Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

لبنان پر حملے روکنے کا سخت حکم دینے کے ایک دن بعد ہی ڈونلڈ ٹرمپ کے تیور بدل گئے۔ انہوں نے اسرائیل کو امریکہ کا مضبوط اتحادی قرار دیتے ہوئے اس کی بھرپور تعریف کی۔ اس دوران جنگ بندی نافذ ہے، لیکن زمینی حالات اب بھی نازک ہیں اور خطے میں کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی ہے۔

۔فرانسیسی صدر میکرون نے کہا کہز آبنائے ہُرم کو فوری، غیر مشروط اور مکمل طور پر کھولا جانا چاہیے اور بین الاقوامی بحری قوانین کی مکمل پاسداری ضروری ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ اس معاملے پر آئندہ ہفتے لندن میں مزید اجلاس ہوگا۔

ایران نے آبنائے ہرمزپرسخت موقف اپنایا ہے۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ جب تک امریکی ناکہ بندی جاری رہے گی۔ آبنائے ہرمز کو مکمل طورپر دوبارہ نہیں کھولا جائے گا۔ ایران کی ملٹری کمانڈ نے کہا ہے کہ یہ اقدام امریکی اقدامات کے خلاف احتجاج میں کیا گیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے دنیا بھر میں آٹھ سے دس جنگیں ختم کروائیں اور خود کو ’پیس میکر‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان ممکنہ جنگ کو بھی انہوں نے ٹال دیا۔

جنگ بندی کی شرائط کے مطابق، ایران نے 40 دن کے بعد آبنائے ہرمزکومکمل طورپر کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کیا۔ عراقچی نے کہا، ہم اس راستے کوکھول رہے ہیں۔ ایرانی حکام راستے کا تعین کریں گے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے ”نیوکلیئر ڈسٹ“ یعنی افزودہ یورینیم فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ امریکی حکام کا ماننا ہے کہ یہ مواد ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہو سکتا ہے، جس کی وجہ سے عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی رہی ہے۔ ٹرمپ نے اس پیش رفت کو سفارتی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ اس سے خطے میں امن کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے Fox News کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران کی جنگ اختتام کے قریب ہے اور تہران معاہدہ کرنے کے لیے بے تاب ہے۔ اس دوران پاکستان میں جے ڈی وینس کی قیادت میں دوسری امن مذاکرات کی امکانات تیز ہو گئے ہیں۔

اس پیش رفت کو مغربی ایشیا کی بدلتی صورتحال میں اہم سفارتی رابطہ قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب آبنائے ہرمز کی سکیورٹی عالمی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ 13 اپریل کو پیش آیا جب چینی کارگو جہاز، جس پر بھاری مقدار میں میتھانول لدا ہوا تھا، آبنائے ہرمز سے گزر کر بحیرہ عمان میں داخل ہو گیا۔ حیران کن طور پر یہ وہی ٹینکر ہے جس پر امریکہ برسوں قبل پابندی عائد کر چکا تھا، اس کے باوجود یہ جہاز ایرانی حدود سے گزرتے ہوئے بغیر کسی رکاوٹ کے آگے بڑھ گیا۔

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ فوری طور پر امریکی بحریہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی جہاز کو روکنے کے اقدامات شروع کرے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قدم عالمی تجارت کے تحفظ اور غیر قانونی دباؤ کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے۔