Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے دنیا بھر میں آٹھ سے دس جنگیں ختم کروائیں اور خود کو ’پیس میکر‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان ممکنہ جنگ کو بھی انہوں نے ٹال دیا۔

جنگ بندی کی شرائط کے مطابق، ایران نے 40 دن کے بعد آبنائے ہرمزکومکمل طورپر کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کیا۔ عراقچی نے کہا، ہم اس راستے کوکھول رہے ہیں۔ ایرانی حکام راستے کا تعین کریں گے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے ”نیوکلیئر ڈسٹ“ یعنی افزودہ یورینیم فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ امریکی حکام کا ماننا ہے کہ یہ مواد ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہو سکتا ہے، جس کی وجہ سے عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی رہی ہے۔ ٹرمپ نے اس پیش رفت کو سفارتی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ اس سے خطے میں امن کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے Fox News کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران کی جنگ اختتام کے قریب ہے اور تہران معاہدہ کرنے کے لیے بے تاب ہے۔ اس دوران پاکستان میں جے ڈی وینس کی قیادت میں دوسری امن مذاکرات کی امکانات تیز ہو گئے ہیں۔

اس پیش رفت کو مغربی ایشیا کی بدلتی صورتحال میں اہم سفارتی رابطہ قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب آبنائے ہرمز کی سکیورٹی عالمی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ 13 اپریل کو پیش آیا جب چینی کارگو جہاز، جس پر بھاری مقدار میں میتھانول لدا ہوا تھا، آبنائے ہرمز سے گزر کر بحیرہ عمان میں داخل ہو گیا۔ حیران کن طور پر یہ وہی ٹینکر ہے جس پر امریکہ برسوں قبل پابندی عائد کر چکا تھا، اس کے باوجود یہ جہاز ایرانی حدود سے گزرتے ہوئے بغیر کسی رکاوٹ کے آگے بڑھ گیا۔

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ فوری طور پر امریکی بحریہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی جہاز کو روکنے کے اقدامات شروع کرے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قدم عالمی تجارت کے تحفظ اور غیر قانونی دباؤ کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے۔

امریکی صدرڈونلڈ ترمپ کا رخ کافی سخت نظرآرہا ہے۔ وہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ڈیل چاہے ہو یا نہ ہو، اس سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم پہلے ہی جیت چکے ہیں۔ واضح رہے کہ امریکہ اورایران کے درمیان پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والے اہم مذاکرات کسی نتیجے پرنہیں پہنچ سکی۔

اطلاعات کے مطابق ایرانی وفد جلد ہی شہباز شریف سے ملاقات کریں گے، جس میں مذاکرات کے ایجنڈے اور خطے کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس سے قبل ایرانی وفد کی ملاقات پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر سے بھی ہو چکی ہے، جس میں علاقائی سلامتی کے امور زیر بحث آئے۔

امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے، جب کہ ان کے ہمراہ سابق صدر  ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی ایلچی اسٹیو اور سینئر مشیر جیرڈ کشنربھی ہوں گے۔ اطلاعات کے مطابق دونوں وفود اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں ملاقات کریں گے جہاں اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔