Bharat Express DD Free Dish

India US ties

ناوارو کے تازہ بیان سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ممکنہ 100 فیصد ٹیرف کے معاملے پر بھارت اور امریکہ کے درمیان مذاکرات اور اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ اور وزیراعظم مودی کے درمیان براہ راست بات چیت کے ذریعے اس مسئلے کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔

یہ خصوصی تقریب امریکہ کی آزادی کے اعلان کی 250ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد کی گئی تھی۔ پروگرام کے دوران جب ڈونلڈ ٹرمپ بڑی اسکرین پر نمودار ہوئے تو انہوں نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ”سرجیو، تمہیں ہمارے ملک کی نمائندگی کرنی ہوگی، لیکن میں سب کو ہیلو کہنا چاہتا ہوں۔ مجھے وزیر اعظم بہت پسند ہیں۔ مودی عظیم ہیں، وہ میرے دوست ہیں“۔

مصنوعی ذہانت کے عہد میں جہاں ڈیجیٹل معیشتیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں، وہیں سیمی کنڈکٹرز اور متعلقہ ٹیکنالوجیز کی رسد کا نظام عالمی سیاست اور معیشت دونوں کے لیے کلیدی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اسی تناظر میں ”پیکس سیلیکا“ نامی ایک ابھرتا ہوا بین الاقوامی فریم ورک سامنے آیا ہے، جو امریکہ کی قیادت میں قابلِ اعتماد ٹیکنالوجی اتحاد قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور جس میں ہندوستان ایک اہم شراکت دار کے طور پر ابھر رہا ہے۔

وکرم مصری اور ایف بی آئی ڈائریکٹر کاش پٹیل کی ملاقات سکیورٹی امور پر مرکوز رہی۔ بھارتی سفارت خانے کے مطابق دونوں رہنماؤں نے دہشت گردی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ سے نمٹنے میں بھارت-امریکہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر گفتگو کی۔

مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی سطح پر تعاون کو مضبوط بنانے کے مقصد سے بھارت اور امریکہ نے مشترکہ طور پر ’’یو ایس۔انڈیا اے آئی مواقع شراکت داری‘‘ کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ یہ اہم معاہدہ ’’پیکس سیلیکا اعلامیہ‘‘ کے تحت دوطرفہ ضمیمے کے طور پر طے پایا، جس کا مقصد ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں اسٹریٹجک تعاون کو فروغ دینا ہے۔

بھارت میں امریکہ کے نئے سفیر سرجیو گور نے اس ہفتے کے آغاز میں باضابطہ طور پر اپنی سفارتی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ ذمہ داریاں سنبھالتے ہی انہوں نے ممبئی کا دورہ کیا، جہاں ان کی ملاقات ریزرو بینک آف انڈیا کے گورنر سنجے ملہوترا سے ہوئی۔ اس ملاقات کو بھارت اور امریکہ کے درمیان اقتصادی اور مالی تعاون کے تناظر میں خاصی اہمیت دی جا رہی ہے۔

بھارت اور امریکہ کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدے پر بات چیت کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور اس حوالے سے اگلی باضابطہ ملاقات منگل کو ہونے جا رہی ہے۔ یہ بات بھارت میں حال ہی میں تعینات ہونے والے امریکی سفیر سرجیو گور نے پیر کے روز نئی دہلی میں کہی۔

امریکہ نے بھارت کے شانتی بل 2025 کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے درمیان انرجی تحفظ کے شعبے میں تعاون مضبوط بنانے اور پُرامن سول نیوکلیئر شراکت داری کو آگے بڑھانے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس قانون سے نہ صرف بھارت کے جوہری توانائی کے شعبے میں اصلاحات آئیں گی بلکہ بھارت۔امریکہ تعلقات کو بھی نئی مضبوطی ملے گی۔

ایک سینئر بھارت۔امریکہ پالیسی ماہر نے کہا ہے کہ دفاعی تعاون، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز آئندہ برسوں میں بھارت اور امریکہ کے تعلقات کے اگلے مرحلے کی بنیاد بن سکتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان بعض سیاسی اور تجارتی مسائل ابھی حل طلب ہیں، تاہم اس کے باوجود اسٹریٹجک شعبوں میں تعاون کی رفتار برقرار رکھنے کی مشترکہ خواہش واضح طور پر نظر آتی ہے۔

بھارت اور امریکہ کے درمیان مجوزہ دو طرفہ تجارتی معاہدے کو عملی شکل دینے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ اس سلسلے میں امریکی تجارتی حکام ایک بار پھر بھارت کا دورہ کر رہے ہیں، جہاں 10 سے 12 دسمبر تک تین روزہ مذاکرات ہوں گے۔