Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ لاپتہ امریکی اہلکار کو محفوظ طریقے سے نکال لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوج نے تاریخ کے سب سے جرات مندانہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز میں سے ایک انجام دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے انہیں بچا لیا۔ گزشتہ چند گھنٹوں میں امریکی فوج نے انتہائی جرات مندانہ کارروائی کی۔

ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کی بحریہ نے دعویٰ کیا کہ اس نے ڈرون کے ذریعے اسرائیل سے منسلک ایک جہاز کو نشانہ بنایا، جس کے بعد اس میں آگ لگ گئی۔ آئی آر جی سی کے سرکاری میڈیا پلیٹ فارم سپاہ نیوز کے مطابق یہ حملہ بحرین کی ایک بندرگاہ میں اسرائیلی ملکیت کے تجارتی جہاز پر کیا گیا۔

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کوخبردارکیا ہے کہ وہ 48 گھنٹوں کے اندر معاہدے پرپہنچ جائے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدہ نہ ہوا توحالات مزید خراب ہوں گے۔ ٹرمپ نے پہلے ہی ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 10 دن کا وقت دیا ہے۔

امریکی حکام نے بتایا کہ یہ کارروائی ایران کی فوجی صلاحیت کو کمزور کرنے کی ایک بڑی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اس کا مقصد ملک کے اندر میزائل اور ڈرون سے متعلق سامان کی نقل و حرکت کو روکنا تھا۔

ٹرمپ نے کہا کہ جنگ تقریباً جیت لی گئی ہے اور امریکہ دنیا کو ایران کے ’خطرے‘ سے آزاد کرنے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم امریکہ اور دنیا کے لیے ایران کے خطرناک خطرے کو ختم کرنے کے دہانے پر ہیں۔

ایران کے توانائی مراکز پر ممکنہ بڑے حملے کی دھمکی پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے پر حملہ دراصل ایرانی عوام کو نشانہ بنانا ہوگا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس طرح کے اقدامات’جنگی جرائم‘ کے زمرے میں آئیں گے اور ان کے اثرات ایران کی سرحدوں سے باہر بھی محسوس کیے جائیں گے۔

ٹرمپ نے آپریشن مڈنائٹ ہیمر اور پہلے کیے گئے امریکی حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی جوہری تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ایران نے کہیں اور پروگرام دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن اسے بھی ناکام بنا دیا گیا۔

کیئر اسٹارمر نے اعلان کیا کہ برطانیہ اس ہفتے تقریباً 35 ممالک کے ساتھ ایک عالمی اجلاس کی میزبانی کرے گا، جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور عالمی تجارت کو معمول پر لانے کے طریقوں پر غور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سمندری راستہ عالمی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور اس کی بندش سے دنیا بھر میں توانائی اور تجارتی نظام متاثر ہو رہا ہے۔

ایران نے امریکی صدر کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق ایرانی حکام نے کہا ہے کہ تہران نے کسی بھی سطح پر جنگ بندی کی درخواست نہیں کی۔ ایرانی حکام کے مطابق امریکہ کے یہ بیانات سیاسی دباؤ بڑھانے کی کوشش ہیں۔

محمد صفا نے اپنے پیغام کے ساتھ تہران کی ایک تصویر بھی شیئر کی، جس میں انہوں نے ایٹمی حملے کے ممکنہ نتائج پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے لکھا کہ تہران کوئی خالی صحرا نہیں بلکہ ایک گنجان آباد شہر ہے جہاں لاکھوں خاندان رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کی بات کرنے والے اکثر اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ ایسے حملوں سے عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔