Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

آبنائے ہرمز اور خلیج فارس عالمی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہم خطہ ہیں، جہاں سے دنیا کے بڑے حصے کو تیل سپلائی کیا جاتا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی، خاص طور پر ایران کے جوہری پروگرام اور پابندیوں کے معاملے پر، اکثر اس علاقے میں تنازعات کا باعث بنتی رہی ہے۔

امریکہ نے آبنائے ہرمز میں یہ ناکہ بندی اس وقت نافذ کی جب 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بعد کوئی معاہدہ طے نہیں پا سکا۔

ایران اور امریکہ کے درمیان پیغامات کا تبادلہ پاکستان کے ذریعے ہو رہا ہے، قابل ذکر بات یہ ہے کہ  اب تک دونوں ممالک کے درمیان کسی ٹھوس نتیجے پر اتفاق نہیں ہو سکا۔ امریکہ کا مطالبہ ہے کہ ایران آئندہ بیس سال کے لیے اپنے جوہری پروگرام کو معطل کرے اور اپنے پاس موجود افزودہ یورینیم کا ذخیرہ حوالے کرے،

امریکہ میں وائٹ ہاؤس کورسپونڈنٹس ڈنر کے دوران فائرنگ کے ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جس کی شناخت ٹورنس، کیلیفورنیا کے ایک 31 سالہ استاد کے طور پر ہوئی ہے۔ اس نے حملے سے چند منٹ پہلے اپنے خاندان کو ایک ای میل بھیجی تھی، جسے ایک سینئر عہدیدار نے ’مینی فیسٹو‘ قرار دیا ہے۔ اس مینی فیسٹو میں اس نے لکھا تھا کہ وہ ٹرمپ حکومت کے ارکان کو نشانہ بنا رہا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کمپلیکس کے اندر ایک ہائی سکیورٹی بال روم بنانے کے اپنے مطالبے کو دوبارہ دہرایا ہے۔ انہوں نے 150 سال کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فائرنگ کے واقعے جیسے واقعات وائٹ ہاؤس جیسے اہم مرکز میں اس طرح کی سہولت کی ضرورت کو واضح کرتے ہیں۔

کانگریس کے لیڈر وجے وڈیٹیوار نے ڈونلڈ ٹرمپ پر ہونے والے حملے، پنجاب میں آپریشن لوٹس اور باگیشور دھام کی جانب سے شیواجی مہاراج کے بارے میں دیے گئے بیان پر سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے ادھو ٹھاکرے اور ایکناتھ شندے کی مبینہ خفیہ ملاقات پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے اسے سیاسی طور پر اہم قرار دیا۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے فیصلہ کریں گے کہ تقریب دوبارہ شروع کی جائے یا نہیں۔ انہوں نے سیکریٹ سروس اور دیگر اداروں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی فوری اور بہادرانہ کارروائی نے ایک بڑے سانحے کو ٹال دیا۔

امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں اس وقت افرا تفری مچ گئی جب وائٹ ہاؤس کوریسپونڈنٹس ڈنر کے دوران فائرنگ کی آواز سنائی دی۔ یہ تقریب واشنگٹن ہلٹن ہوٹل میں منعقد کی گئی تھی، جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ان کی اہلیہ اور کئی اعلیٰ حکام موجود تھے۔

تقریب میں موجود عینی شاہد ایرن تھل مین نے بتایا کہ انہوں نے ایک شخص کو زمین پر گرتے دیکھا، جس کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے اس پر فائرنگ کی۔ اس شخص کے کندھے پر میگزین لٹکا ہوا تھا اور اس کے پاس رائفل موجود تھی۔

عینی شاہدین کے مطابق پانچ سے آٹھ گولیوں جیسی آوازیں سنائی دیں، جس کے بعد ہال میں افراتفری مچ گئی۔ سینکڑوں صحافیوں، سیاستدانوں اور مشہور شخصیات سے بھرے ہال کو فوراً خالی کرا لیا گیا۔ نیشنل گارڈ کو مقام پر تعینات کیا گیا اور علاقے کی سکیورٹی سخت کر دی گئی۔