Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

امریکی صدرڈونلڈ ترمپ کا رخ کافی سخت نظرآرہا ہے۔ وہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ڈیل چاہے ہو یا نہ ہو، اس سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم پہلے ہی جیت چکے ہیں۔ واضح رہے کہ امریکہ اورایران کے درمیان پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والے اہم مذاکرات کسی نتیجے پرنہیں پہنچ سکی۔

اطلاعات کے مطابق ایرانی وفد جلد ہی شہباز شریف سے ملاقات کریں گے، جس میں مذاکرات کے ایجنڈے اور خطے کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس سے قبل ایرانی وفد کی ملاقات پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر سے بھی ہو چکی ہے، جس میں علاقائی سلامتی کے امور زیر بحث آئے۔

امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے، جب کہ ان کے ہمراہ سابق صدر  ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی ایلچی اسٹیو اور سینئر مشیر جیرڈ کشنربھی ہوں گے۔ اطلاعات کے مطابق دونوں وفود اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں ملاقات کریں گے جہاں اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان میں ہونے والی بات چیت کامیاب نہ ہوئی تو امریکہ فوجی کارروائی کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے جہازوں میں جدید ترین ہتھیار نصب کیے جا رہے ہیں اور ضرورت پڑنے پر ان کا مؤثر استعمال کیا جائے گا۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں کل ہونے والے امریکہ اورایران کے درمیان مذاکرات سے قبل کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ ایران نے کچھ شرائط رکھی ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ مذاکرات شروع ہونے سے پہلے امریکہ کو دوکام کرنے چاہئیں۔

پاکستان کے وزیردفاع کے ذریعہ اسرائیل کو’کینسر‘ قرار دینے کے بیان پر اسرائیل نے شدید اعتراض کیا ہے اوراس کے خاتمہ کا مطالبہ کیا ہے۔ اس بیان نے ایران اورامریکہ کے درمیان ثالث کے طور پرپاکستان کے کردارپرسوالات اٹھائے ہیں کیونکہ اسرائیل اسے یہود مخالف اور اپنے وجود پرحملہ قراردے رہا ہے۔

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی وزارت خارجہ نے ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب ایران اپنے حملوں کی مکمل ذمہ داری قبول کرے، نقصانات کی تلافی کرے اور سمندری سلامتی کو مکمل طور پر بحال کرے۔

امریکہ اورایران کے درمیان 14 دنوں کی جنگ بندی پربھلے ہی رضا مندی بن گئی ہو، لیکن مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ابھی بھی برقرارہے۔ اسی درمیان اسرائیل نے حزب اللہ سربراہ نعیم قاسم کے بھتیجے کو ہلاک کرنے کا بڑا دعویٰ کیا ہے۔

ریپبلکن کانگریس کے لیڈروں نے اس وقت  نیٹو کی اہمیت پر زور دیا۔ سینیٹ آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین راجر ویکر اور ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین مائیک راجرز نے کہا، "ایک مضبوط نیٹو امریکہ کے مفاد میں ہے۔

دوسری جانب ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل آف ایران نے بھی اپنے بیان میں واضح کیا کہ سیزفائر کو جنگ کے خاتمے سے تعبیر نہ کیا جائے۔ کونسل نے کہا کہ ایرانی افواج مکمل چوکس ہیں اور دشمن کی کسی بھی غلطی پر پوری طاقت سے جواب دیا جائے گا۔