تیار ہے، تاکہ خطے میں جاری بحران کے دوران سپلائی میں ممکنہ خلل کا ازالہ کیا جا سکے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔