Urdu Conclave 2026

US- India Relations

ناوارو کے تازہ بیان سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ممکنہ 100 فیصد ٹیرف کے معاملے پر بھارت اور امریکہ کے درمیان مذاکرات اور اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ اور وزیراعظم مودی کے درمیان براہ راست بات چیت کے ذریعے اس مسئلے کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔

ارون اگروال نے کہا کہ اب دنیا بھارت کو صرف امکانات کے حامل ملک کے طور پر نہیں دیکھتی بلکہ ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھتی ہے جو اپنے امکانات کو حقیقت میں بدل رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی بات چیت جاری ہے اور اس میں کوئی تعطل نہیں آیا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ جاری مذاکرات دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے اور باہمی مفاد پر مبنی معاہدے کی راہ ہموار کریں گے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’’اگر بھارت نے روسی تیل کی خریداری جاری رکھی تو اسے بھاری قیمت چکانی ہوگی‘‘۔ بھارت نے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اپنے شہریوں کے مفاد میں سستا تیل خرید رہے ہیں، کسی ملک کو اعتراض کا حق نہیں ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ روس کے ساتھ بھارت کی تیل کی تجارت سے خوش نہیں تھا کیونکہ اس سے ماسکو کو یوکرین جنگ جاری رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’روس نے اب تک تقریباً پندرہ لاکھ افراد کھوئے ہیں، جن میں زیادہ تر فوجی شامل ہیں۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے جو کبھی شروع ہی نہیں ہونی چاہیے تھی۔‘‘

روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں مغربی ممالک روس پر شدید پابندیاں لگا چکے ہیں لیکن ہندوستان نے اپنے معاشی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے روسی تیل کی خریداری جاری رکھی ہے، جس پر اب امریکہ کی طرف سے سخت رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔

کرٹ کیمبل نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ امریکہ اور ہندوستان کے درمیان جس چیز نے زیادہ سے زیادہ ترقی کی ہے وہ اعتماد اور اعتماد کی سطح ہے جو واضح طور پر ایک دہائی قبل موجود نہیں تھی۔