Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

اعداد و شمار کے مطابق بھارت اپنی ضرورت کا 85 فیصد سے زیادہ خام تیل درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی منڈی میں قیمتوں کا ہر اتار چڑھاؤ براہ راست بھارتی معیشت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ تیل مہنگا ہونے سے مہنگائی میں اضافہ، حکومتی مالی بوجھ، گھریلو بجٹ اور اقتصادی ترقی سب متاثر ہوتی ہے۔

ٹرمپ کے چین دورے کے بعد امریکی وفد نے تحائف اور فون ایئر فورس ون میں کیوں پھینک دیے؟ سائبر جاسوسی کا خوف یا کوئی اور وجہ؟

بیجنگ دورے کے دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات خاصی بحث میں رہی۔ شی جن پنگ نے امریکہ کو کمزور قرار دیتے ہوئے مغربی ممالک کے زوال کا ذکر کیا۔

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ جب بدھ کے روز چین کے لئے نکلے، تب انہوں نے ایران سے متعلق بیجنگ میں کوئی بات نہیں کرنے کا اعلان کیا، لیکن جیسے ہی بیجنگ پہنچے، انہوں نے شی جنپنگ سے مڈل ایسٹ میں امن سے متعلق تبادلہ خیال کیا۔ امریکہ کو پتہ ہے کہ شی جنپنگ کے بغیرایران جنگ ختم نہیں ہوسکتا ہے۔

دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ، یوکرین بحران اور جزیرہ نما کوریا سمیت کئی علاقائی اور عالمی امور پر بھی گفتگو کی۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک نے اس سال ہونے والے اے پیک اکنامک لیڈرز اجلاس اور جی-20 سربراہ اجلاس کی کامیاب میزبانی کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون پر بھی اتفاق کیا۔

چین کی نیوزایجنسی کے مطابق، بیجنگ میں ڈونلڈ ٹرمپ کا استقبال چین کے نائب صدرنے کیا۔ نائب صدرجھینگ کے ساتھ ہوائی اڈے پربیجنگ میں امریکی سفیرڈیوڈ پڈریو، امریکہ میں چین کے سفیرشی فینگ اور چین کے نائب وزیربرائے خارجہ امورما ژاؤسوبھی موجود رہے۔

ایران نے امریکہ کی جانب سے پیش کیے گئے 14 نکاتی منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے ایک نیا مسودہ تجویز واشنگٹن کو بھیج دیا ہے۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے نئے ڈرافٹ کو مکمل طور پر رد کر دیا۔ اس کے بعد بھارت میں ایرانی سفارت خانے نے امریکی صدر کے بیان پر سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے۔

امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں کشیدگی کی بڑی وجہ 11 ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملے بھی رہے ہیں۔ واشنگٹن کو شبہ تھا کہ القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن کو پاکستان میں پناہ دی گئی تھی، اگرچہ پاکستان مسلسل اس الزام کی تردید کرتا رہا۔

امریکہ نے حال ہی میں ایران سے خام تیل خریدنے کے معاملے پر کئی چینی ریفائنریوں پر بھی پابندیاں عائد کی تھیں، جس کے بعد چین نے اپنی کمپنیوں کو ان پابندیوں کو نہ ماننے کی ہدایت دی تھی۔ بیجنگ کی وزارت خارجہ نے بارہا کہا ہے کہ وہ یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتی ہے کیونکہ ان کی بین الاقوامی قانون میں کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے۔

امریکہ نے ایران کے ڈرون اورمیزائل پروگرام سے منسلک 10 افراد اورکمپنیوں پرپابندیاں عائد کردی ہیں۔ ان کمپنیوں میں چین، ہانگ کانگ، دبئی اوربیلاروس کی کمپنیاں شامل ہیں۔ یہ اقدام ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ چین سے قبل سامنے آیا ہے۔ امریکہ کا الزام ہے کہ یہ کمپنیاں ایران کو ہتھیار اور فوجی سازوسامان فراہم کررہی تھیں۔