Bharat Express DD Free Dish

international trade

ناوارو کے تازہ بیان سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ممکنہ 100 فیصد ٹیرف کے معاملے پر بھارت اور امریکہ کے درمیان مذاکرات اور اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ اور وزیراعظم مودی کے درمیان براہ راست بات چیت کے ذریعے اس مسئلے کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔

برطانیہ، نیوزی لینڈ، ای ایف ٹی اے، متحدہ عرب امارات، آسٹریلیا، ماریشس اور عمان سمیت کئی ممالک کے ساتھ معاہدے۔ زرعی، مینوفیکچرنگ اور سیاحت کے شعبوں کو فائدہ پہنچنے کی امید۔ کسانوں، دھات تیار کرنے والوں اور صنعتوں کو عالمی منڈیوں تک براہِ راست رسائی۔

پیوش گوئل نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کے وژن کے مطابق بھارت برکس خاندان کے تمام رکن ممالک کے ساتھ اپنی شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت صرف مذاکرات تک محدود نہیں رہنا چاہتا بلکہ ان مباحث کو عملی نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے سرگرم ہے، تاکہ تمام رکن ممالک کی مشترکہ ترقی، خوشحالی اور صنعتی پیش رفت کو نئی رفتار مل سکے۔

کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ اس کارروائی کے لیے خطے میں 10 ہزار سے زائد امریکی بحریہ، میرینز اور فضائیہ کے اہلکار، دو طیارہ بردار بحری جہاز، 20 سے زیادہ جنگی بحری جہاز اور درجنوں فوجی طیارے تعینات کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ تمام فورسز اس وقت بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد کو یقینی بنا رہی ہیں۔

یہ پیش رفت اس ملاقات کے بعد سامنے آئی ہے جس میں گزشتہ جون امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے امریکی وفد کے ہمراہ بھارت کے مرکزی وزیرتجارت و صنعت پیوش گوئل سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں عبوری تجارتی معاہدے سے متعلق مذاکرات کو آگے بڑھانے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ منگل کے روز بین الاقوامی معیار کے برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً ایک فیصد بڑھ کر 105 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی ایک فیصد اضافے کے ساتھ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔ رپورٹ کے مطابق اپریل میں اوپیک کی خام تیل پیداوار بھی 8 لاکھ 30 ہزار بیرل یومیہ کم ہو کر 20.04 ملین بیرل یومیہ رہ گئی۔

ایرانی سفارت خانے نے مزید کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور دشمن قوتوں کی سرگرمیوں کے باعث آبنائے ہرمز کی صورتحال پہلے جیسی نہیں رہی۔ اسی لیے جہازوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ مقررہ بحری راستوں پر عمل کریں، جاری کردہ انتباہات پر توجہ دیں اور ایرانی حکام کے ساتھ مکمل رابطے میں رہیں۔

’’میں وزیراعظم سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ذاتی طور پر اس معاملے میں مداخلت کریں اور قومی سطح پر ایسے اقدامات کریں جن سے برآمدات کی مسابقت برقرار رہے اور لاکھوں لوگوں کی روزی روٹی محفوظ ہو۔‘‘