امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے حالیہ دورۂ چین کے بعد ایک چونکا دینے والا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ سوشل میڈیا اور کئی رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ امریکی وفد نے چین کی جانب سے دیے گئے تمام تحائف، بیجز، فون اور دیگر سامان طیارے میں سوار ہونے سے پہلے ہی ڈسٹ بن میں پھینک دیے۔
امریکہ نے ایسا کیوں کیا؟
بتایا جا رہا ہے کہ یہ قدم سائبر نگرانی اور الیکٹرانک جاسوسی کے خدشے کے باعث اٹھایا گیا۔ امریکی سیکیورٹی ایجنسیوں نے واضح ہدایات دی تھیں کہ چین کی طرف سے ملا کوئی بھی سامان صدر کے طیارے میں نہیں لے جایا جائے گا۔
صحافی کا دعویٰ
ایک صحافی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ امریکی عملے نے چینی حکام کی جانب سے دیے گئے تمام سامان، جیسے کریڈینشلز، وفد کے پن اور عارضی فون جمع کیے اور ایئر فورس ون میں سوار ہونے سے پہلے سیڑھیوں کے نیچے رکھے ڈسٹ بن میں پھینک دیے۔
عارضی فون اور سیکیورٹی انتظامات
رپورٹس کے مطابق، دورۂ چین کے دوران امریکی نمائندوں کو اپنے ذاتی الیکٹرانک آلات استعمال کرنے سے روک دیا گیا تھا۔ انہیں عارضی “برنر فون” دیے گئے تاکہ کسی بھی قسم کی سائبر ٹریکنگ سے بچا جا سکے۔ اس کے علاوہ ذاتی فون اور گیجٹس کو خاص “فاراڈے بیگز” میں رکھا گیا، جو الیکٹرو میگنیٹک سگنلز کو بلاک کرتے ہیں اور ڈیٹا انٹرسیپشن روکنے میں مدد دیتے ہیں۔
سرکاری بیان کا انتظار
امریکی انتظامیہ کی جانب سے اس پورے معاملے پر ابھی تک کوئی سرکاری ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ اس واقعے نے امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے عدم اعتماد اور ٹیکنالوجی وار کو ایک بار پھر خبروں کی زینت بنا دیا ہے۔
امریکہ-چین کشیدگی
گزشتہ چند برسوں میں واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان سائبر سیکیورٹی، جاسوسی، چِپ ٹیکنالوجی اور ڈیٹا پروٹیکشن کے معاملات پر کشیدگی مسلسل بڑھتی رہی ہے۔ امریکہ کئی بار چین پر سائبر جاسوسی کے الزامات لگا چکا ہے، جبکہ چین ان الزامات کو مسترد کرتا آیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
