Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

کانگریس کے لیڈر وجے وڈیٹیوار نے ڈونلڈ ٹرمپ پر ہونے والے حملے، پنجاب میں آپریشن لوٹس اور باگیشور دھام کی جانب سے شیواجی مہاراج کے بارے میں دیے گئے بیان پر سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے ادھو ٹھاکرے اور ایکناتھ شندے کی مبینہ خفیہ ملاقات پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے اسے سیاسی طور پر اہم قرار دیا۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے فیصلہ کریں گے کہ تقریب دوبارہ شروع کی جائے یا نہیں۔ انہوں نے سیکریٹ سروس اور دیگر اداروں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی فوری اور بہادرانہ کارروائی نے ایک بڑے سانحے کو ٹال دیا۔

امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں اس وقت افرا تفری مچ گئی جب وائٹ ہاؤس کوریسپونڈنٹس ڈنر کے دوران فائرنگ کی آواز سنائی دی۔ یہ تقریب واشنگٹن ہلٹن ہوٹل میں منعقد کی گئی تھی، جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ان کی اہلیہ اور کئی اعلیٰ حکام موجود تھے۔

تقریب میں موجود عینی شاہد ایرن تھل مین نے بتایا کہ انہوں نے ایک شخص کو زمین پر گرتے دیکھا، جس کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے اس پر فائرنگ کی۔ اس شخص کے کندھے پر میگزین لٹکا ہوا تھا اور اس کے پاس رائفل موجود تھی۔

عینی شاہدین کے مطابق پانچ سے آٹھ گولیوں جیسی آوازیں سنائی دیں، جس کے بعد ہال میں افراتفری مچ گئی۔ سینکڑوں صحافیوں، سیاستدانوں اور مشہور شخصیات سے بھرے ہال کو فوراً خالی کرا لیا گیا۔ نیشنل گارڈ کو مقام پر تعینات کیا گیا اور علاقے کی سکیورٹی سخت کر دی گئی۔

مصر کی وزارت خارجہ کے مطابق، دونوں لیڈران نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مذاکرات کے دوسرے دور کے امکانات تلاش کیے جائیں تاکہ دونوں فریقوں کے درمیان پائیدار جنگ بندی، کشیدگی میں کمی اور جاری تنازع کے خاتمے کے لیے سازگار ماحول بنایا جا سکے۔

دوسری جانب وزیر توانائی کرس رائٹ نے قیمتوں میں اضافے کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے حکومتی موقف کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ قیمتیں بڑھی ہیں، لیکن یہ چار سال پہلے کے مقابلے میں اب بھی کم ہیں۔

سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ میلونی کا یہ پیغام صرف امریکہ تک محدود نہیں بلکہ یورپی یونین کے بعض حلقوں اور داخلی اپوزیشن کے لیے بھی ہے، جو ان کی پالیسیوں پر سوال اٹھاتے رہے ہیں۔

ٹرمپ کے اس بیان پر بھارت کی سیاسی جماعتوں نے بھی سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ کانگریس پارٹی نے اسے ملک کی توہین قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم مودی سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کو امریکہ کے سامنے اٹھائیں

ایران آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے کیونکہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ حملہ 19 اپریل کو امریکہ کی جانب سے ایک ایرانی جہاز کو پکڑنے کے ردعمل میں بھی ہو سکتا ہے۔